Daily Ausaf:
2026-06-03@06:19:54 GMT

صدر ٹرمپ کا مضحکہ خیز بھاشن

اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’سوشلٹروتھ‘‘پر لکھا ہے کہ’’چین اب ایران سے تیل کی خریداری جاری رکھ سکتا ہے اور مجھے امید ہے کہ چین امریکہ سے بھی بڑی مقدار میں تیل خریدے گا‘‘ بین الاقوامی سیاست میں توانائی خاص طور پر خام تیل ہمیشہ سے عالمی طاقتوں کے توازن اور غلبے کا ایک بنیادی ستون رہی ہے ۔بیسویں صدی کا بیشتر حصہ امریکی اثرو رسوخ کے سائبان تلے گزرا ۔جہاں تیل کی پیداوار، تقسیم اور نرخوں کا تعین عام طور پر واشنگٹن کے اشاروں کے تابع رہا ہے۔امریکی ڈالر کے ساتھ تیل کی عالمی تجارت امریکہ کو اقتصادی اجارہ داری، سفارتی دبائو اور اسٹریٹجک فیصلوں میں برتری دینے میں اہم کردار ادا کیا۔تاہم اکیسویں صدی کے دوسرے عشرے میں طاقت کے مراکز تنوع سے ہمکنار ہوئے۔روس اور چین کی شمولیت آور مشرق وسطیٰ کی خود مختار پالیسیز اور ایران جیسے ممالک کی مزاحمتی معیشت نے تیل کی سیاست کا پانسہ پلٹنا شروع کردیا۔
حالیہ دنوں میں جب امریکہ چین کو ایران سے تیل خریدنے پر تنبیہ کرتا ہے یا روس پر ایسی پابندیاں عائد کرتا ہے تو یہ سوال شدت سے سر اٹھاتا ہے کہ ’’کیا امریکہ اب بھی تیل کی عالمی منڈی میں اپنے کر دار کو اعلیٰ و ارفع تصور کرتا ہے ،یا ایک موثر کھلاڑی کی حیثیت تک محدود ہے ؟ آج یہی سوال دور حاضر کی بین الاقوامی حرکیات کو سمجھنے کی اصل کلید ہے ۔اس پر سوچ بچار ہمیں ناصرف توانائی کی منڈی کے تغیر پذیر ہوتے رجحانات کی آگہی سے ہمکنار کرتی ہے بلکہ یہ عقدہ بھی کشا کرتی ہے کہ اب عالمی طاقت فقط عسکری یا مالی دبائو کی محتاجی کے تابع نہیں بلکہ کثیر الجہتی حکمت عملی، باہمی تعاون و مفادات کے توازن کے تابع ہوکر رہ گئی ہے ۔اسی احساس کے پیش نظر امریکہ یہ کہنے پر مجبور ہوا کہ ’’چین ایران سے تیل خرید سکتا ہے اور امید ہے امریکہ سے بھی خریدے گا‘‘ شپنگ ڈیٹا فراہم کرنے والی کمپنی vortexaکے مطابق ’’ایران کے تیل کی تقریباً 90فیصد برآمدات چین کو جاتی ہے جو ماہانہ اوسطا ً45 ملین بیرل بنتی ہے جو کہ چین کی مجموعی خام تیل کی درآمدات کا لگ بھگ 13.

6 فیصد ہے۔
ایران کے قریب واقع آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام خام تیل اور کنڈینسیٹ میں سے تقریباً 65 فیصد منرل بھی چین ہی کی ہوتی ہے جوکہ خطے میں چین کے اسٹریٹجک مفادات کو اجاگر کرتی ہے ۔ تاہم اب بھی امریکہ دنیا کے بڑے تیل و گیس پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے اور برآمدکنندہ اور کنٹرولر بھی رہا۔اوپیک کی سیاست میں بھی امریکہ کا غیر رسمی طور پر موثر رہا ہے اس کے علاوہ تیل کے بدلے ڈالرنے امریکہ کو عالمی مالیاتی نظام کا کنٹرول بھی دیا۔تاہم موجودہ صورت حال طاقت میں کمی آئی اور اثر باقی ہے ۔اب بین الاقوامی بنکنگ اور پابندیوں کے ذریعے امریکہ کے تیل کے خریداروں اور بیچنے والوں پر اثر انداز ہونے کی پوزیشن میں ہے۔پھر یہ ہوا کہ روس اورسعودی عرب جیسے ممالک نے امریکہ سے مغائرت برتی اور اس کے فیصلوں کے خلاف فیصلوں پر صاد کرنا شروع کیا ،یہاں تک کہ چین ،بھارت ،ترکی اور کئی دوسرے ممالک نے بھی امریکی پابندیوں کو نظر کرکے ایران ،روس اور وینزویلا سے تیل خریدنے لگے۔
معروضی حقیقت یہ ہے کہ اب طاقت صرف امریکہ کے ہاتھ میں نہیں رہی،روس ،چین ،یورپ خلیجی ممالک سے الگ ایجنڈا رکھتے ہیں ۔جبکہ چین اور روس جیسے ممالک اب ڈالر میں تیل کی تجارت سے گریزگی پر مائل ہیں اور روبل اور یوان جیسی کرنسیاں مارکیٹ میں جگہ بنارہی ہیں۔اسی طرح امریکہ کی پابندیوں کو خاطرمیں نہ لاتے ہوئے ایران بلیک مارکیٹ کے تحت تیل بیچ رہا ہے اور امریکہ کی کسی تنبیہ یا اجازت کے بغیر چین ایران کا سب سے بڑا ایرانی تیل کا بائیر ہے ۔یوکرائن جنگ کے بعد روس بھی انڈیا اور چین کو تیل بیچ رہا ہے۔اور اب صورت حال یہ ہےکہ امریکہ با اختیار ہونے کے باوجود تنہا دنیا کا چوہدری نہیں رہا۔برآمدات پر اس کے کنٹرول میں کمی ہو گئی ہے اور سعودی عرب ،ایران اور روس آزادانہ فیصلوں پر انحصار کرنے لگے ہیں ۔اس میں شک نہیں کہ مالیاتی قوت یا مرکزی کرنسی کی حیثیت اب بھی امریکی ڈالر کو ہے مگر متبادل کا اثر بڑھنے لگا ہے ، پابندیاں متنازع اور غیر موثر ہو رہی ہیں۔طاقت کے کھیل کا میدان اب رفتہ رفتہ امریکہ کے ہاتھ سے نکلتا اور پھسلتا جارہا ہے ۔اور امریکہ کے سفارتی اتحاد اورمعاشی چالاکیاں تک ماندپڑتی جارہی ہیں ۔ان حالات میں صدرڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کے لئے یہ بھاشن جاری کرنا کہ ’’میں ایران کو چین کے ہاتھ تیل فروخت کرنے کی اجازت دیتاہوں‘‘ بھیگی بلی کھمبہ نوچے کے مترادف ہے اور انتہائی مضحکہ خیز لگتا ہے ۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: امریکہ کے رہا ہے کہ چین ہے اور سے تیل تیل کی

پڑھیں:

امریکا میں مصنوعی ذہانت کی نگرانی، ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے جس کے تحت مصنوعی ذہانت سے متعلق کمپنیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے ماڈلز کی مکمل عوامی ریلیز سے

پہلے وفاقی حکومت کو ان تک رسائی فراہم کریں تاکہ ان کی صلاحیتوں کا جائزہ لیا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں: صدرٹرمپ کا ووٹرشناختی کارڈ لازمی قرار دینے کا فیصلہ، ایگزیکٹیو آرڈر جلد متوقع

اس حکم نامے کے مطابق کمپنیوں کو رضاکارانہ بنیادوں پر ایک بینچ مارکنگ عمل میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے، جس کے ذریعے ماڈلز کی ’اعلیٰ سائبر صلاحیتوں‘ کا جائزہ لیا جائے گا

اور یہ طے کیا جائے گا کہ آیا انہیں ’کورڈ فرنٹیئر ماڈل‘ قرار دیا جانا چاہیے یا نہیں۔

The Trump administration will ask leading AI developers to voluntarily submit their most capable models for government cybersecurity tests before releasing them to the public, according to an executive order, as security fears mount in Washington over powerful new AI systems such…

— Reuters (@Reuters) June 3, 2026

اس کے علاوہ کمپنیوں سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اپنے ماڈلز کی وسیع پیمانے پر ریلیز سے 30 روز قبل حکومت کو ان تک رسائی دیں۔

حکم نامہ حکومت کو یہ اختیار بھی دیتا ہے کہ وہ ان ’قابلِ اعتماد شراکت داروں‘ کے انتخاب میں معاونت کرے جنہیں ابتدائی رسائی فراہم کی جائے گی۔

حکم نامے میں واضح کیا گیا ہے کہ اس شق کو اس طرح نہیں سمجھا جائے گا کہ حکومت مصنوعی ذہانت کے نئے ماڈلز، بشمول فرنٹیئر ماڈلز، کی تیاری، اشاعت، اجرا یا تقسیم کے لیے لازمی

لائسنسنگ، پیشگی منظوری یا اجازت نامے کا نظام نافذ کر رہی ہے۔

مزید پڑھیں:

صدر ٹرمپ نے یہ حکم نامہ نجی طور پر دستخط کیا، چند ہفتے قبل انہوں نے معروف ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہان کے ساتھ ایک دستخطی تقریب ملتوی کر دی تھی اور صحافیوں کو بتایا تھا کہ

انہیں مجوزہ حکم نامے کے بعض پہلو پسند نہیں آئے تھے۔

یہ حکم ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا میں مصنوعی ذہانت کی ترقی ایک اہم مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔

پیر کے روز اے آئی کمپنی اینتھروپک نے اعلان کیا کہ اس نے ابتدائی عوامی حصص فروخت کے لیے خفیہ طور پر امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن میں درخواست جمع کرا دی ہے۔

مزید پڑھیں:

اس کی حریف کمپنی اوپن اے آئی بھی رواں سال ممکنہ شیئرز کی پیشکش کی تیاری کر رہی ہے۔

دوسری جانب ایلون مسک کی خلائی کمپنی اسپیس ایکس، جو ان کی اے آئی لیبارٹری اسپیس ایکس اے آئی کی مالک بھی ہے، ممکنہ طور پر ان دونوں کمپنیوں سے پہلے اسٹاک مارکیٹ میں داخل ہو

سکتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق اس کی مارکیٹ ویلیو ایک کھرب ڈالر سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔

مصنوعی ذہانت کی بدولت غیرمعمولی ترقی حاصل کرنے والی ٹیکنالوجی صنعت نے وائٹ ہاؤس کی اے آئی پالیسیوں کی تشکیل میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔

سرمایہ کار ڈیوڈ سیکس، جو ایلون مسک کے قریبی اتحادی سمجھے جاتے ہیں، رواں سال کے آغاز تک وائٹ ہاؤس کے پہلے ’کرپٹو اور اے آئی زار‘ کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سیکس، مسک اور مارک زکربرگ نے گزشتہ ماہ ٹرمپ انتظامیہ سے رابطہ کرکے ایک سابقہ اے آئی حکم نامے کی مخالفت کی تھی جس پر صدر دستخط کرنے والے

تھے۔

یہ نیا حکم نامہ اس وقت بھی سامنے آیا ہے جب اینتھروپک نے رواں سال کلاؤڈ مائتھوس پری ویو نامی ایک ایسا ماڈل متعارف کرایا جسے سافٹ ویئر میں کمزوریوں اور سیکیورٹی نقائص کی

نشاندہی میں غیرمعمولی مہارت حاصل ہے۔

کمپنی نے ابتدا میں اس ماڈل کو ’پروجیکٹ گلاس ونگ‘ نامی سائبر سیکیورٹی اقدام کے تحت محدود تعداد میں اداروں کو فراہم کیا تھا، جسے منگل کے روز مزید وسعت دی گئی۔

مائتھوس کی رونمائی کے بعد اینتھروپک کے نمائندوں کی ٹرمپ انتظامیہ کے اعلیٰ حکام، جن میں وائٹ ہاؤس چیف آف اسٹاف سوزی وائلز اور وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ شامل ہیں، سے متعدد اہم

ملاقاتیں بھی ہوئیں۔

ٹرمپ کے حکم نامے میں مختلف سرکاری ہدایات اور رہنما اصول مرتب کرنے کے لیے کئی ٹائم فریمز دیے گئے ہیں۔ خصوصاً امریکی محکمہ دفاع کو اپنے معلوماتی نظاموں کے سائبر دفاع کو

ترجیح دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

تاہم محکمہ دفاع نے اینتھروپک کے جدید اے آئی ماڈلز سے فاصلہ اختیار کرنے کی کوشش کی ہے، مائتھوس کی ریلیز سے کچھ عرصہ قبل محکمہ نے کمپنی کو ’سپلائی چین رسک‘ قرار دیا تھا۔

اس درجہ بندی کے تحت اینتھروپک کو امریکی قومی سلامتی کے لیے ممکنہ خطرہ تصور کیا جاتا ہے اور دفاعی ٹھیکیداروں کو محکمہ دفاع کے ساتھ اپنے کام میں کمپنی کی ٹیکنالوجی استعمال کرنے سے روکا جاتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اوپن اے آئی ٹرمپ ٹیکنالوجی مصنوعی ذہانت وائٹ ہاؤس

متعلقہ مضامین

  • جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
  • امریکا میں مصنوعی ذہانت کی نگرانی، ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد