ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ ، سی ڈی اے کو تحلیل کرنے کا حکم صادر،اثاثے ایم سی آئی کو دینے کا حکم ، تحریری فیصلہ سب نیوز پر
اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT
ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ ، سی ڈی اے کو تحلیل کرنے کا حکم صادر،اثاثے ایم سی آئی کو دینے کا حکم ، تحریری فیصلہ سب نیوز پر WhatsAppFacebookTwitter 0 28 June, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز) اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کی جانب سے بڑی شاہراہوں سے براہِ راست رسائی (Right of Way / Direct Access) پر عائد چارجز کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے جون 2015 کے ایس آر او کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔
W.P_No.3807-2022_638860180276173091 (2)Download
جسٹس محسن اختر کیانی نے تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے وفاقی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ سی ڈی اے کو ختم کر کے اس کے تمام انتظامی، مالیاتی اور قانونی اختیارات و اثاثے میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد (MCI) کو منتقل کیے جائیں۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ سی ڈی اے کا قیام ایک عبوری انتظام تھا جس کا مقصد اب پورا ہو چکا ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ 2015 کے نوٹیفکیشن کے تحت سی ڈی اے نے جتنی بھی رقوم افراد یا اداروں سے وصول کیں، وہ غیرقانونی تھیں اور انہیں فوری طور پر واپس کیا جائے۔ عدالت کے مطابق سی ڈی اے کو پٹرول پمپس، سی این جی اسٹیشنز، اور ہاؤسنگ سوسائٹیز پر مرکزی شاہراہوں سے براہ راست رسائی پر کوئی ٹیکس یا چارج عائد کرنے کا قانونی اختیار حاصل نہیں۔
اسلام آباد کا انتظامی ڈھانچہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے تحت چلایا جائے گا
عدالت نے واضح کیا کہ اب اسلام آباد کی انتظامی، ریگولیٹری اور بلدیاتی ذمہ داریاں اسلام آباد لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2015 کے تحت چلائی جائیں گی۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ “سی ڈی اے آرڈیننس اب اپنی قانونی و عملی افادیت کھو چکا ہے، اور وقت آ گیا ہے کہ وفاقی حکومت سی ڈی اے کو تحلیل کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکومت کو ہدایت دی ہے کہ اختیارات کی منتقلی کے بعد اسلام آباد میں شفاف اور قابلِ احتساب نظامِ حکومت یقینی بنایا جائے، تاکہ شہریوں کے حقوق کا قانون کے مطابق مکمل تحفظ ممکن ہو۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرتہران :اسرائیلی حملوں میں شہید سائنسدانوں، فوجی کمانڈرز کی نماز جنازہ ادا کردی گئی تہران :اسرائیلی حملوں میں شہید سائنسدانوں، فوجی کمانڈرز کی نماز جنازہ ادا کردی گئی بھارتی کرپٹو پالیسی ناکام، پاکستانی حکمت عملی عالمی سطح پر کامیاب قرار مریم نواز کا جنوبی پنجاب کے 24 اضلاع کیلئے بڑا اعلان اسلام آباد ہائیکورٹ کے پانچ ججز نے ٹرانسفر کیس کا فیصلہ چیلنج کردیا اسپیکر پنجاب اسمبلی کا پی ٹی آئی کے معطل کیے گئے 26 ارکان کیخلاف ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھیجنے کا اعلان دریائے سوات میں ڈوبنے والے ایک اور سیاح کی لاش نکال لی گئی، مرنے والوں کی تعداد 10 ہوگئیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سی ڈی اے کو سب نیوز کا حکم
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔