میاں منظور وٹو کی گاڑی میں بیٹھ کر نماز جنازہ کی ادائیگی، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل
اشاعت کی تاریخ: 29th, June 2025 GMT
سابق وزیراعلیٰ پنجاب اور سینیئر سیاستدان میاں منظور احمد وٹو کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہے جس میں انہیں نمازِ جنازہ کے دوران ایئرکنڈیشنڈ گاڑی میں بیٹھے ہوئے دکھایا گیا، جب کہ دیگر افراد شدید گرمی میں صفوں میں کھڑے ہو کر نماز ادا کررہے تھے۔ یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر شدید عوامی تنقید کا نشانہ بن رہی ہے۔
ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ نمازِ جنازہ ادا کی جا رہی ہے، جبکہ میاں منظور وٹو اپنی گاڑی میں موجود ہیں جو کہ بظاہر صفِ اول میں کھڑی ہے۔
اس منظر کو دیکھتے ہوئے متعدد صارفین نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر وہ شرکت کے خواہشمند تھے تو گاڑی کو پیچھے کھڑا کرکے ویل چیئر یا کرسی کا استعمال کیا جا سکتا تھا۔
میاں منظور وٹو نماز جنازہ پر گئے گرمی میں لوگوں کے ساتھ کھڑے ہونے کے بجائے اپنی AC والی گاڑی میں نماز جنازہ پڑھی ان کو کہتے ہیں طاقت ور اشرافیہ pic.
— Mian Naeem (@Miannaeem07) June 29, 2025
صارفین نے منظور وٹو کے طرز عمل کو طاقتور اشرافیہ کی علامت قرار دیا ہے، جو خود کو عوام سے بالاتر سمجھتے ہیں۔ ایک صارف نے تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ ایسی حرکتیں عام آدمی اور اشرافیہ کے درمیان فرق کو مزید نمایاں کرتی ہیں۔
میاں منظور وٹو جو ماضی میں پنجاب اسمبلی کے اسپیکر اور وزیر اعلیٰ جیسے اہم عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں، اس ویڈیو کے بعد سوشل میڈیا پر عوامی تنقید کی زد میں آ گئے ہیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات عوام کے سیاسی رہنماؤں پر اعتماد کو مجروح کرتے ہیں۔
دوسری جانب تاحال میاں منظور وٹو یا ان کے کسی ترجمان کی جانب سے اس معاملے پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews پیپلزپارٹی رہنما سوشل میڈیا گاڑی منظور وٹو نماز جنازہ وی نیوز ویڈیو وائرل
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پیپلزپارٹی رہنما سوشل میڈیا گاڑی منظور وٹو وی نیوز ویڈیو وائرل میاں منظور وٹو سوشل میڈیا پر گاڑی میں
پڑھیں:
روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ
طالبان حکومت اور روس کے درمیان حالیہ سفارتی و سیکیورٹی روابط کے تناظر میں افغان سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث نے جنم لے لیا ہے، جہاں متعدد صارفین اور سیاسی مبصرین طالبان کے بانی ملا عمر کی سوویت یونین کے خلاف جدوجہد اور موجودہ طالبان قیادت کے روس کے ساتھ تعلقات کو موضوعِ بحث بنا رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والی مختلف پوسٹس، تبصروں اور سیاسی خاکوں میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ملا عمر نے افغانستان کی آزادی اور خودمختاری کے لیے سوویت افواج کے خلاف طویل جدوجہد کی تھی، جبکہ آج ان کے صاحبزادے اور طالبان حکومت کے وزیر دفاع ملا محمد یعوقب روس کے ساتھ تعلقات کو فروغ دے رہے ہیں۔ ناقدین اس صورتحال کو ’تاریخی تضاد‘ قرار دیتے ہوئے سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا موجودہ پالیسی طالبان کی ماضی کی جدوجہد سے مطابقت رکھتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بہت ہوگیا، اب افغان طالبان کی تجاویز نہیں حل چاہیے، اور حل ہم نکالیں گے: ڈی جی آئی ایس پی آر
سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی ایک تحریر میں کہا گیا ہے کہ سوویت جنگ کے دوران ہزاروں افغان شہری جانوں سے گئے، دیہات تباہ ہوئے اور کئی نسلیں جنگ کے اثرات کا شکار رہیں۔ اس تناظر میں بعض حلقے روس کے ساتھ بڑھتے تعلقات پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں اور سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا افغانستان اپنی تاریخ کے تلخ اسباق کو فراموش کر رہا ہے۔
بعض پوسٹس میں طالبان حکومت اور روس کے درمیان مبینہ سیکیورٹی تعاون کے دعوے بھی کیے گئے ہیں۔ ان دعوؤں کے مطابق روس اور طالبان کے درمیان عسکری شعبے میں روابط بڑھ رہے ہیں، تاہم ان اطلاعات کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔ طالبان حکام بھی اس حوالے سے مختلف مواقع پر یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ ان کے خارجہ تعلقات قومی مفادات اور موجودہ علاقائی ضروریات کے مطابق استوار کیے جا رہے ہیں۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ افغانستان گزشتہ کئی دہائیوں سے عالمی طاقتوں کی رقابتوں کا مرکز رہا ہے۔ سوویت یونین کے انخلا، امریکی مداخلت اور بعد ازاں طالبان کی واپسی کے بعد خطے کی جغرافیائی سیاست میں مسلسل تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ ایسے میں طالبان حکومت کی روس، چین اور دیگر علاقائی طاقتوں کے ساتھ بڑھتی قربت کو بعض ماہرین ایک سفارتی ضرورت قرار دیتے ہیں، جبکہ ناقدین اسے ماضی کے نظریاتی مؤقف سے انحراف کے طور پر دیکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:افغان طالبان ہماری تجاویز سے متفق مگر تحریری معاہدہ کرنے پر تیار نہیں، رانا ثنااللہ
دوسری جانب طالبان کے حامی حلقوں کا مؤقف ہے کہ بین الاقوامی تعلقات مستقل دشمنی یا دوستی کے بجائے قومی مفادات کی بنیاد پر استوار ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ افغانستان کو معاشی استحکام، سفارتی روابط اور علاقائی تعاون کی ضرورت ہے، جس کے لیے مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات ناگزیر ہیں۔
افغان سوشل میڈیا پر جاری اس بحث نے ایک بار پھر یہ سوال زندہ کر دیا ہے کہ بدلتے عالمی حالات میں نظریاتی جدوجہد اور عملی سیاست کے درمیان توازن کیسے برقرار رکھا جائے۔ ملا عمر کی تاریخی جدوجہد اور موجودہ طالبان قیادت کی سفارتی حکمت عملی کے درمیان موازنہ آنے والے دنوں میں بھی سیاسی اور عوامی حلقوں میں زیر بحث رہنے کا امکان ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں