کراچی یونیورسٹی روڈ پر ریڈ لائن منصوبہ بارش میں شہریوں کے درد سربن گیا
اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(رپورٹ:منیر عقیل انصاری) ڈھائی سال سے یونی ورسٹی روڈ پرزیر تعمیر بس ریپڈ ٹرانسپورٹ (بی آر ٹی)ریڈ لائن منصوبہ بارش کے باعث شہریوں کے لئے درد سر بن گیا ہے۔
یونیورسٹی روڈ پر سڑکوں کی خراب صورتحال کی وجہ سے شہریوں کا سفر کرناانتہائی تکلیف دہ ہوگیا ہے ۔یونیورسٹی روڈ کے اطراف کی سڑکیں بری طرح ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئی ہیں، یونیورسٹی روڈ کی سڑکیں طویل عرصے سے خراب ہیں اور بارش کا پانی جمع ہوجانے سے نہ صرف بڑے بڑے گڑھوں میں گاڑیاں پھنس جاتی ہیں بلکہ حادثے کا خدشہ بھی لگا رہتا ہے۔
صفورہ چورنگی سے پیپلزچورنگی جانے والی سڑکیں کھدائی ہونے کے باعث جمع ہونے والے بارش کے پانی سے انتہائی خطرناک صورتحال اختیار کرگئی ہیں۔کراچی میں بغیر منصوبہ بندی اور عجلت میں شروع کئے گئے ریڈ لائن منصوبہ بارش کے باعث شہریوں کے لئے عذاب بن گیا ہیں۔
یونیورسٹی روڈ پر زیرتعمیر ریڈ لائن منصوبے کے ایک ٹریک پر گڑھے پڑ نے اور پانی جمع ہونے سے ہفتے کے روزسڑک پر بدترین ٹریفک جام ہوگیا اور شہری بارش کے پانی اور کیچڑ میں پھنسے رہے، مناسب متبادل راستے نہ ہونے کی وجہ سے شام کو اپنے گھروں کیلئے جانے والے گھنٹوں ٹریفک میں پھنسے رہے ہیں۔
ریڈ لائن منصوبے کے اطراف میں تین یونیورسٹیاں، کراچی یونیورسٹی، این ای ڈی یونیورسٹی اور وفاقی اردو یونیورسٹی موجود ہیں جس کے ہزاروں طلباءاذیت میں مبتلا ہیں۔ طلبا ءنے جسارت سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ پہلے ہی بس منصوبے سے ہمیں یونیورسٹی جانے کے لیے سڑک عبو رکرنا انتہائی دشوار ہوگیا ہے اور اب بارش کے بعد صورتحال مزید ابتر ہوگئی ہے، ان کہنا ہے کہ ریڈ لائن بس منصوبے کی وجہ سے حادثات میں اضافہ ہوا ہے ہمیں مجبوراً گروپ بنا کر سڑک عبور کرنی پڑتی ہے، حکومت اس منصوبے کو جلد پایہ تکمیل تک پہنچائے۔
دوسری جانب یونیورسٹی روڈ کے اطراف رہائشیوں کا کہنا ہے کہ بارش کے بعد ریڈ لائن منصوبہ موت کا کنواں بن چکا ہے، سڑکیں طویل عرصے سے خراب ہے اور بارش کا پانی جمع ہوجانے سے نہ صرف بڑے بڑے گڑھوں میں ہماری گاڑیاں پھنس جاتی ہیں بلکہ حادثے کا خدشہ بھی لگا رہتا ہے۔
شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مون سون کے سیزن میں نہ صرف سڑکوں سے نکاسی آب کے انتظامات بہتر کیے جائیں بلکہ سڑکوں کو سفر کے قابل بنانے کے لیے فوری طور پر اقدامات کیے جائیں۔
واضح رہے کہ ریڈ لائن بی آ رٹی منصوبہ26 کلومیٹر طویل روٹ پر مشتمل ہے جو ملیر ہالٹ سے شروع ہوکر نمائش چورنگی تک جائے گا جب کہ اس منصوبے کا آغاز 2022 میں ہوا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ریڈ لائن منصوبہ یونیورسٹی روڈ بارش کے روڈ پر
پڑھیں:
پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘حکومتی دعوﺅں کے برعکس حالیہ بارشوں میں پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، بارشوں میں چھتیں گرنے سے 15 افراد جاں بحق ہوئے‘کرنٹ لگنے سے 3 اور آسمانی بجلی گرنے سے 2 افرادجاں بحق ہوئے‘ بارش کے پانی میں ڈوبنے سے ایک شخص جاں بحق ہوا جبکہ 38 مکانات متاثر ہوئے.(جاری ہے)
پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے مون سون بارشوں کے باعث نقصانات سے متعلق رپورٹ جاری کی ہے ترجمان پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق مون سون بارشوں کے باعث پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، بارشوں میں چھتیں گرنے سے 15 افراد جاں بحق ہوئے ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ جاں بحق افراد کے خاندانوں کو 10 سے 50 لاکھ روپے تک امداد فراہم کی جا رہی ہے. ادھرمحکمہ موسمیات نے ملک بھر میں موسلا دھار بارش کی پیش گوئی کر تے ہوئے نشیبی علاقے زیر آب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خدشات ظاہر کیئے ہیں رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پورے ملک میں تیز ہواﺅں اور گرج چمک کے ساتھ بیشتر مقامات پر وقفے وقفے سے بارش کا امکان ہے. صوبائی دارلحکومت لاہور میں آج ہونے والی بارش سے واپڈا ٹاﺅن‘ جوہر ٹاﺅن‘ گلبرگ اور ڈیفنس ‘ او پی ایف سوسائٹی‘ ایل ڈی اے ایونیو‘ فیصل ٹاﺅن‘ماڈل ٹاﺅن‘علامہ اقبال ٹاﺅن‘مسلم ٹاﺅن‘گارڈن ٹاﺅن‘سبزہ زار‘ملتان روڈسمیت شہر بھر میں تیزبارش سے شہر کی مرکزی شاہرائیں ندیوں کا منظرپیش کرتی رہیں جبکہ شہر کے نشیبی علاقوں میں پانی گھر میں داخل ہوگیا. شمالی لاہوراور اندرون شہر میں بھی بارش کی پانی کی وجہ سے معمولات زندگی شدید متاثرہوئے . محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ چند گھنٹوں کے دوران بھی مزید بارش کا امکان ہے محکمہ موسمیات کے مطابق شام کے وقت درجہ حرات 28ڈگری ریکارڈ کیا گیا جبکہ شہر میں 11 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل رہی ہیں تاہم ہوا میں نمی کا تناسب 95 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جس کے باعث موسم مرطوب مگر خوشگوار محسوس کیا جا رہا ہے.