Islam Times:
2026-06-03@04:50:04 GMT

حیدرآباد سے حیفہ تک

اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT

حیدرآباد سے حیفہ تک

اسلام ٹائمز: یروشلم کی ہیبریو یونیورسٹی میں جیو پولیٹکس کے ڈائریکٹر مائر ماسری نے تو سوشل میڈیا پر اعلان کردیا ہے کہ ایران کے بعد اسرائیل کا اگلا نشانہ پاکستان ہے۔ 24جون 2025ء کو ’’ماڈرن ڈپلومیسی‘‘میں مائر ماسری کے حوالے سے جو تفصیلی رپورٹ شائع ہوئی ہے اُس میں کہا گیا ہے کہ کروز میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعہ اسرائیل کو ناصرف پاکستان کی ایٹمی صلاحیت ختم کرنی ہے بلکہ بھارت کے ساتھ مل کر سندھ کو پنجاب سے علیحدہ کرنا ہے اور آزاد کشمیر پر قبضہ کر کے چین کو گوادر سے کاٹنا ہے۔ احمد آباد کے بزنس مین گوتم اڈانی کا حیفہ میں کاروبار گو تباہ ہو گیا لیکن حیدرآباد میں اُس کی فیکٹری ابھی محفوظ ہے۔ جب تک یہ فیکٹری محفوظ ہے تب تک پاکستان غیرمحفوظ ہے۔ تحریر: حامد میر

گوتم اڈانی کا تعلق بھارتی ریاست گجرات کے شہر احمد آباد سے ہے۔ بھارت کے اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی کئی مرتبہ لوک سبھا میں اڈانی اور وزیراعظم نریندر مودی کی تصاویر لہرا چکے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اڈانی نے مودی حکومت کے ذریعہ اپنے کاروبار کو خوب وسعت دی اور دنیا کے امیر ترین افراد میں شامل ہو گیا۔ مودی کا تعلق بھی گجرات سے ہے۔ جب وہ گجرات کے وزیراعلیٰ تھے تو اڈانی کے ہوائی جہاز کا بے تحاشا استعمال کرتے تھے۔ اس ہوائی جہاز پر بیٹھ کر مودی بھارت کے وزیر اعظم بنے جس کے بعد اڈانی کے کاروبار کو چار نہیں بلکہ آٹھ چاند لگ گئے۔    مودی نے اڈانی کی ملاقات اسرائیل کے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو سے کرائی اور 2023ء میں اسرائیل نے اپنی سب سے بڑی بندرگاہ حیفہ کے 70فیصد شیئرز ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کے عوض اڈانی گروپ کو فروخت کر دیئے۔ اڈانی گروپ کو حیفہ پورٹ کے 70فیصد شیئرز فروخت کرنے کی کہانی 2018ء میں شروع ہوئی جب اسرائیل کی ایک اسلحہ ساز کمپنی ELBIT SYSTEMS نے اڈانی گروپ کے ساتھ مل کر بھارت کے شہر حیدرآباد میں ہرمیز 900 ڈرون اور میزائل بنانے کی فیکٹری قائم کی۔ اڈانی گروپ کو مودی سرکار کی بھر پور معاونت حاصل تھی لہٰذا دو سال کے اندر اندر فیکٹری قائم ہوگئی اور پروڈکشن بھی شروع ہوگئی۔ 2022ء تک اس فیکٹری کے تیار کردہ میزائل اور ڈرون اسرائیلی فوج نے ٹیسٹ کر لئے اور اس فیکٹری کی 85فیصد پروڈکشن خریدنے پر آمادگی ظاہر کردی۔    حیدرآباد سے اڈانی گروپ حیفہ پہنچا اور اسرائیل کی اس اہم بندرگاہ کے 70 فیصد شیئرز خرید کر پوری دنیا کو حیران کردیا۔ یہ کامیابی صرف اڈانی کی نہیں بلکہ بھارت کی بھی بہت بڑی کامیابی تھی۔ ایک طرف بھارت کی طرف سے اسرائیل کے دشمن ایران کی بندرگاہ چابہار میں سرمایہ کاری کی گئی تھی اور دوسری طرف ایک بھارتی کمپنی نے حیفہ پورٹ کا انتظام سنبھال لیا تھا۔ جیسے ہی حیفہ پورٹ کا انتظام اڈانی گروپ کو ملا تو ایک امریکی ادارے ہینڈن برگ ریسرچ نے اڈانی گروپ پر اربوں ڈالر کے فراڈ اور ٹیکس چوری کا الزام لگا دیا۔ راہول گاندھی نے اڈانی کے خلاف لوک سبھا میں 40منٹ کی تقریر میں ہینڈن برگ ریسرچ کی رپورٹ میں لگائے گئے کے الزامات کا جواب مانگا۔ کہیں سے کوئی جواب نہیں آیا۔ کچھ دن بعد حیفہ پورٹ کا انتظام اڈانی گروپ کے سپرد کرنے کی ایک تقریب منعقد ہوئی جس میں نیتن یاہو مہمان خصوصی تھے۔    اس موقع پر نیتن یاہو نے گو تم اڈانی سے ہینڈن برگ ریسرچ کے الزامات کے بارے میں پوچھا۔ اڈانی نے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیا۔ نیتن یاہو اور اڈانی کے درمیان گفتگو کو بہت سے لوگ سُن رہے تھے۔ اس گفتگو کی تفصیل ایک روسی جریدے سپٹنیک SPUTNIK کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔ نیتن یاہو نے کہا کہ اڈانی گروپ پر حملہ اسرائیل پر حملہ ہے کیونکہ اڈانی گروپ کے کمزور ہونے سے اسرائیل کے مفادات پر زد پڑے گی۔ اسکے بعد نیتن یاہو نے اسرائیلی خفیہ ادارے موساد کو حکم دیا کہ وہ اڈانی گروپ پر حملہ کرنے والوں کو سبق سکھائے۔ کچھ عرصے کے بعد ہینڈن برگ ریسرچ کے خلاف مختلف امریکی عدالتوں میں مقدمات دائر ہوگئے۔    اڈانی پر فراڈ کا الزام لگانے والوں کے اپنے خلاف فراڈ کی تحقیقات شروع ہوگئیں اور تنگ آکر جنوری 2025ء میں ہینڈن برگ ریسرچ کو بند کر دیا گیا۔ روسی جریدے کی رپورٹ کا سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ نیتن یاہو کےحکم پر موساد نے راہول گاندھی سمیت کانگریس کے کئی رہنمائوں کی ڈیجیٹل نگرانی شروع کردی اور اُن تمام افراد کا سراغ لگا لیا جو راہول گاندھی کو گوتم اڈانی کے خلاف انفارمیشن فراہم کر رہے تھے۔ اب اڈانی مطمئن تھا کہ نیتن یاہو نے اُس کے دشمنوں کا قلع قمع کر دیا ہے لیکن وہ نہیں جانتا تھا کہ یہی نیتن یاہو اُسکی تباہی کا باعث بننے والا ہے۔    13جون 2025ء کو نیتن یاہو نے ایران پر حملے کا اعلان کیا تو اڈانی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ایران کے میزائل حیفہ تک پہنچ جائیں گے۔ وہ حیدرآباد میں جو ڈرون اور میزائل تیار کررہا تھا۔ انہوں نے ایران میں خوب تباہی پھیلائی۔ جب ایران کے میزائل تل ابیب اور حیفہ پر گرنے لگے تو اڈانی کے ہاتھ پائوں پھولنے لگے۔ نیتن یاہو کا خیال تھا کہ جس طرح اڈانی کی فیکٹری میں تیار ہونے والے ڈرونز اور میزائلوں نے لبنان سے غزہ تک اپنی دھاک بٹھا دی تھی تو ایران میں بھی ایسا ہی ہوگا۔ یہ خیال غلط نکلا۔ ایران کا نقصان تو بہت ہوا لیکن ایران کے میزائلوں نے حیفہ کی بندرگاہ کو ملبے کا ایک ڈھیر بنا دیا اور آج جب اس ملبے کی تصویروں کا غزہ کے ملبے سے تقابل کیا جاتا ہے تو آنکھوں کو زیادہ فرق نظرنہیں آتا۔ ایران کے میزائلوں نے اسرائیل میں ایسی افراتفری پھیلائی کہ ہزاروں اسرائیلی اپنا ملک چھوڑ کر بھاگنے لگے۔ 

ایسے میں امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے دوست نیتن یاہو کی مدد کو پہنچے۔ انہوں نے ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملے کا اعلان کیا اور اسکے بعد اسرائیل اور ایران میں سیز فائر کا اعلان بھی کردیا۔ اب امریکی میڈیا میں یہ بحث شروع ہو گئی ہے کہ ٹرمپ کے حکم پر کئے جانیوالے حملوں سے ایران کی ایٹمی صلاحیت کا خاتمہ ہو سکا یا نہیں؟ ٹرمپ نے یہ سوال اٹھانے والے سی این این اور نیو یارک ٹائمز کو جھوٹا قرار دیدیا ہے لیکن وہ اسرائیل کو مزید تباہی سے بچانے میں کامیاب رہے ہیں۔ کسی کو شک نہیں رہنا چاہئے کہ اسرائیل اور ایران میں وقتی طور پر جنگ بند ہو گئی ہے لیکن نیتن یاہو چین سے نہیں بیٹھے گا۔ وہ ایران پر دوبارہ حملہ کریگا کیونکہ ایران دراصل گریٹر اسرائیل کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ نیتن یاہو اور مودی نے اڈانی گروپ کے ساتھ مل کر حیدرآباد میں ڈرون اور میزائل بنانے کی جو فیکٹری قائم کی تھے اس کا اسلحہ صرف ایران نہیں بلکہ پاکستان کے خلاف بھی استعمال کیا جائے گا۔ پچھلے دو سال میں بھارت نے اسرائیل سے چار ارب ڈالر کا اسلحہ خریدا ہے۔    یہ اسلحہ چین کے خلاف نہیں بلکہ پاکستان کے خلاف استعمال ہوگا کیونکہ پاکستان اکھنڈ بھارت کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ یروشلم کی ہیبریو یونیورسٹی میں جیو پولیٹکس کے ڈائریکٹر مائر ماسری نے تو سوشل میڈیا پر اعلان کردیا ہے کہ ایران کے بعد اسرائیل کا اگلا نشانہ پاکستان ہے۔ 24جون 2025ء کو ’’ماڈرن ڈپلومیسی‘‘میں مائر ماسری کے حوالے سے جو تفصیلی رپورٹ شائع ہوئی ہے اُس میں کہا گیا ہے کہ کروز میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعہ اسرائیل کو ناصرف پاکستان کی ایٹمی صلاحیت ختم کرنی ہے بلکہ بھارت کے ساتھ مل کر سندھ کو پنجاب سے علیحدہ کرنا ہے اور آزاد کشمیر پر قبضہ کر کے چین کو گوادر سے کاٹنا ہے۔ احمد آباد کے بزنس مین گوتم اڈانی کا حیفہ میں کاروبار گو تباہ ہو گیا لیکن حیدرآباد میں اُس کی فیکٹری ابھی محفوظ ہے۔ جب تک یہ فیکٹری محفوظ ہے تب تک پاکستان غیرمحفوظ ہے۔ یہ فیکٹری غزہ سے ایران تک تباہی پھیلا چکی ہے۔ اس فیکٹری کا اگلا نشانہ پاکستان ہے۔

بشکریہ: جیو اردو ڈاٹ کام

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ایران کے میزائل ہینڈن برگ ریسرچ کے ساتھ مل کر راہول گاندھی نیتن یاہو نے گوتم اڈانی اسرائیل کے اور میزائل کی فیکٹری ایران میں نہیں بلکہ نے اڈانی اڈانی کے کہ ایران کی ایٹمی بھارت کے محفوظ ہے کے خلاف پورٹ کا شروع ہو تھا کہ کے بعد دیا ہے

پڑھیں:

قابلِ فخر سعد ایدھی

کراچی ایئرپورٹ پر 23 ء مئی کو ایک ہجوم جمع تھا۔ اس ہجوم کے شرکاء جس میں مرد ، عورتیں، جوان اور بچے شامل تھے، سعد ایدھی کے استقبال کے لیے دور دراز علاقوں سے ایئرپورٹ پہنچے تھے۔ اس ہجوم میں فیصل ایدھی اور ان کی اہلیہ بھی شامل تھیں جو اپنے بیٹے کے استقبال کے لیے آئی تھیں۔ا ن کے ساتھ سعد ایدھی کی اہلیہ بھی تھی جن کی گود میں تین ماہ کی بچی بھی تھی۔ فیصل اپنے والد عبدالستار ایدھی کی روایت کے امین ہیں۔ عبدالستار ایدھی نے بہادری کے ساتھ انسانوں کی مدد کرنے کی زندہ مثالیں قائم کی تھیں۔ فیصل کو فخر ہے کہ ان کا بیٹا ان کے والد کے راستے پر گامزن ہے۔

سعد ایدھی اسرائیل کے کنسرٹیشن کیمپ سے رہا ہو کر ترکیہ پہنچے تھے تو استنبول سے کراچی آرہے تھے۔ سعد ایدھی نے جب فلوٹیلا میں سفر کر کے اسرائیل کا محاصرہ توڑ کر غزہ جانے کا فیصلہ کیا تھا تو ایدھی خاندان کے لیے ایک بری خبر تھی اور اس خبر کا ایک واضح پس منظر تھا۔ چند ماہ قبل ایک اور فلوٹیلا میں سوار ہو کر 430 کے قریب رضاکار غزہ روانہ ہوئے تھے تو اسرائیل کی نیوی نے بین الاقوامی سمندر میں فلوٹیلا پر فائرنگ کی تھی اور توپوں کے گولے پھینکے تھے۔

اسرائیلی فوجوں نے اس فلوٹیلا کے قافلے میں سوار افراد کو گرفتار کر کے بیہمانہ تشدد کا نشانہ بنایا تھا اور عام خیال تھا کہ اس دفعہ اسرائیل کی نیوی فلسطینی شہریوں سے یکجہتی کے لیے آنے والے افراد کو ہلاک کرنے سے گریز نہیں کرے گی۔ ایدھی خاندان کی خواتین سخت پریشان تھیں مگر سعد ایدھی کے والد فیصل ایدھی نے اپنے بیٹے کو اس خطرناک مشن پر جانے سے نہیں روکا تھا، یوں سعد کا حوصلہ بہت بلند ہوگیا تھا۔

غزہ کا علاقہ فلسطین میں شامل ہے۔ فلسطین کے دو حصے دریائے اردن کے مغربی کنارے سے متصل ہیں۔ غزہ کی سرحد ایک طرف مصر سے ملتی ہے تو جنوبی مغرب میں اسرائیل ہے اور مشرق اور جنوب میں بحیرہ روم واقع ہے۔ بحیرہ روم جس کو انگریزی میں Mediterraneen Sea کہا جاتا ہے، یہ افریقہ، یورپ اور ایشیا کے درمیان سمندر ہے جو تقریباً چاروں طرف سے زمین پر بھی گھرا ہوا ہے۔

یہ صرف وہاں سے کھلا ہوا ہے جہاں اسپین اور فرانس آمنے سامنے ہیں اور درمیان میں چند کلومیٹر کا سمندر بحیرہ روم کے شمال میں یورپ، جنوب میں افریقہ اور مشرق میں ایشیا موجود ہے۔ بحیرہ روم 2.5 ملین مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ اسرائیل نے گزشتہ بہت برسوں سے فلسطین کے تمام علاقوں کا بحیرہ روم کے راستہ کا گھیراؤ کیا ہوا ہے۔ غزہ اور فلسطین کے دیگر علاقوںمیں آباد عرب باشندوں کو بحیرہ روم میں نقل و حمل کی اجازت نہیں ہے۔ فلسطین سے محبت کرنے والے سماجی کارکن جن میں یورپ، امریکا، ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکا کے ممالک کے شہری بھی شامل ہیں مسلسل کوشش کررہے ہیں کہ اسرائیل کی ناکہ بندی کو ختم کرایا جائے۔

ان کارکنوں نے فلوٹیلا میں شامل بہت سے چھوٹے جہازوں کا کاررواں کے ذریعے جس میں دنیا بھر کے سماجی و سیاسی کارکن، صحافی اور خواتین شامل ہیں نے غزہ کے ساحل پر پہنچنے کا طریقہ اپنایا ہوا ہے۔ یہ کارکن اپنے خرچہ پر ترکیہ میں جمع ہوتے ہیں اور پھر یہ قافلہ بحیر ئہ روم سے گزرتا ہوا غزہ کے قریب پہنچتا ہے۔ پہلے تو اسرائیلی فوجیں غزہ کے قریب فلوٹیلا سے جہازوں میں سوار افراد کو بندرگاہ سے ہی نکال دیتے تھے مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اسرائیلی فوج کا رویہ غیر انسانی ہوتا گیا۔ سعد ایدھی ترکیہ کی بندرگاہ Marmaris Port سے روانہ ہوئے تھے۔ ابھی یہ قافلہ فلسطین اور اسرائیل سے بہت دور بین الاقوامی سمندر میں پہنچا تھا کہ اسرائیل کی گن بوٹس نے فلوٹیلا کے جہازوں پر مارٹر توپ کے گولے پھینکنے شروع کردیے۔ پھر ان فوجیوں نے ربڑ کی گولیاں چلانا شروع کردیں ۔

بین الاقوامی سمندر میں اسرائیل کی اس جارحیت کا کئی جواز نہیں تھا مگر پھر یہ فوجی چھوٹے جہازوں میں کود گئے اور فلوٹیلا کے جہازوں میں رضاکاروں کی کی آنکھوں میں پٹیاں باندھ دی گئیں اور جب یہ لوگ بندرگاہ پر پہنچے تو فلوٹیلا میں شامل 450 افراد کو جن میں بوڑھے، بچے اور خواتین بھی شامل تھے گھسیٹ گھسیٹ کر چھوٹی سی جیل میں دھکیل دیا گیا۔ سعد ایدھی نے کراچی میں بتایا کہ تمام لوگوں کو مسلسل مرغے بنا کر رکھا گیا۔ اسرائیلی فوجی ان رضاکاروں پر بندوق کے پٹ سے حملہ کرتے رہے اور خاص طور پر گھٹنوں اور پسلیوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا۔ کئی افراد کی پسلیاں ٹوٹ گئیں۔

Global Sumud Flotilla کے منتظمین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے فوجیوں نے کم از کم 15 افراد کو جنسی بدسلوکی کا نشانہ بنایا۔ ان منتظمین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسرائیل کے فوجی دستے نے ایک جہاز کو کنسرٹیشن کیمپ میں تبدیل کیا اور اس جہاز کے گرد خاردار تار لگادیئے گئے۔ پھر اس عارضی جیل میں کم گنجائش کے باوجود 450کے قریب رضاکاروں کو رکھا گیا۔ آسٹریلین ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں نے جانوروں سے زیادہ بدتر سلوک کیا ۔ اٹلی کے ماہرمعاشیات نے اسرائیلی فوج کے بدترین سلوک کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ انھیں 24 گھنٹوں کے دوران بار بار تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور کئی دفعہ رضاکاروں کو زمین پر گھسیٹا گیا ، ان کی آنکھوں پر پٹیاں باندھی گئیں اور انھیں پینے کے لیے پانی تک نہیں دیا گیا۔

سعد ایدھی نے بتایا کہ دون دن کی قید کے دوران صرف ایک ایک بوتل پانی دیا گیا۔ پھر تقریباً ہر رضاکار کے گھٹنوں کو مجروح کرنے کی کوشش کی گئی۔ اسرائیل کے وزیر دفاع نے ایک رضا کار لڑکی کے بال کھینچے اور یہ وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تو یورپ میں شدید احتجاج ہوا۔ فرانس کی حکومت نے اسرائیلی وزیر دفاع کا ویزا منسوخ کردیا۔ یورپی یونین کی ترجمان نے اسرائیل کے رضاکاروں پر تشدد کی شدید مذمت کی۔ برطانیہ، جرمنی، اسپین اور دنیا بھر کے دیگر ممالک نے مظلوم رضاکاروں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔

اسرائیل کی حکومت کو اس بات کی توقع نہیں تھی کہ ایشیائی اور افریقی ممالک کے علاوہ برطانیہ ، فرانس اور جرمنی وغیرہ بھی اسرائیل کی انسان دشمن پالیسیوں کے خلاف اتنا سخت ردعمل ظاہر کریں گے۔اس فلوٹیلا کے 50 جہازوں میں زیادہ تعداد اسپین اور دیگر یورپی ممالک کے باشندوں کی تھی۔ یہ لوگ اسرائیل کے جرائم کو آشکار کرنے کے لیے فلوٹیلا کے جہازوں میں سوار ہوئے تھے۔

انھیں اگرچہ اپنے مشن کی کامیابی کی زیادہ امید نہیں تھی مگر انسانیت کی خاطر اور غزہ کے عوام کے ساتھ یکجہتی کے لیے یہ تمام افراد اس فلوٹیلا کا حصہ بنے تھے۔ اس فلوٹیلا میں شریک سماجی کارکنوں نے اسپین کی خانہ جنگی کی یاد تازہ کردی۔ جب اسپین کے فاشسٹ جنرل فرانکو کی حکومت کے خلاف جدوجہد کرنے والے اس بریگیڈ میں دنیا بھر کے ادیب، شاعر اور دانشور شامل ہوئے۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ فلوٹیلا کے رضاکاروں پر اسرائیلی فوج کے بیہمانہ سلوک کے خلاف عالمی عدالت انصاف فوری طور پر کارروائی کرے اور اسرائیل کے خلاف اقتصادی پابندیاں عائد کی جائیں۔

فلسطین کے لیے جدوجہد کرنے والے یہ مختلف ممالک کے کارکن صرف فلسطین کے عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد کررہے ہیں۔ سعد ایدھی پر پوری قوم کو فخر ہے۔ سعد ایدھی اور دیگر انسانی حقوق کے کارکنوں نے جو جدوجہد کی ہے، وہ وقت جلد آئے گاجب اس جدوجہد کے مثبت نتائج برآمد ہونگے اور فلسطین ایک متحدہ ملک کے طور پر دنیا کے نقشہ پر ابھرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • راولپنڈی: سہیل آفریدی کے قافلے کو پولیس نے فیکٹری ناکے پر روک دیا
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان