ٹرمپ کوئی معاہدہ چاہتے ہیں تو خامنہ ای کے لیے توہین آمیز لہجہ ترک کردیں‘ ایرانی وزیر خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 29th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ واقعی کسی معاہدے کے خواہش مند ہیں تو اُنہیں اسلامی انقلاب کے رہبر، آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے بارے میں توہین آمیز اور ناقابل قبول لہجے کو ترک کر دینا چاہیے‘ ان کے لاکھوں مخلص پیروکاروں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانا بند کرنا ہوگا۔ عباس عراقچی نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’ایرانیوں کی پیچیدگی اور استقامت دنیا بھر میں ہماری عظیم الشان قالینوں کے ذریعے جانی جاتی ہے، جو محنت اور صبر سے تیار کی جاتی ہیں، لیکن بطور قوم ہمارا مؤقف بہت سادہ اور صاف ہے، ہم اپنی قدر جانتے ہیں، اپنی آزادی کو اہمیت دیتے ہیں اور کبھی کسی کو یہ حق نہیں دیتے کہ وہ ہمارا مستقبل طے کرے‘۔ وزیر خارجہ نے مزید لکھا کہ ’ایرانی عوام، جو دنیا کو دکھا چکے ہیں کہ اسرائیلی حکومت کے پاس ہمارے میزائلوں سے بچنے کے لیے ’ڈیڈی‘ کے پاس بھاگنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا، دھمکیوں اور توہین کو ہرگز برداشت نہیں کرتے‘۔ انہوں نے لکھا کہ ’اگر غلط فہمیوں نے مزید غلط فیصلوں کو جنم دیا، تو ایران بلاجھجک اپنی اصل طاقت کا مظاہرہ کرے گا، جو ایران کی قوت کے بارے میں ہر مغالطے کا خاتمہ کر دے گا‘۔یاد رہے کہ گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ جنگ زدہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے اتنی احمقانہ بات کیوں کی کہ ایران نے اسرائیل کے ساتھ جنگ جیت لی، جب کہ انہیں معلوم ہے کہ ان کا یہ بیان جھوٹ ہے، اور حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اپنے ٹروتھ سوشل میڈیا پر ایک پیغام میں امریکی صدر نے کہا کہ ایک ایسے شخص کے طور پر جو خود کو بہت دین دار کہتا ہے، اسے جھوٹ نہیں بولنا چاہیے، اس کا ملک تباہ ہو چکا ہے، اس کی 3 خطرناک نیوکلیئر سائٹس کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے اور مجھے بالکل معلوم تھا کہ وہ کہاں چھپا ہوا ہے اور میں نے اسرائیل یا امریکی مسلح افواج (جو دنیا کی سب سے عظیم اور طاقتور فورسز ہیں) کو ان کی جان لینے کی اجازت نہیں دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔