data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ واقعی کسی معاہدے کے خواہش مند ہیں تو اُنہیں اسلامی انقلاب کے رہبر، آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے بارے میں توہین آمیز اور ناقابل قبول لہجے کو ترک کر دینا چاہیے‘ ان کے لاکھوں مخلص پیروکاروں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانا بند کرنا ہوگا۔ عباس عراقچی نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’ایرانیوں کی پیچیدگی اور استقامت دنیا بھر میں ہماری عظیم الشان قالینوں کے ذریعے جانی جاتی ہے، جو محنت اور صبر سے تیار کی جاتی ہیں، لیکن بطور قوم ہمارا مؤقف بہت سادہ اور صاف ہے، ہم اپنی قدر جانتے ہیں، اپنی آزادی کو اہمیت دیتے ہیں اور کبھی کسی کو یہ حق نہیں دیتے کہ وہ ہمارا مستقبل طے کرے‘۔ وزیر خارجہ نے مزید لکھا کہ ’ایرانی عوام، جو دنیا کو دکھا چکے ہیں کہ اسرائیلی حکومت کے پاس ہمارے میزائلوں سے بچنے کے لیے ’ڈیڈی‘ کے پاس بھاگنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا، دھمکیوں اور توہین کو ہرگز برداشت نہیں کرتے‘۔ انہوں نے لکھا کہ ’اگر غلط فہمیوں نے مزید غلط فیصلوں کو جنم دیا، تو ایران بلاجھجک اپنی اصل طاقت کا مظاہرہ کرے گا، جو ایران کی قوت کے بارے میں ہر مغالطے کا خاتمہ کر دے گا‘۔یاد رہے کہ گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ جنگ زدہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے اتنی احمقانہ بات کیوں کی کہ ایران نے اسرائیل کے ساتھ جنگ جیت لی، جب کہ انہیں معلوم ہے کہ ان کا یہ بیان جھوٹ ہے، اور حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اپنے ٹروتھ سوشل میڈیا پر ایک پیغام میں امریکی صدر نے کہا کہ ایک ایسے شخص کے طور پر جو خود کو بہت دین دار کہتا ہے، اسے جھوٹ نہیں بولنا چاہیے، اس کا ملک تباہ ہو چکا ہے، اس کی 3 خطرناک نیوکلیئر سائٹس کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے اور مجھے بالکل معلوم تھا کہ وہ کہاں چھپا ہوا ہے اور میں نے اسرائیل یا امریکی مسلح افواج (جو دنیا کی سب سے عظیم اور طاقتور فورسز ہیں) کو ان کی جان لینے کی اجازت نہیں دی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان

ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام