ایک ہی خاندان کے 15 افراد سیلابی ریلے کی نذرہوگئے، سید محمد علی شاہ باچا
اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT
پشاور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 27 جون2025ء) پاکستان پیپلز پارٹی خیبرپختونخوا کے صدر سید محمد علی شاہ باچا نے کہاہے کہ ایک ہی خاندان کے 15 افراد سیلابی ریلے کی نذر ہو گئے، کئی گھنٹے تک امداد کے منتظر رہنے کے باوجود بروقت ریسکیو نہ ہونا صوبائی حکومت کی مجرمانہ غفلت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
(جاری ہے)
اپنے بیان میں انہوںنے کہاکہ خیبرپختونخوا میں دریائے سوات کے دلخراش واقعے پر دلی افسوس اور گہرے رنج کا اظہار کرتا ہوں، جہاں ایک ہی خاندان کے 15 افراد سیلابی ریلے کی نذر ہو گئے، کئی گھنٹے تک امداد کے منتظر رہنے کے باوجود بروقت ریسکیو نہ ہونا صوبائی حکومت کی مجرمانہ غفلت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
انہوںنے کہاکہ تحریک انصاف گزشتہ 13 برس سے خیبرپختونخوا میں برسرِ اقتدار ہے، لیکن ہر سال سیاحتی علاقوں میں ایسے افسوسناک اور قابلِ روک تھام سانحات کا پیش آنا حکومتی نااہلی کا کھلا ثبوت ہے۔انہوںنے کہاکہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ سیاحوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائے مگر بدقسمتی سے ترجیحات میں عوام کی زندگی شامل ہی نہیں۔ انہوںنے کہاکہ حالیہ بجٹ میں تحائف اور تفریحی سرگرمیوں پر کروڑوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں تاہم سیاحوں کی جانیں بچانے کے لیے بروقت امدادی نظام موجود نہیں۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے انہوںنے کہاکہ
پڑھیں:
کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
پشاور:خیبرپختونخوا اسمبلی میں ناراض حکومتی ارکان کے ساتھ مفاہمت نہ ہوسکی ناراض ارکان نے کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے آج اجلاس طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکومتی ارکان کا ناراض گروپ اپنے مطالبات پر ڈٹ گیا، ناراض ارکان سے سابق اسپیکر اسد قیصر اور سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے بھی رابطہ کیا ہے لیکن ناراض ارکان نے حکومت کے علاقہ کسی سے بھی مذاکرات سے انکار کردیا۔
ناراض ارکان کا کہنا ہے کہ ہمیں وزیراعلی سہیل آفریدی کی جانب سے یقین دہانی چاہیے، ایک ناراض رکن نے بتایا کہ ہمارا کوئی فارورڈ بلاک نہیں اگر فارورڈ بلاک بنتا ہے تو یہ عمران خان کے خلاف ہوگا ہم حکومت کے پالیسیوں سے ناراض ہیں مرکزی قیادت کو بتایا دیا گیا ہے اور انھیں خط بھی لکھا گیا ہے لیکن پارٹی چیئرمین کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا، ناراض ارکان نے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے اجلاس آج دوبارہ طلب کرلیا ہے۔