data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (رپورٹر)جماعت اسلامی سندھ کے امیر کاشف سعید شیخ نے مون سون کی حالیہ پہلی بارش کے نتیجے میں ٹنڈوجام، کنری اور ببرلومیں4 بچوں سمیت 5 افراد کی ہلاکت اور بڑے پیمانے پرمالی نقصانات پر افسوس اور دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی، حیدرآباد، میرپورخاص اور ٹنڈوجام میں معمولی بارش سیشہروں اور دیہات میں بجلی اور مواصلاتی نظام کے درہم برہم اور سڑکیں بارش کے پانی کی وجہ سے تالاب کا منظر پیش کررہی ہیں جس کی وجہ سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں،ہلکی بارش نے بھی حکومتی رین ایمرجنسی کے دعوؤں کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔ ثابت ہوگیا کہ عدل وانصاف اوردیانتدار قیادت کے بغیر کراچی تاکشمور سندھ کی ترقی اورعوامی مسائل کا حل ناممکن ہے۔جماعت اسلامی سندھ کے امیر نے ایک بیان میں مزید کہا کہ سندھ میں پیپلزپارٹی کی موجودہ حکومت کو 17سال ہونے کو ہیں مگر اس حکومت کی ناقص اور بدترین کارکردگی کاثبوت یہ ہے کہ پہلی ہلکی بارش سے رہائشی اور کاروباری علاقوں میں 5،5 فٹ پانی کھڑا ہے گھروں اور دکانوں میں بارش اور نالوں کا پانی بھرجانے سے کروڑوں روپے کا مالی نقصان جبکہ انتظامیہ کی نااہلی کی وجہ سے کئی جانیں ضائع ہوچکی ہیں، جہاں ایک طرف گزشتہ 17 سالہ دور حکومت میں پی پی نے صوبے کا بیڑہ غرق کردیا ہے وہاں دارالحکومت کراچی کو بھی کھنڈر ات میں تبدیل کردیا ہے،پیپلزپارٹی کی حکومت نے 12 سال سے سندھ کے عوام کے دکھوں کا مداوا کرنے کے بجائے صوبے کو پتھر کے دور میں پہنچادیا ہے، عوام صحت، تعلیم،روزگار سمیت ہر قسم کی سہولیات سے مکمل طور پر محروم ہیں جبکہ حکمرانوں کی دولت میں اضافہ اور قومی خزانے کی لوٹ مار جاری ہے۔پیپلزپارٹی کے وزرا پریس کانفرنسوں اور بیان بازی سے آگے بڑھ کر سندھ کے عوام کی خدمت اور ان کے مالی اور جانی نقصانات کے ازالے کے لیے مؤثر اقدامات کریں ۔صوبائی امیر نے پرزور مطالبہ کیا کہ کراچی،حیدرآباد سمیت سندھ بھر کے تمام اضلاع میں حالیہ بارشوں سے ہونے والے مالی اور جانی نقصانات کا سروے کرکے متاثرہ افراد کی مالی امداد اور مؤثرحفاظتی تدابیر اختیار کی جائیں تاکہ آئندہ مون سون کی بارشوں سے عوام کو حالیہ پریشانی کی صورتحال سے دوچار نہ ہونا پڑے۔انہوں نے جماعت اسلامی اور الخدمت کے رضاکاروں پر بھی زور دیا کہ وہ بارش سے متاثرہ علاقوں میں اپنے بھائیوں کی ہر ممکن مدد کریں اور گھروں سے پانی نکالنے کے لیے دستیاب مشینری کو استعمال کرتے ہوئے لوگوں کو باہر نکالیں۔صوبائی امیر نے دریائے سوات میں سیلابی ریلے کے نتیجے میں 15 افراد کے ڈوب جانے کے واقعے پر بھی افسوس اور دکھ کا اظہار کرتے ہوئے مرحومین کی مغفرت اور پسماندگان کے لیے صبر کی دعا کی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جماعت اسلامی سندھ کے

پڑھیں:

قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان

راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔

علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔

(جاری ہے)

انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔

علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہوسکا، شہری رُل گئے
  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا