فیس لس سسٹم سے نہ صرف ریونیو کلیکشن میں کمی آئی ہے،ایف بی آر
اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور (کامرس ڈٰیسک) پاکستان بزنس فورم کے وفد نے گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر سے پنجاب ہاؤس میں ملاقات کی، جس کا مقصد صوبے سے متعلق اہم معاشی اور کاروباری ترقی کے امور پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔ وفد میں پی بی ایف کے چیف آرگنائزر چوہدری احمد جواد، چیئرمین نارتھ پنجاب طارق محمود جدون، صدر لاہور ساجد میر، ایڈیشنل سیکرٹری جنرل سنٹرل پنجاب حسن رضا، نائب صدور لاہور علی رضا اور وقار خان، اور گورنر کے سیاسی مشیر عمر سلیم شامل تھے۔ملاقات کے دوران کاروباری برادری اور صوبائی حکومت کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے، سرمایہ کاری کے فروغ، کاروباری ماحول کی بہتری، اور پنجاب میں جاری اقتصادی اصلاحات کی حمایت جیسے اہم نکات پر گفتگو کی گئی۔ گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر نے معیشت کی ترقی میں نجی شعبے کے کردار کو سراہا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت ایسی پالیسیاں اپنائے گی جو صوبے میں پائیدار کاروباری ترقی کو فروغ دیں۔انہوں نے سیاسی استحکام کو معاشی استحکام کے لیے ناگزیر قرار دیا اور ان تمام کاروباری افراد کو خراجِ تحسین پیش کیا جو تمام تر مشکلات کے باوجود ملک میں اپنے کاروبار جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔ صدر لاہور ساجد عزیر میر نے اس موقع پر کہا حالیہ برسوں میں پاکستان نے تجارت اور درآمدات کے شعبے میں جدیدیت کے نام پر کئی اصلاحات متعارف کروائی ہیں، جن میں دسمبر 2024 میں نافذ کیا گیا “فیس لس کسٹمز اسیسمنٹ سسٹم” قابل ذکر ہے۔ اس نظام کا مقصد کرپشن کا خاتمہ، شفافیت میں اضافہ، اور کلیئرنس کا عمل تیز کرنا تھا، لیکن عملی طور پر اس نے درآمد کنندگان کے لیے سنگین مسائل پیدا کیے ہیں اور ملک کی معیشت، تجارت اور سرمایہ کاری کو نقصان پہنچایا ہے۔ اس سسٹم میں درآمد کنندگان اور کسٹمز اہلکاروں کے درمیان براہ راست رابطہ ختم کر دیا گیا ہے، اور آن لائن پلیٹ فارم کے ذریعے ویلیوایشن اور دستاویزات کی جانچ ہوتی ہے، جس سے بدعنوانی میں کمی تو آئی نہیں، بلکہ کلیئرنس میں غیر ضروری تاخیر، غیر منصفانہ ویلیوایشن، اپیل کے مؤثر نظام کی عدم موجودگی ضروری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا
فوٹو: آن لائنلاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا، ڈی ايچ اے اور ہربنس پورہ انڈر پاس پانی سے بھر گئے، ٹریفک کے لیے بند کردیے گئے۔
تاج پورہ اور ایئرپورٹ کے قریب علاقوں میں پانی گھروں میں داخل ہوگیا، گاڑیاں ڈوب گئیں، موٹرسائيکلیں بند ہوگئیں، فیروز پور روڈ پر موٹرسائیکل پھسل کر کھمبے سے جا ٹکرائی، جس کے نتیجے میں دو بھائی جاں بحق ہوگئے، چھت گرنے کے واقعات میں چار افراد زخمی ہوئے۔
بارش رکنے کے بعد ایم ڈی واسا نے تمام انڈر پاس کلیئر کر دینے کا دعویٰ کیا، بارش کے باعث 99 فیڈرز بھی متاثر ہوئے، بحالی کا کام جاری ہے، ڈیفنس میں بارش کے پانی میں ایک منچلا کشتی لے آیا۔
گوجرانوالا میں مسلسل تیسرے دن بھی بارش برسی، نکاسِ آب کے لیے لاہور سے مشینری طلب کرلی گئی، شکر گڑھ میں تیسرے روز بھی موسلادھار بارش ہوئی، نالہ بئیں اور بسنتر سے ملحقہ نشیبی دیہات میں پانی داخل ہوگیا۔
منڈی بہاء الدین میں بارش سے سیکڑوں ایکڑ پر کھڑی دھان اور چارے کی فصلیں تباہ ہونے کا خدشہ ہے۔
دوسری جانب دریائے چناب میں نچلے سے درمیانے درجے کا ریلا گزرنے کا خطرہ ہے، تریموں بیراج پر پانی کی سطح بلند ہونے لگی، سرگودھا میں طالب والا کے مقام پر اکتالیس دیہات متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔