اسلام آباد ہائیکورٹ کا سی ڈے اے تحلیل، اثاثے میٹرو پولیٹن کارپوریشن کو منتقل کرنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 29th, June 2025 GMT
اسلام آباد:
اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی حکومت کو سی ڈی اے کو تحلیل کرنے کی ہدایت کردی،جسٹس محسن اختر کیانی نے فیصلے میں کہا ہے کہ سی ڈی اے کے پاس ٹیکسز لگانے کا کوئی قانونی اختیار نہیں ہے۔
براہ راست رسائی یا رائٹ آف وے چارجز کے نام پر سی ڈی اے نے اگر کسی شخص یا ادارے سے کوئی رقم وصول کی ہے تو وہ واپس کی جائے۔ سی ڈی اے تحلیل کر کے تمام اختیارات اور اثاثے میٹروپولیٹن کارپوریشن کو منتقل کیے جائیں۔
اسلام آباد کے شہریوں کے حقوق کا تحفظ قانون کے تحت یقینی بنایا جائے۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے تجی ہاؤسنگ سوسائٹی اور اس کے رہائشیوں کی جانب سے دائر درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سی ڈی اے کا رائٹ آف وے اور ایکسس چارجز سے متعلق 9 جون 2015 کا ایس آر او کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔
ایس آر او کے تحت سی ڈی اے کے تمام اقدامات غیرقانونی قرار دیے جاتے ہیں۔ سی ڈی اے نے ایس آر او کے تحت کسی سے کوئی رقم وصول کی تو واپس کی جائے۔ سی ڈی اے آرڈیننس وفاقی حکومت کے قیام اور اس کے ترقیاتی کاموں کیلیے نافذ کیا گیا تھا۔
نئے قوانین اور گورننس سے سی ڈی اے آرڈیننس کی عملی افادیت ختم اور اسکے قیام کا مقصد پورا ہو چکا، یقینی بنایا جائے کہ اختیارات منتقلی کے بعد اسلام آباد ایڈمنسٹریشن شفاف اور قابلِ احتساب ہو۔ فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ اسلام آباد کا تمام ایڈمنسٹریٹو، ریگولیٹری اور میونسپل فریم ورک لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے تحت کام کرتا ہے جو منتخب نمائندوں کے ذریعے گورننس کا خصوصی قانون ہے جس کے مطابق لوکل گورنمنٹ کی منظوری کے بغیر ٹیکسز نہیں لگائے جا سکتے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسلام ا باد سی ڈی اے کے تحت
پڑھیں:
نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔
سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔
اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں