قومی یکجہتی، عالم اسلام کے مسائل حل کرنے کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے: ڈی جی آئی ایس پی آر
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
اسلام آباد+ لاہور (خصوصی نامہ نگاران+ لیڈی رپورٹر) ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے جامعہ عروۃ الوثقیٰ لاہور کے علماء اور طلبہ کے ساتھ ایک خصوصی نشست میں شرکت کی، جس میں قومی شعور، نوجوان نسل کی تربیت اور افواجِ پاکستان کی خدمات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ جامعہ پہنچنے پر ان کا شاندار استقبال کیا گیا اور "پاکستان زندہ باد" اور "پاکستان کا مطلب کیا، لا الہ الا اللہ" کے نعرے لگائے گئے۔ اس موقع پر مدیرِ اعلیٰ جامعہ، علامہ سید جواد نقوی نے کہا کہ نوجوان نسل کی تعلیم و تربیت میں قومی شعور کی بیداری ناگزیر ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ طلبہ و طالبات کو ملکی ذمہ داریوں کا شعور دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے اپنے خطاب میں کہا کہ نوجوان ملک کا مستقبل ہیں۔ انہیں محنت، ہمت اور حوصلے کے ساتھ آگے بڑھ کر ملک کے دفاع اور ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج نے ہر دور میں ملک کا کامیابی سے دفاع کیا ہے۔ آپریشن بنیان مرصوص نے نہ صرف پاکستان کی ساکھ کو بحال کیا بلکہ آج دنیا بھارت کی بجائے پاکستان کی طرف دیکھ رہی ہے اور عالمی سطح پر پاکستان کو عزت و وقار کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ طلبہ نے اس موقع پر پارا چنار کے حالات، غزہ میں جاری مظالم اور مجموعی طور پر مسلم دنیا کے مسائل سے متعلق سوالات بھی اٹھائے، جن پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے نوجوانوں کو یقین دلایا کہ پاک فوج ملک کے اندرونی امن و استحکام کے ساتھ ساتھ امتِ مسلمہ کو درپیش چیلنجز پر بھی گہری نظر رکھتی ہے اور پاکستان کی افواج ہر سطح پر قومی یکجہتی اور عالمِ اسلام کے مسائل کے حل میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں، جس کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔ طلباء و طالبات نے آپریشن بنیان مرصوص کی تاریخی کامیابی پر افواج پاکستان کو خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ جس خلوص اور وسعت قلبی سے ان کے سوالات کے مدلل جوابات دیے گئے، وہ نہایت خوش آئند اور حوصلہ افزا ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سوشل میڈیا پر پھیلائے جانے والے منفی پراپیگنڈے کے حوالے سے ان کے تمام شکوک و شبہات دور ہوگئے ہیں۔ طلبہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاک فوج ہماری آن و شان ہے اور پوری قوم سمیت تمام دینی مکاتب فکر اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور ہمیشہ کھڑے رہیں گے۔ یہ خصوصی نشست نوجوانوں میں قومی شعور کے فروغ اور افواج پاکستان کے مثبت کردار کی وضاحت کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوئی۔ دوسری جانب ڈی جی آئی ایس پی آر نے پنجاب یونیورسٹی لاہور کا دورہ کیا جہاں طلبہ اور انتظامیہ نے پرتپاک استقبال کیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کی طلبا و طالبات کے ساتھ خصوصی نشست ہوئی اور سوالات کے جوابات دیئے۔ طلبہ نے مادر وطن کے دفاع میں پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کا بھرپور عزم کیا۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد اور فیکلٹی ممبران سے بھی ملاقات کی۔ طلبہ اور فیکلٹی ممبران نے بھارت کو شکست دینے پر پاک فوج کو خراج تحسین پیش کیا۔ اس موقع پر شرکاء کا کہنا تھا کہ وطن عزیز کے دفاع کیلئے اساتذہ اور طلبہ ہمہ وقت پاک فوج کے ساتھ کھڑے ہیں۔ پاک فوج کے خلاف منفی پروپیگنڈے کے باعث پیدا کئے گئے ابہام اور شکوک و شبہات دور ہو گئے۔ شرکاء نے مزید کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر سے گفتگو میں ڈس انفارمیشن اور فیک نیوز کے بارے میں آگاہی ملی۔ نوجوانوں میں غلط فہمیوں کے تدارک کیلئے اس طرح کے سیشن ضروری ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف ڈی جی ا ئی ایس پی ا ر پاکستان کی انہوں نے پاک فوج کے ساتھ کہا کہ
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔