ٹرمپ نے امریکی کمپنیوں کو پاکستان میں فوری سرمایہ کاری کی ہدایت دی، وزیرِ اعظم شہباز شریف
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ امریکا پاکستان کے آئی ٹی اور دیگر اہم شعبوں میں سرمایہ کاری کے لیے تیار ہے اور ان کی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات دوطرفہ تعلقات کے لیے سنگِ میل ثابت ہوئی ہے۔
نیو جرسی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے بتایا کہ صدر ٹرمپ نے امریکی کمپنیوں سے فوری طور پر پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کی درخواست کی ہے۔
سرمایہ کاری کے مواقع زراعت، آئی ٹی، معدنیات اور توانائی کے شعبوں میں پیش کیے گئے، جبکہ معدنیات کی قیمت کا تعین دونوں ممالک کے درمیان منصفانہ طور پر کیا جائے گا۔
شہباز شریف نے کہا کہ مستقبل کے تجارتی معاہدے امریکہ کے ساتھ باہمی مفاد پر مبنی ہوں گے تاکہ تمام شعبوں میں متوازن تعاون یقینی بنایا جا سکے۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ امریکہ میں ان کا خیرمقدم ان کے ماضی کے سعودی عرب کے تجربے سے بھی بڑھ کر تھا، اور اسے ’چالیس سال میں بے مثال‘ قرار دیا۔
انہوں نے پاکستان آرمی کے کردار کو سراہا اور کہا کہ آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت نے بھارت کے ساتھ تنازع سے بچایا۔ انہوں نے امریکی کردار کو بھی تسلیم کیا اور کہا کہ امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ نے 10 مئی کو بھارت کا جنگ بندی پیغام پہنچایا۔
وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ کے ساتھ ملاقات میں نائب صدر جے ڈی وینس اور سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو بھی شامل تھے۔
اس ملاقات میں علاقائی سلامتی، انسداد دہشت گردی، انٹیلی جنس شیئرنگ اور تجارتی تعلقات پر بات ہوئی۔ وزیرِ اعظم نے صدر ٹرمپ کو پاکستان آنے کی دعوت بھی دی۔
شہباز شریف نے ٹرمپ کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی جرأت مند اور فیصلہ کن حکمت عملی نے پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑے بحران سے بچایا اور جنوبی ایشیا کو بڑے نقصان سے محفوظ رکھا۔
قبل ازیں، وزیرِ اعظم نے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ملاقات کی اور پاکستان میں بھارتی دہشت گردی کے مسئلے کو اجاگر کیا، کشمیر کے تنازع کے منصفانہ حل کے لیے زور دیا اور موسمیاتی متاثرہ ممالک کے لیے مزید مالی معاونت کی تجویز دی۔
چینی وزیرِ اعظم لی چیانگ کے ساتھ غیر رسمی ملاقات میں شہباز شریف کے یو این خطاب کو سراہا گیا اور دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعاون کی توثیق کی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سرمایہ کاری شہباز شریف کے ساتھ کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔