اسلام آباد:وفاقی بجٹ کی منظوری اور ایران اسرائیل کشیدگی میں کمی کے باعث سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو گیا، جس کے نتیجے میں پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز زبردست تیزی سے ہوا اور انڈیکس میں 1600 پوائنٹس کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

جمعے کے روز کاروباری ہفتے کے اختتامی سیشن میں زبردست تیزی دیکھی گئی، جہاں کے ایس ای 100 انڈیکس میں 1581.

77 پوائنٹس یا 1.3 فیصد اضافہ ہوا، اور یہ انڈیکس 12 لاکھ 36 ہزار 28 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا، گزشتہ روز یہ انڈیکس ایک لاکھ 20 ہزار 46 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔

یہ اضافہ ایک روز قبل قومی اسمبلی سے آئندہ مالی سال کے بجٹ کی منظوری کے بعد سامنے آیا، جس کا کل حجم 170 کھرب روپے رکھا گیا ہے، اس بجٹ میں نہ صرف جارحانہ ٹیکس اقدامات سے گریز کیا گیا بلکہ تنخواہ دار اور کاروباری طبقے کے لیے معمولی ریلیف بھی فراہم کیا گیا، جسے سرمایہ کاروں نے مثبت طور پر قبول کیا۔

اے کے ڈی سیکیورٹیز کے ریسرچ ڈائریکٹر اویس اشرف کے مطابق، ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی نے سرمایہ کاروں کی توجہ ایک بار پھر معاشی بنیادیات کی طرف موڑ دی ہے، افراطِ زر میں کمی اور کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس جیسے عوامل نے شرح سود میں ممکنہ کمی کی امید پیدا کی ہے، جو مستقبل میں سنگل ڈجٹ تک جا سکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ توانائی، تیل و گیس کی تلاش اور ان سے منسلک سپلائی چین سے جڑے حصص میں سرگرمی بڑھی ہے، کیونکہ سال کے اختتام سے پہلے گردشی قرضے کے خاتمے کی توقع ہے۔

اویس اشرف کا کہنا تھا کہ افراطِ زر مالی سال 2026 میں 4.5 فیصد کے تخمینے سے بھی نیچے جا سکتی ہے، جس سے مانیٹری پالیسی میں مزید نرمی کا امکان ہے اور مارکیٹ میں تیزی کا تسلسل برقرار رہ سکتا ہے۔

خیال رہے کہ منگل کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران اور اسرائیل کے درمیان 12 روزہ جنگ کے خاتمے کے لیے مکمل جنگ بندی کے اعلان کے بعد انڈیکس میں 6 ہزار 79 پوائنٹس کا بڑا اضافہ ہوا تھا، جب کہ جمعرات کو سرمایہ کاروں نے منافع لینے کے باعث مارکیٹ میں معمولی مندی دیکھی گئی تھی۔

Post Views: 6

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: سرمایہ کاروں مارکیٹ میں

پڑھیں:

پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی بڑا اضافہ

اسلام آباد: مٹی کے تیل کی قیمت میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ کر دیا گیا ہے، جبکہ پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل بھی مزید مہنگے ہو گئے ہیں۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اور پیٹرولیم ڈویژن نے نئی قیمتوں کے نوٹیفکیشن جاری کر دیے ہیں، جن کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے۔

اوگرا کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق مٹی کے تیل کی قیمت میں 7 روپے 80 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 297 روپے 17 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔ اس سے قبل مٹی کا تیل 289 روپے 37 پیسے فی لیٹر میں دستیاب تھا۔

حکام کے مطابق صرف تین روز کے دوران مٹی کے تیل کی قیمت میں مجموعی طور پر 14 روپے 58 پیسے فی لیٹر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے باعث خصوصاً سرد علاقوں اور گھریلو صارفین پر مالی بوجھ مزید بڑھنے کا امکان ہے۔

دوسری جانب پیٹرولیم ڈویژن نے بھی پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمتوں کا اعلان کر دیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 6 روپے 39 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 327 روپے 12 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔

اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل 7 روپے 83 پیسے فی لیٹر مہنگا ہونے کے بعد 375 روپے 04 پیسے فی لیٹر میں فروخت ہوگا۔

اعلامیے کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق 23 جولائی 2026 سے کر دیا گیا ہے۔ اس سے قبل بھی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا تھا، جس کے بعد مسلسل بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں نے عوام، ٹرانسپورٹ سیکٹر، زرعی شعبے اور کاروباری سرگرمیوں پر اضافی مالی دباؤ بڑھا دیا ہے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں استحکام نہ آیا تو آئندہ بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید ردوبدل کا امکان موجود ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
  • پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی بڑا اضافہ
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ