data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

لاہور (کامرس ڈٰیسک) پاکستان بزنس فورم کے وفد نے گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر سے پنجاب ہاؤس میں ملاقات کی، جس کا مقصد صوبے سے متعلق اہم معاشی اور کاروباری ترقی کے امور پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔ وفد میں پی بی ایف کے چیف آرگنائزر چوہدری احمد جواد، چیئرمین نارتھ پنجاب طارق محمود جدون، صدر لاہور ساجد میر، ایڈیشنل سیکرٹری جنرل سنٹرل پنجاب حسن رضا، نائب صدور لاہور علی رضا اور وقار خان، اور گورنر کے سیاسی مشیر عمر سلیم شامل تھے۔ملاقات کے دوران کاروباری برادری اور صوبائی حکومت کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے، سرمایہ کاری کے فروغ، کاروباری ماحول کی بہتری، اور پنجاب میں جاری اقتصادی اصلاحات کی حمایت جیسے اہم نکات پر گفتگو کی گئی۔ گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر نے معیشت کی ترقی میں نجی شعبے کے کردار کو سراہا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت ایسی پالیسیاں اپنائے گی جو صوبے میں پائیدار کاروباری ترقی کو فروغ دیں۔انہوں نے سیاسی استحکام کو معاشی استحکام کے لیے ناگزیر قرار دیا اور ان تمام کاروباری افراد کو خراجِ تحسین پیش کیا جو تمام تر مشکلات کے باوجود ملک میں اپنے کاروبار جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔ صدر لاہور ساجد عزیر میر نے اس موقع پر کہا حالیہ برسوں میں پاکستان نے تجارت اور درآمدات کے شعبے میں جدیدیت کے نام پر کئی اصلاحات متعارف کروائی ہیں، جن میں دسمبر 2024 میں نافذ کیا گیا “فیس لس کسٹمز اسیسمنٹ سسٹم” قابل ذکر ہے۔ اس نظام کا مقصد کرپشن کا خاتمہ، شفافیت میں اضافہ، اور کلیئرنس کا عمل تیز کرنا تھا، لیکن عملی طور پر اس نے درآمد کنندگان کے لیے سنگین مسائل پیدا کیے ہیں اور ملک کی معیشت، تجارت اور سرمایہ کاری کو نقصان پہنچایا ہے۔ اس سسٹم میں درآمد کنندگان اور کسٹمز اہلکاروں کے درمیان براہ راست رابطہ ختم کر دیا گیا ہے، اور آن لائن پلیٹ فارم کے ذریعے ویلیوایشن اور دستاویزات کی جانچ ہوتی ہے، جس سے بدعنوانی میں کمی تو آئی نہیں، بلکہ کلیئرنس میں غیر ضروری تاخیر، غیر منصفانہ ویلیوایشن، اپیل کے مؤثر نظام کی عدم موجودگی ضروری ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔

صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔

حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔

ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔

پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔

حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟

مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف

ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • صرف مسلم لیگ (ن) ہی گلگت بلتستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے، ثروت صباء
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی