سلامتی کونسل میں خواجہ آصف کے پیچھے بیٹھی خاتون کون؟ وزیر دفاع کے بیان پر وزارت خارجہ کی وضاحت
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
ویب ڈیسک : وزیر دفاع خواجہ آصف نے سلامتی کونسل میں تقریر کے دوران اپنے پیچھے بیٹھی خاتون کے حوالے سے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ خاتون کون ہیں اور ان کے پیچھے کیسے بیٹھیں، یہ وزارت خارجہ کی ذمہ داری ہے اس لیے مناسب ہے کہ اس معاملے کا جواب وہی دیں۔
سوشل میڈیا پر وزیر دفاع خواجہ آصف کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تقریر کے دوران کی ایک تصویر وائرل ہو رہی ہے جس میں ان کے پیچھے ایک خاتون کو بھی بیٹھے دیکھا جا سکتا ہے۔
مجسٹریٹ کافوڈاتھارٹی کی قبضےمیں لی گئی اشیاملزم کوسپرداری پردینےکاآرڈرکالعدم قرار
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں متعلقہ خاتون کی پاکستانی وفد کے ساتھ موجودگی اور پھر خواجہ آصف کے پیچھے براجمان ہونے سے متعلق سوشل میڈیا پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔
سوشل میڈیا پر برپا ہونے والے طوفان پر خواجہ آصف بھی خاموش نہ رہے اور ایکس اکاؤنٹ پر ایک تفصیلی پوسٹ لکھ کر وائرل ہونے والی تصویر سے متعلق وضاحت پیش کی۔
خواجہ آصف نے اپنی پوسٹ میں لکھا وزیراعظم مصروف تھے اس لیے ان کی جگہ میں نے سلامتی کونسل میں یہ تقریر کی تھی، یہ خاتون یا کس نے میرے پیچھے بیٹھنا ہے دفتر خارجہ کی صوابدید و اختیار تھا اور ہے، فلسطین کے مسئلے کے ساتھ میرا 60 سال سے جذباتی لگاؤ اور کمٹمنٹ ہے۔
ایف آئی اے کراچی زون کی کارروائی ؛حوالہ ہنڈی اور غیر قانونی کرنسی ایکسچینج میں ملوث 2 ملزم گرفتار
وزیر دفاع نے لکھا ابو ظبی بینک میں ملازمت کے دوران فلسطینی دوست اور کولیگ بنے اور آج بھی ان کے ساتھ رابطہ ہے، غزہ سے متعلق میرے خیالات واضح ہیں اور میں ان کا برملا اظہار کرتا ہوں۔
انہوں نے مزید لکھا اسرائیل اور صیہونیت پر میرے خیالات نفرت کے سوا اور کچھ نہیں، یہ خاتون کون ہیں اور وفد میں ہمارے ساتھ کیوں ہیں اور ان کو میرے پیچھے کیوں بٹھایا گیا، ان سوالوں کا جواب دفتر خارجہ ہی دے سکتا ہے۔
پنجاب حکومت سموگ کا مقابلہ کرنےکیلیے تیار؛ اینٹی سموگ گنز لاہور پہنچ گئیں
خواجہ آصف نے مزید لکھا کہ میرے لیے مناسب نہیں کہ ان کی (دفتر خارجہ) جانب سے جواب دوں، میرا ٹوئٹر اکاؤنٹ کی ہسٹری اس بات کی شہادت ہے کہ میرا فلسطین کے ساتھ رشتہ ایمان کہ حصہ ہے۔
دوسری جانب وزارت خارجہ نے خواجہ آصف کی ٹوئٹ کا جواب دیتے ہوئے لکھا سلامتی کونسل میں وزیر دفاع کی تقریر کے دوران ان کے پیچھے بیٹھی خاتون کے حوالے سے مختلف چیزیں سامنے آ رہی ہیں۔
وزارت خارجہ نے لکھا یہ واضح ہے کہ متعلقہ شخصیت اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80 ویں اجلاس کے لیے پاکستان کے اس آفیشل وفد کا حصہ نہیں ہے جسے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے منظور کیا اور نا ہی وزیر دفاع کی تقریر کے دوران متعلقہ خاتون کو وزیر دفاع کے پیچھے بیٹھنے کی منظوری وزیر دفاع نے دی تھی۔
اوپن اے آئی کا نیا فیچر "پلس" متعارف
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔