data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

واشنگٹن: امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیته نے ایران پر امریکی حملے کے بعد میڈیا کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ میڈیا کی توجہ ایران کی جوہری تنصیبات پر “تاریخی کامیاب حملے” کو اجاگر کرنے کے بجائے صدر ٹرمپ کے خلاف پروپیگنڈے پر مرکوز رہی۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےامریکی وزیردفاع نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے تاریخ کی سب سے پیچیدہ اور خفیہ فوجی کارروائی کی قیادت کی، جس کا نتیجہ ایک فیصلہ کن کامیابی اور 12 روزہ جنگ کے خاتمے کی صورت میں نکلا۔

انہوں نے دفاعی خفیہ ادارے (DIA) کی ابتدائی رپورٹ کے افشاء پر بھی شدید ناراضی ظاہر کی جو کچھ میڈیا اداروں بشمول NPR کو فراہم کی گئی تھی، حملے سے ایران کے جوہری پروگرام کو صرف چند ماہ کے لیے پیچھے دھکیلا جا سکا ہے۔

وزیر دفاع نے کہا کہ یہ رپورٹ “ابتدائی اور کم اعتماد والی” تھی اور اس میں مزید تجزیے کی گنجائش موجود ہے۔

ہیگسیته نے مختلف امریکی میڈیا اداروں کا نام لے کر ان پر “غیر ذمہ دارانہ رپورٹنگ” کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا صدر ٹرمپ کی مخالفت میں اس قدر آگے بڑھ چکا ہے کہ وہ قومی سلامتی کی کامیابیوں کو بھی کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام “مکمل طور پر تباہ” کر دیا گیا ہے حالانکہ اس دعوے کے لیے انہوں نے کوئی واضح ثبوت پیش نہیں کیا جبکہ وزیر دفاع اور دیگر اعلیٰ حکام نے صدر کے مؤقف کی حمایت کی ہے۔

خیال رہےکہ  سی آئی اے ڈائریکٹر جان ریٹکلف کے مطابق ایران کا جوہری پروگرام “شدید نقصان” سے دوچار ہوا ہے اور اس کی بحالی میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔

یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ایران نے یہ یورینیم حملے سے قبل کسی محفوظ یا خفیہ مقام پر منتقل کیا تھا یا نہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل

تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے بحری جہازوں کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کا ازالہ ایرانی اثاثوں سے کرنے کی بات کی تھی۔ ایران نے اس مؤقف کو بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک خطرناک اور اشتعال انگیز نظیر قرار دیا ہے۔

عباس عراقچی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی ملک کے اثاثوں کو مستقبل کے غیر متعلقہ دعووں کی بنیاد پر ضبط کرنا ایک ایسا اقدام ہے جو عالمی مالیاتی نظام اور بین الاقوامی قوانین کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے اثاثے مستقبل کے غیر متعلقہ نقصانات کی ادائیگی کے لیے ضبط کرنا ایک اشتعال انگیز نظیر ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جو ممالک یا ادارے اس طرح کے ضبط شدہ اثاثوں سے فائدہ اٹھانے یا اس اقدام کی حمایت کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر حکومتیں اس طرز عمل کو معمول بنا لیں تو پھر دنیا میں کسی بھی ملک کے اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔

عباس عراقچی کے مطابق اس طرح کے اقدامات عالمی مالیاتی نظام میں بے یقینی، افراتفری اور قانونی تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں، جن کے نتائج نہ صرف غیر خوشگوار بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گے۔

ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔

Seizing another nation's assets to pay for unrelated future claims is an incendiary precedent.

Those who celebrate or profit from such funds should remember: once governments normalize confiscation, no one's assets are safe. Ensuing chaos will not be pretty or peaceful.

— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) July 24, 2026

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اثاثوں کی ضبطی جیسے اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس سے عالمی سرمایہ کاری، بین الاقوامی تجارت اور ممالک کے درمیان مالیاتی اعتماد پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف، یکطرفہ طاقت کے استعمال پر سخت تنقید کردی
  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی