بیجنگ :چین کے شہر تیانجن میں منعقد ہ سمر ڈیووس فورم میں دنیا بھر کے 90 سے زائد ممالک اور خطوں سے تقریباً 1800 مہمانوں نے شرکت کی، جو حالیہ برسوں میں سب سے بڑی تعداد ہے۔جمعہ کے روز چینی میڈ یا نے بتا یا کہ  فورم کے دوران  تقریباً 200 ذیلی  سیمینار  کا بھی انعقاد کیا گیا ،جن کا مقصد کھلے پن اور تعاون کے مشترکہ پیغام کو فروغ دینا تھا۔ اس وقت، بین الاقوامی اقتصادی اور تجارتی پیٹرن گہری تبدیلیوں سے گزر رہا ہے، اور  اس شعبے میں  تعاون کو مزید تعمیری اقدامات کی ضرورت ہے.

اس  تناظر میں چین نے تین نکاتی  تجویز پیش کی جس میں تنازعات اور اختلافات کو مساوی بنیادوں پر مشاورت کے ذریعے حل کرنا ، باہمی فائدہ مند تعاون کے ذریعے مشترکہ مفادات کا تحفظ کرنا ،  توسیع اور اضافے کے ذریعے باہمی کامیابی حاصل کرنا شامل ہے ۔ شرکاء کا خیال تھا کہ “چائنا پلان” نہ صرف عالمی معاشی انضمام اور ترقی کے عمومی رجحان کی عکاسی کرتا ہے بلکہ ترقی کے کیک کو بڑا بنانے اور اس کے ثمرات کو دوسرے ممالک کے ساتھ بانٹنے کے لئے چین کے عزم کو بھی ظاہر کرتا ہے۔تاحال  چینی مارکیٹ معیار کو بڑھانے اور بہتر بنانے کے لئے  کوششیں جاری ہیں، جس سے بین الاقوامی اقتصادی اور تجارتی تعاون کے لئے بڑھتی ہوئی گنجائش  پیدا ہو رہی ہے.  ایک سال میں  تقریباً  50 ٹریلین یوآن کی کھپت، 50 ٹریلین یوآن سے زیادہ سرمایہ کاری اور  20 ٹریلین یوآن سے زیادہ درآمدات   دنیا کو  اپنی طرف متوجہ کر رہی ہے ۔  چین کے آر اینڈ ڈی اہلکاروں نے دنیا کا سب سے مکمل ڈسپلن سسٹم اور سب سے بڑا ٹیلنٹ سسٹم تشکیل دیا ہے۔ یہ کلیدی عناصر عالمی جدت طرازی کے وسائل اور جدت طرازی کی ہم آہنگی کو راغب کرتے ہیں۔جرمن سیوی ٹرانسمیشن (چائنا) انویسٹمنٹ کمپنی لمیٹڈ کے ایگزیکٹو  چانگ شینگلی نے کہا کہ  30 سالوں کے ترقیاتی تجربے کی بنیاد پر، ہم چین میں اپنی  سرمایہ کاری میں اضافہ کے حوالے سے پرآمید ہیں ،اور  خاص طور پر نئی مصنوعات اور ٹیکنالوجیز کی تحقیق اور ترقی میں  اعتماد سے بھرے ہوئے ہیں. “حال ہی میں ، گولڈ مین ساکس ، جے پی مورگن چیس اور بہت سے دیگر بین الاقوامی اداروں  کی جانب سے  چین کی 2025 کے لیے اقتصادی ترقی کی پیش گوئی بڑھا دی گئی ہے ۔ رواں سال کے پہلے پانچ ماہ میں چین میں 24018 نئی غیر ملکی سرمایہ کاری والے کاروباری ادارے قائم ہوئے جو سال بہ سال 10.4 فیصد اضافہ ہے۔ ملٹی نیشنل کمپنیاں یہ ظاہر کر رہی ہیں کہ وہ ماضی  ہو یا حال  وہ چین کی ہمراہی کو ترجیح دیتی ہیں۔

Post Views: 4

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم

 احمد جواد، چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم۔

پاکستان بزنس فورم نے حکومت سے بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ فورم کے چیف آرگنائز احمد جواد نے کہا کہ انتخابات کے بعد حکومت کا تیسرا بجٹ ہے، اس بجٹ میں حکومت معاشی سمت واضح کرے۔ 

احمد جواد نے مزید کہا کہ اس وقت ریجن میں ہماری کاروباری لاگت 34 فیصد سے زیادہ ہے، توقع ہے آنے والا بجٹ گروتھ کی طرف ہوگا، موجودہ ٹیکسز میں کمی ہوگی۔ 

انہوں نے کہا کہ اس وقت بزنس کمیونٹی مایوسی کا شکار ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں۔ 

احمد جواد نے کہا کہ کاروبار بند ہونے سے بزنس کمیونٹی کو بچا لیا جائے۔ پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر کا کہنا تھا کہ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔ 

انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس بلوں کے یونٹ کو مسابقتی ریٹ پر لایا جائے تاکہ بلز برداشت ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم