اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) معروف سینئر صحافی مبشر لقمان نے اپنے حالیہ وی لاگ میں ایک سنگین انکشاف کیا ہے کہ بھارت نے پاکستان کے میزائل پروگرام کو عالمی سطح پر بدنام کرنے کے لیے ایک منظم سازش کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سازش کی پشت پناہی میں امریکی جریدہ فارن پالیسی بھی شامل ہو چکا ہے، جس نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں پاکستان پر انٹرکانٹیننٹل بلسٹک میزائل (ICBM) بنانے کا الزام عائد کیا ہے۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ پاکستان ایسے بلسٹک میزائلز تیار کر رہا ہے جو امریکہ تک مار کر سکتے ہیں، جس پر مبینہ طور پر امریکی انٹیلیجنس ادارے تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، ایسے ہتھیار رکھنے والے ممالک کو “دوست” نہیں سمجھا جا سکتا، اور امریکہ کو اب پاکستان کو ممکنہ جوہری دشمن تصور کرنا چاہیے۔

تاہم مبشر لقمان نے اس رپورٹ کو “جھوٹ کا پلندہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا میزائل پروگرام صرف خطے میں دفاعی ضروریات کے تحت قائم ہے اور اس کا ہدف صرف اور صرف بھارت کی ممکنہ جارحیت کا مقابلہ کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نہ تو توسیع پسند ملک ہے اور نہ ہی اس کی پالیسی میں خطے سے باہر کسی ملک پر حملے کی خواہش موجود ہے۔ پاکستان کے میزائلز کی رینج بھارت کی حد تک محدود ہے، اور ان کا مقصد صرف قومی دفاع اور طاقت کا توازن برقرار رکھنا ہے۔

دوسری جانب مبشر لقمان نے بھارتی میزائل پروگرام کو عالمی خطرہ قرار دیتے ہوئے بتایا کہ بھارت کے پاس دو ایسے انٹرکانٹیننٹل بلسٹک میزائل موجود ہیں جو نہ صرف ایٹمی ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں بلکہ امریکہ تک بھی مار کر سکتے ہیں۔ ان میں اگنی (6,500 کلومیٹر) اور سوریہ (10,000 کلومیٹر) شامل ہیں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر کوئی ملک امریکہ کے لیے خطرہ ہے، تو وہ پاکستان نہیں بلکہ بھارت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے پاکستان کو عالمی برادری میں بدنام کرنے کے لیے یہ جھوٹا بیانیہ گھڑا ہے تاکہ اپنی حقیقت چھپا سکے۔

مبشر لقمان کے مطابق، بھارت کی یہ فیک نیوز مہم اس وقت تیز ہوئی ہے جب امریکی انٹیلیجنس ادارے خود بھارت کو عالمی امن کے لیے خطرہ سمجھنے لگے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ بھی بھارت کی اصل پالیسیوں کو بھانپ چکی ہے، اور اب دہلی کی سازشوں کا پردہ چاک ہونا شروع ہو گیا ہے۔
مزیدپڑھیں:بھارت کا برطانیہ کو دھوکہ؟ ایف 35 طیارے کا خفیہ اسٹیلتھ پینٹ روس کو دے دیا گیا

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: میزائل پروگرام کہ بھارت کو عالمی بھارت کی کے لیے

پڑھیں:

نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا

 

 

بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔

Huge crowd of students floods roads of Nashik.

Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY

— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026

ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘  کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔

دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج

یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک

متعلقہ مضامین

  • وزارتِ خارجہ کی اپوسٹل سروسز کے ٹھیکوں پر سوالات، آڈٹ میں قواعد کی مبینہ خلاف ورزیوں کی نشاندہی
  • حساس معلومات لیک ہونے کا معاملہ، جے ڈی وینس کے قریبی سکیورٹی اہلکار کے خلاف تحقیقات
  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
  • جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے