پاکستان کی معیشت میں نمایاں بہتری: بلوم برگ رپورٹ پر وزیراعظم کا اظہارِ اطمینان
اشاعت کی تاریخ: 29th, June 2025 GMT
وزیراعظم شہباز شریف نے ہفتے کے روز پاکستان کی معیشت میں استحکام سے متعلق عالمی خبررساں ادارے بلوم برگ کی رپورٹ پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ رپورٹ میں مختلف شعبوں میں اہم ادارہ جاتی اصلاحات، آئی ایم ایف کے ساتھ کامیاب معاہدہ، اور قرضوں کی بروقت ادائیگیوں کو سراہا گیا ہے، جو حکومت کی معاشی صورتحال میں بہتری کا ثبوت ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ “پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے جنہوں نے گزشتہ 12 ماہ کے دوران معیشت میں نمایاں بہتری دکھائی ہے۔ پاکستان اپنے مضبوط معاشی مستقبل کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے۔” انہوں نے کہا کہ بہتر ہوتے معاشی اشاریے حکومت کی معاشی ٹیم کی مسلسل محنت اور عزم کا نتیجہ ہیں۔
بلوم برگ نے ایک سینئر مالیاتی افسر کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ پاکستان نے گزشتہ سال کے دوران دنیا بھر میں خود مختاری کی ڈیفالٹ رسک میں سب سے زیادہ کمی ریکارڈ کی ہے اور وہ “بلوم برگ انٹیلیجنس” کی عالمی ابھرتی ہوئی منڈیوں (Emerging Markets) کی فہرست میں کریڈٹ رسک میں بہتری کے لحاظ سے سرفہرست ہے۔
بلوم برگ کی تحقیقاتی ٹیم کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کا کریڈٹ ڈیفالٹ سویپ (CDS) سے ماخوذ ڈیفالٹ کا امکان 59 فیصد سے کم ہو کر 47 فیصد پر آ گیا ہے، جو 12 ماہ میں 11 فیصد پوائنٹس کی کمی ظاہر کرتا ہے۔ یہ کمی ارجنٹینا، تیونس اور نائیجیریا جیسے ممالک کو پیچھے چھوڑ گئی ہے، جبکہ مصر، گبون اور ترکی جیسے ممالک میں ڈیفالٹ رسک میں اضافہ ہوا ہے۔
وزارت خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے سوشل میڈیا پر بیان میں کہا کہ “پاکستان عالمی سطح پر واحد معیشت ہے جس نے خود مختاری کے ڈیفالٹ رسک میں سب سے زیادہ بہتری دکھائی ہے۔ یہ دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کے لیے ایک مثبت پیغام ہے کہ پاکستان نہ صرف عالمی منظرنامے پر واپس آ چکا ہے بلکہ استحکام، اعتماد اور اصلاحات کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔”
بلوم برگ انٹیلیجنس ایک معتبر مالیاتی تجزیاتی ادارہ ہے جسے دنیا بھر کے سرمایہ کار اور ماہرین استعمال کرتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے 2023 میں ڈیفالٹ سے بال بال بچنے کے بعد آئی ایم ایف کے ساتھ قلیل مدتی بیل آؤٹ پیکج حاصل کیا، جس میں سعودی عرب، یو اے ای اور چین جیسے اہم اتحادیوں کا تعاون شامل تھا۔
اس کے بعد پاکستان نے آئی ایم ایف کی سفارشات پر عمل کرتے ہوئے متعدد ساختی اصلاحات اور مالی اقدامات اٹھائے جن کا مقصد معیشت کو استحکام دینا ہے۔ اسٹینڈرڈ اینڈ پورز اور فچ جیسی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیز نے بھی پاکستان کی بہتری کو تسلیم کرتے ہوئے آؤٹ لک میں بہتری ظاہر کی ہے۔
خرم شہزاد نے اس بہتری کو “معاشی استحکام، ساختی اصلاحات، آئی ایم ایف کے ساتھ کامیاب روابط اور بروقت قرضوں کی ادائیگی” کا نتیجہ قرار دیا، اور کہا کہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو رہا ہے۔
انڈس واٹرز معاہدے پر عالمی عدالت کا فیصلہ، پاکستان کا موقف مضبوط
وزیراعظم شہباز شریف نے انڈس واٹرز ٹریٹی سے متعلق مستقل ثالثی عدالت کے ضمنی فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ عدالتی فیصلہ پاکستان کے مؤقف کو تقویت دیتا ہے اور بھارت کو یہ اختیار نہیں کہ وہ معاہدہ یک طرفہ طور پر معطل کرے۔
وزیراعظم نے کہا کہ “ہم آبی وسائل پر کام کر رہے ہیں کیونکہ پانی عوام کی زندگی کا لازمی جز ہے۔” وزیراعظم آفس کے میڈیا وِنگ کے مطابق، وزیراعظم نے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان کی کوششوں کو بھی سراہا۔
ملک میں بارشوں کی صورتحال پر وزیراعظم کی ہدایات
وزیراعظم شہباز شریف اور این ڈی ایم اے کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں چیئرمین نے ملک بھر میں حالیہ بارشوں کی صورتحال سے آگاہ کیا۔
وزیراعظم آفس کے مطابق، وزیراعظم نے چیئرمین این ڈی ایم اے کو بالائی علاقوں میں صوبائی حکومتوں سے رابطے میں رہنے اور فوری امداد کی فراہمی کی ہدایت کی۔ وزیراعظم نے ریسکیو ایجنسیز، ضلعی انتظامیہ اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ مؤثر رابطہ رکھنے اور عوام کو موسم سے متعلق بروقت ایس ایم ایس کے ذریعے آگاہ کرنے کی بھی ہدایت جاری کی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آئی ایم ایف نے کہا کہ بلوم برگ کے ساتھ
پڑھیں:
پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔