امریکا ایرانی جوہری تنصیبات مکمل تباہ کرنے میں ناکام رہا، مہینوں میں دوبارہ سرگرمی شروع ہوسکتی ہے، سربراہ آئی اے ای اے
اشاعت کی تاریخ: 29th, June 2025 GMT
اقوام متحدہ کے جوہری نگرانی کے ادارے (آئی اے ای اے) کے سربراہ رائفیل گروسی کا کہنا ہے کہ امریکا کے ایران پر حملے ایران کے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر تباہ کرنے میں ناکام رہے ہیں اور تہران چند مہینوں میں یورینیم افزودگی دوبارہ شروع کر سکتا ہے۔
یہ بیان صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ان دعوؤں کے برعکس ہے جن میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکا نے تہران کے ایٹمی پروگرام کو مکمل تباہ کرکے اس کے جوہری عزائم کو دہائیوں پیچھے دھکیل دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ایرانی جوہری تنصیبات تباہ ہوگئی ہیں، میڈیا شکوک پھیلا رہا ہے، امریکی وزیر دفاع
رائفیل گروسی کا یہ بیان امریکی انٹیلجنس کے ان ابتدائی اندازوں کے مطابق ہیں جن میں عندیہ دیا گیا تھا کہ امریکا کے پچھلے ہفتے ایران کے اہم جوہری مقامات پر حملوں نے اس کے جوہری پروگرام کے بنیادی اجزا کو تباہ نہیں کیا اور ممکنہ طور پر اسے صرف چند مہینوں کے لیے پیچھے دھکیل دیا ہے۔
حال ہی میں امریکی فوجی حکام نے حملوں کی منصوبہ بندی کے بارے میں کچھ نئی معلومات فراہم کی ہیں، لیکن انہوں نے ایران کے جوہری پروگرام کو پہنچنے والے نقصانات کے بارے میں کوئی نئی شہادت پیش نہیں کی ہے۔ البتہٰ وہ بضد ہیں کہ ان کے حملوں سے ایرانی جوہری پروگرام مکمل طور پر تباہ ہوچکا ہے۔
ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ایران کی صلاحیتیں موجود ہیں۔ وہ چند مہینوں میں یورینیم افزودگی کی طرف جاسکتے ہیں۔ لیکن جیسا کہ میں نے کہا، حقیقت میں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ سب کچھ غائب ہو گیا ہے اور کچھ بھی باقی نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیے: امریکی حملے ایران کی جوہری تنصیبات تباہ کرنے میں ناکام، ’انٹیلیجنس رپورٹ‘
انہوں نے زور دیا کہ نقصان شدید ہوا ہے، مگر یہ مکمل تباہی نہیں ہے، ایران کے پاس صنعتی اور تکنیکی صلاحیتیں موجود ہیں، اگر وہ چاہیں، تو یہ دوبارہ شروع کر سکتے ہیں۔
گروسی نے یہ بھی بتایا کہ آئی اے ای اے یہ یہ کہنے کے لیے دباؤ کے خلاف مزاحمت کی ہے کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار ہیں اور یا وہ ہتھیار بنانے کے قریب ہیں۔ ایران اس سے قبل اسرائیلی اور امریکی حملوں سے پہلے ایجنسی کو معلومات فراہم کر رہا تھا، مگر کچھ امور ایسے تھے جنہیں وہ واضح کرنے سے گریز کر رہا تھا۔
یہ بھی پڑھیے: ایرانی جوہری تنصیبات کو سب سے بڑا نقصان سطح زمین سے بہت گہرائی میں ہوا، ٹرمپ
گروسی نے ایران پر زور دیا کہ وہ ان کے ادارے کو اپنی جوہری سرگرمیوں کا جائزہ لینے کے لیے رسائی فراہم کرے۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے حالیہ اسرائیلی اور امریکی حملوں سے پہلے معلومات فراہم کی تھیں، مگر ہمارے لیے کچھ چیزیں واضح نہیں تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ایران میں دوسری ایسی جگہوں پر یورینیم ملے جنہیں ایران نے جوہری تنصیب قرار نہیں دیا تھا۔ ہم اس کا جواب مانگ رہے تھے مگر کئی سالوں سے ہمیں اس کا جواب نہیں مل رہا تھا۔
اس سوال کے جواب پر کہ کیا ایران نے حملوں سے قبل یورینیم جوہری تنصیبات سے منتقل کردیا تھا، آئی اے ای اے کے سربراہ نے کہا کہ یہ ہوسکتا ہے مگر ہمیں نہیں معلوم کہ یہ کہاں لے جایا جاسکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جوہری تنصیبات جوہری پروگرام ایرانی جوہری انہوں نے کہا آئی اے ای اے نے کہا کہ ایران کے کے جوہری جوہری پر حملوں سے کے لیے یہ بھی
پڑھیں:
آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘
امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔
مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔
وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔
مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔