داتا دربار سے اغوا 3 سالہ بچہ بازیاب، پولیس نے ملزم کو بھی گرفتار کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT
لاہور:
داتا دربار پولیس نے کامیابی کارروائی کے نتیجے میں 6 دن قبل اغوا ہونے والے 3 سالہ بچے کو بازیاب کروایا اور ملزم کو بھی گرفتار کرلیا۔
لاہور پولیس نے بتایا کہ بازیا ب ہونے والا 3 سالہ بچہ 6 دن قبل اپنی والدہ اور بھائیوں کے ساتھ داتا دربار سلام کی غرض سے آیا تھا اور والدہ بچوں کو داتا دربار کے سامنے پارک میں بیٹھا کر کھانا لینے گئی۔
ایس پی سٹی بلال احمد نے کہا کہ ملزم والدہ کی غیر موجودگی میں بچوں کے پاس 45 منٹ تک موقع کی تلاش میں بیٹھا رہا اور موقع ملنے پر مغوی کے بڑے بھائی کو پیسے دے کر دوکان پر چیز لینے کے لیے بھیج دیا۔
انہوں نے بتایا کہ بڑے بھائی کے جانے پر ملزم نے تین سالہ حسن کو اغوا کیا اور لوکل بس میں بیٹھ کر فرار ہو گیا، جس کے بعد داتا دربار پولیس نے اطلاع ملنے پر واقعے کا مقدمہ فوری طور پر درج کیا۔
ایس ایس پی سٹی نے بتایا کہ سی سی پی او لاہور اور ڈی آئی جی آپریشنز کی طرف سے بچے کی فوری بازیابی کے لیے ٹیم تشکیل دی گئی اور ٹیم کی شب و روز انتھک محنت رنگ لے آئی اور ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ شاطر ملزم گرفتاری سے بچنے کے لیے پہلے لوکل ٹرانسپورٹ کا استعمال کرتے ہوئے گجومتہ روئی نالہ پہنچا، پھر رکشہ اور بعد میں موٹر سائیکل کا استعمال کرکے نامعلوم مقام پر چلا گیا۔
ایس پی سٹی کا کہنا تھا کہ داتا دربار پولیس ملزم کا سراغ لگاتے ہوئے اس کا پیچھا کرتی رہی اور بچے کو ایک خالی مکان سے بازیاب کر لیا، ملزم اغوا کے بعد بچے پر تشدد بھی کرتا رہا۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان نے بتایا کہ داتا دربار پولیس نے
پڑھیں:
صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
متاثرہ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہریوں کی رہائی سے متعلق معاملے پر متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے بعض سفارتی ذرائع سے زیر گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صومالی بحری قزاقوں نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کبھی 10 ملین ڈالر کے تاوان کا مطالبہ نہیں کیا۔ خاندان کے مطابق مغوی پاکستانیوں نے خود اطلاع دی ہے کہ بحری قزاق ان کی رہائی کے لیے رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ قزاقوں نے ابتدا میں 3 ملین ڈالر تاوان مانگا تھا جبکہ اب یہ مطالبہ کم کرکے 2.5 ملین ڈالر کردیا گیا ہے۔ خاندان نے مزید کہا کہ میڈیا اور سفارتی ذرائع میں گردش کرنے والی بعض اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور ان کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ان کے بقول انہیں اس بات کا بھی کوئی علم نہیں کہ بحری جہاز "آنر 25" کے مالک، صومالیہ کی حکومت اور بحری قزاقوں کے درمیان کس نوعیت کی بات چیت جاری ہے۔ متاثرہ خاندان نے بتایا کہ بحری قزاق مسلسل پاکستانی نیوز چینلز سے براہِ راست بات چیت کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بار بار مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ واضح رہے کہ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم متاثرہ خاندان نے اپنے مقف میں بعض زیر گردش دعوں کی واضح تردید کی ہے۔