Daily Ausaf:
2026-07-24@05:46:07 GMT

صدر ٹرمپ کا مضحکہ خیز بھاشن

اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’سوشلٹروتھ‘‘پر لکھا ہے کہ’’چین اب ایران سے تیل کی خریداری جاری رکھ سکتا ہے اور مجھے امید ہے کہ چین امریکہ سے بھی بڑی مقدار میں تیل خریدے گا‘‘ بین الاقوامی سیاست میں توانائی خاص طور پر خام تیل ہمیشہ سے عالمی طاقتوں کے توازن اور غلبے کا ایک بنیادی ستون رہی ہے ۔بیسویں صدی کا بیشتر حصہ امریکی اثرو رسوخ کے سائبان تلے گزرا ۔جہاں تیل کی پیداوار، تقسیم اور نرخوں کا تعین عام طور پر واشنگٹن کے اشاروں کے تابع رہا ہے۔امریکی ڈالر کے ساتھ تیل کی عالمی تجارت امریکہ کو اقتصادی اجارہ داری، سفارتی دبائو اور اسٹریٹجک فیصلوں میں برتری دینے میں اہم کردار ادا کیا۔تاہم اکیسویں صدی کے دوسرے عشرے میں طاقت کے مراکز تنوع سے ہمکنار ہوئے۔روس اور چین کی شمولیت آور مشرق وسطیٰ کی خود مختار پالیسیز اور ایران جیسے ممالک کی مزاحمتی معیشت نے تیل کی سیاست کا پانسہ پلٹنا شروع کردیا۔
حالیہ دنوں میں جب امریکہ چین کو ایران سے تیل خریدنے پر تنبیہ کرتا ہے یا روس پر ایسی پابندیاں عائد کرتا ہے تو یہ سوال شدت سے سر اٹھاتا ہے کہ ’’کیا امریکہ اب بھی تیل کی عالمی منڈی میں اپنے کر دار کو اعلیٰ و ارفع تصور کرتا ہے ،یا ایک موثر کھلاڑی کی حیثیت تک محدود ہے ؟ آج یہی سوال دور حاضر کی بین الاقوامی حرکیات کو سمجھنے کی اصل کلید ہے ۔اس پر سوچ بچار ہمیں ناصرف توانائی کی منڈی کے تغیر پذیر ہوتے رجحانات کی آگہی سے ہمکنار کرتی ہے بلکہ یہ عقدہ بھی کشا کرتی ہے کہ اب عالمی طاقت فقط عسکری یا مالی دبائو کی محتاجی کے تابع نہیں بلکہ کثیر الجہتی حکمت عملی، باہمی تعاون و مفادات کے توازن کے تابع ہوکر رہ گئی ہے ۔اسی احساس کے پیش نظر امریکہ یہ کہنے پر مجبور ہوا کہ ’’چین ایران سے تیل خرید سکتا ہے اور امید ہے امریکہ سے بھی خریدے گا‘‘ شپنگ ڈیٹا فراہم کرنے والی کمپنی vortexaکے مطابق ’’ایران کے تیل کی تقریباً 90فیصد برآمدات چین کو جاتی ہے جو ماہانہ اوسطا ً45 ملین بیرل بنتی ہے جو کہ چین کی مجموعی خام تیل کی درآمدات کا لگ بھگ 13.

6 فیصد ہے۔
ایران کے قریب واقع آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام خام تیل اور کنڈینسیٹ میں سے تقریباً 65 فیصد منرل بھی چین ہی کی ہوتی ہے جوکہ خطے میں چین کے اسٹریٹجک مفادات کو اجاگر کرتی ہے ۔ تاہم اب بھی امریکہ دنیا کے بڑے تیل و گیس پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے اور برآمدکنندہ اور کنٹرولر بھی رہا۔اوپیک کی سیاست میں بھی امریکہ کا غیر رسمی طور پر موثر رہا ہے اس کے علاوہ تیل کے بدلے ڈالرنے امریکہ کو عالمی مالیاتی نظام کا کنٹرول بھی دیا۔تاہم موجودہ صورت حال طاقت میں کمی آئی اور اثر باقی ہے ۔اب بین الاقوامی بنکنگ اور پابندیوں کے ذریعے امریکہ کے تیل کے خریداروں اور بیچنے والوں پر اثر انداز ہونے کی پوزیشن میں ہے۔پھر یہ ہوا کہ روس اورسعودی عرب جیسے ممالک نے امریکہ سے مغائرت برتی اور اس کے فیصلوں کے خلاف فیصلوں پر صاد کرنا شروع کیا ،یہاں تک کہ چین ،بھارت ،ترکی اور کئی دوسرے ممالک نے بھی امریکی پابندیوں کو نظر کرکے ایران ،روس اور وینزویلا سے تیل خریدنے لگے۔
معروضی حقیقت یہ ہے کہ اب طاقت صرف امریکہ کے ہاتھ میں نہیں رہی،روس ،چین ،یورپ خلیجی ممالک سے الگ ایجنڈا رکھتے ہیں ۔جبکہ چین اور روس جیسے ممالک اب ڈالر میں تیل کی تجارت سے گریزگی پر مائل ہیں اور روبل اور یوان جیسی کرنسیاں مارکیٹ میں جگہ بنارہی ہیں۔اسی طرح امریکہ کی پابندیوں کو خاطرمیں نہ لاتے ہوئے ایران بلیک مارکیٹ کے تحت تیل بیچ رہا ہے اور امریکہ کی کسی تنبیہ یا اجازت کے بغیر چین ایران کا سب سے بڑا ایرانی تیل کا بائیر ہے ۔یوکرائن جنگ کے بعد روس بھی انڈیا اور چین کو تیل بیچ رہا ہے۔اور اب صورت حال یہ ہےکہ امریکہ با اختیار ہونے کے باوجود تنہا دنیا کا چوہدری نہیں رہا۔برآمدات پر اس کے کنٹرول میں کمی ہو گئی ہے اور سعودی عرب ،ایران اور روس آزادانہ فیصلوں پر انحصار کرنے لگے ہیں ۔اس میں شک نہیں کہ مالیاتی قوت یا مرکزی کرنسی کی حیثیت اب بھی امریکی ڈالر کو ہے مگر متبادل کا اثر بڑھنے لگا ہے ، پابندیاں متنازع اور غیر موثر ہو رہی ہیں۔طاقت کے کھیل کا میدان اب رفتہ رفتہ امریکہ کے ہاتھ سے نکلتا اور پھسلتا جارہا ہے ۔اور امریکہ کے سفارتی اتحاد اورمعاشی چالاکیاں تک ماندپڑتی جارہی ہیں ۔ان حالات میں صدرڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کے لئے یہ بھاشن جاری کرنا کہ ’’میں ایران کو چین کے ہاتھ تیل فروخت کرنے کی اجازت دیتاہوں‘‘ بھیگی بلی کھمبہ نوچے کے مترادف ہے اور انتہائی مضحکہ خیز لگتا ہے ۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: امریکہ کے رہا ہے کہ چین ہے اور سے تیل تیل کی

پڑھیں:

ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی

امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔

رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔

خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔

اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی