اسحاق ڈار کا حکان فدان سے رابطہ، علاقائی پیشرفت پر تبادلہ خیال
اشاعت کی تاریخ: 29th, June 2025 GMT
دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اور ترک وزیر خارجہ نے ایک ٹیلیفونک گفتگو میں دوطرفہ اور کثیر الطرفہ تعاون پر تبادلہ خیال کیا جس میں حالیہ علاقائی پیشرفتوں پر بھی گفتگو ہوئی۔ اسلام ٹائمز۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ترک وزیر خارجہ حکان فدان کے درمیان رابطہ ہوا ہے جس میں علاقائی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دفتر خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان کے مطابق اسحاق ڈار اور حکان فدان نے دوطرفہ اور کثیر الطرفہ تعاون پر تبادلہ خیال کیا جس میں حالیہ علاقائی پیشرفتوں پر بھی گفتگو ہوئی۔ ترجمان نے بتایا کہ دونوں راہنماؤں نے ملائیشیا میں ہونے والے آئندہ آسیان ریجنل فورم کے بارے میں بھی بات چیت کی۔
یاد رہے کہ اسحاق ڈار جولائی میں امریکا اور چین سمیت 4 اہم ممالک کے دورے کریں گے۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سب سے پہلے آذر بائیجان کا دورہ کریں گے، اسحاق ڈار جولائی میں ایس سی او وزرائے خارجہ ملاقات کے لیے چین جائیں گے۔ اسحاق ڈار یو این سیکیورٹی کمیٹی اجلاس کی صدارت کے لیے جولائی میں ہی امریکا کا دورہ بھی کریں گے اور نائب وزیر اعظم جولائی میں ہی ملائیشیا کا دورہ کریں گے۔
قبل ازیں وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان نے ایران پر اسرائیلی جارحیت کی بھرپور مذمت کی، امریکا کے ساتھ اچھے تعلقات کا یہ مطلب نہیں کہ غلط چیزوں میں بھی اس کا ساتھ دیں۔ ہمیں پتا تھا کہ ایران بدلہ لیے بغیر نہیں رہے گا، یہ ہمارا اسلامی و اخلاقی فرض ہے کہ ہم ایران کو سپورٹ کریں، ایران کو پس پردہ ہماری بھرپور سیاسی حمایت حاصل تھی تاکہ ایران کو نیچا نہ دکھایا جاسکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پر تبادلہ خیال جولائی میں اسحاق ڈار کریں گے
پڑھیں:
ٹرمپ کا ایران سے تحریری وعدے کا مطالبہ!
امریکی ذرائع کے مطابق، بین الاقوامی معاہدوں پر "انتہائی کم عمر دستخط" کے حامل انتہاء پسند امریکی صدر نے اس بار تہران سے "موجودہ تعطل پر قابو پانے کیلئے" تحریری عزم کا مطالبہ کیا ہے اسلام ٹائمز۔ امریکی حکام نیز ایک باخبر ذریعے سے نقل کرتے ہوئے امریکی چینل اے بی سی نیوز نے انکشاف کیا ہے کہ انتہاء پسند امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خواہش ظاہر کی ہے کہ تہران اس مرتبہ، "امریکہ کے ساتھ ابتدائی معاہدے" کے طور پر، مخصوص جوہری رعایتیں تحریری انداز میں پیش کرے۔ اے بی سی کے ذرائع نے تفصیلات فراہم کئے بغیر دعوی کیا کہ ایرانی مذاکراتکاروں نے پہلے زبانی طور پر اس بات کی ضمانت دی تھی کہ تہران بالآخر اپنے "جوہری پروگرام" سے متعلق کچھ شرائط پر راضی ہو جائے گا لیکن امریکی صدر نے جمعے کے روز سیچویشن روم میں ہونے والی ملاقات میں یہ نتیجہ اخذ کیا کہ یہ وعدے کافی مضبوط نہیں۔
ادھر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے منگل کے روز سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سامنے اپنی رپورٹنگ کے سیشن کے دوران کسی بھی معاہدے پر پہنچنے سے قبل، ایران سے ٹرمپ انتظامیہ کی توقعات کی تفصیلات بتائی ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کے دیگر اہلکاروں کی طرح ایران کے لئے گوناگوں شرائط بیان کرتے ہوئے، واشنگٹن کی جانب سے تہران کو دی جانے والی مراعات کے بارے مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ تفصیلات، اور اسی طرح تہران کے لئے مالی مراعات کا تعین بھی بعد میں کیا جائے گا۔ انتہاء پسند امریکی صدر سے نقل کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ مثال کے طور پر، اُنہیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم افزودہ یورینیم کو ضائع کر دیں گے.. اور اب سوال یہ ہے کہ ایسا کرنے کا طریقہ کار کیا ہے؟.. اور یہ بات مذاکرات کے قابل ہے!