سابق وزیراعلیٰ پنجاب اور سینیئر سیاستدان میاں منظور احمد وٹو کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہے جس میں انہیں نمازِ جنازہ کے دوران ایئرکنڈیشنڈ گاڑی میں بیٹھے ہوئے دکھایا گیا، جب کہ دیگر افراد شدید گرمی میں صفوں میں کھڑے ہو کر نماز ادا کررہے تھے۔ یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر شدید عوامی تنقید کا نشانہ بن رہی ہے۔

ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ نمازِ جنازہ ادا کی جا رہی ہے، جبکہ میاں منظور وٹو اپنی گاڑی میں موجود ہیں جو کہ بظاہر صفِ اول میں کھڑی ہے۔

اس منظر کو دیکھتے ہوئے متعدد صارفین نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر وہ شرکت کے خواہشمند تھے تو گاڑی کو پیچھے کھڑا کرکے ویل چیئر یا کرسی کا استعمال کیا جا سکتا تھا۔

میاں منظور وٹو نماز جنازہ پر گئے گرمی میں لوگوں کے ساتھ کھڑے ہونے کے بجائے اپنی AC والی گاڑی میں نماز جنازہ پڑھی ان کو کہتے ہیں طاقت ور اشرافیہ pic.

twitter.com/hzd3PsmHJQ

— Mian Naeem (@Miannaeem07) June 29, 2025

صارفین نے منظور وٹو کے طرز عمل کو طاقتور اشرافیہ کی علامت قرار دیا ہے، جو خود کو عوام سے بالاتر سمجھتے ہیں۔ ایک صارف نے تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ ایسی حرکتیں عام آدمی اور اشرافیہ کے درمیان فرق کو مزید نمایاں کرتی ہیں۔

میاں منظور وٹو جو ماضی میں پنجاب اسمبلی کے اسپیکر اور وزیر اعلیٰ جیسے اہم عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں، اس ویڈیو کے بعد سوشل میڈیا پر عوامی تنقید کی زد میں آ گئے ہیں۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات عوام کے سیاسی رہنماؤں پر اعتماد کو مجروح کرتے ہیں۔

دوسری جانب تاحال میاں منظور وٹو یا ان کے کسی ترجمان کی جانب سے اس معاملے پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews پیپلزپارٹی رہنما سوشل میڈیا گاڑی منظور وٹو نماز جنازہ وی نیوز ویڈیو وائرل

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پیپلزپارٹی رہنما سوشل میڈیا گاڑی منظور وٹو وی نیوز ویڈیو وائرل میاں منظور وٹو سوشل میڈیا پر گاڑی میں

پڑھیں:

ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی

امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔

رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔

خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔

اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • ’میمز‘ سے انقلاب؟ سی جے پی احتجاج میں جین زی کا نیا انداز
  • طلاق کی افواہیں بے بنیاد؟ شہزادی بیٹریس کی شوہر کے ہمراہ نئی خوشگوار تصویر وائرل
  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • گلاسگو کی فضاؤں میں دیو ہیکل ڈریگن کی پرواز، وائرل ویڈیوز نے سب کو دنگ کردیا