حکومت کو چلنے نہیں دیں گے، قوم اسلام آباد کی جانب مارچ کے لیے تیار رہے، مولانا فضل الرحمان
اشاعت کی تاریخ: 29th, June 2025 GMT
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اب جے یو آئی کی تحریک کا آغاز ہونے والا ہے، قوم کو اسلام آباد کی جانب مارچ کے لیے تیار رہنا چاہیے، اور پاکستان کے اندر انقلابی تبدیلی لانے کا وقت آ چکا ہے۔
بٹگرام میں شعائرِ اسلام کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آج کا عظیم الشان اجتماع اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام جے یو آئی کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں ہم مقابلے کے لیے تیار، حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائیں گے، اسد قیصر
انہوں نے واضح کیا کہ جمعیت علمائے اسلام پاکستان میں انقلاب برپا کرے گی اور قومی وحدت کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔
مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ ہم پرامن لوگ ہیں، لیکن ہمیں اسلام آباد پر قبضے کے لیے مجبور نہ کیا جائے۔ ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے امریکا جیسی عالمی طاقت کو شکست دی، ہم آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ملک کی بقا اور اصلاح کی جدوجہد کریں گے۔
سربراہ جے یو آئی کا کہنا تھا کہ ملک آئینی حدود سے ہٹایا جا رہا ہے، اور ان کے بقول ہم ان عناصر کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بنیں گے جو ملک کو آئین کی پٹڑی سے اتارنا چاہتے ہیں۔ ہم آگے بڑھیں گے اور پاکستان کے اندر ایک حقیقی انقلاب برپا کریں گے۔
مولانا فضل الرحمان نے مغرب کو مخاطب کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ فلسطین پر جنگ بندی کیوں نہیں کی جاتی؟ جب ایران نے اسرائیل کو جواب دیا تو فوراً کہا گیا کہ جنگ بندی کی جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب پاک فوج نے بھارت کو منہ توڑ جواب دیا تو ٹرمپ نے جنگ بندی کی درخواست کی۔ عراق، فلسطین، شام، افغانستان اور لیبیا میں مسلمانوں کا قتلِ عام کیا گیا، تب کسی نے امن کی بات نہیں کی۔
ملکی سیاست پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم عوام کے بغیر کسی حکومت کو تسلیم نہیں کرتے۔ نہ ہم نے پچھلی حکومت کو چلنے دیا، نہ موجودہ حکومت کو چلنے دیں گے۔ ایسی حکومتیں عوامی تائید کے بغیر کبھی کامیاب نہیں ہوتیں۔ فیصلہ عوام کا ہونا چاہیے، اور اسے تسلیم کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کارکنوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ جے یو آئی کے کارکن اب میدانِ عمل میں ہوں گے، اور کامیابی ہمارا مقدر بنے گی۔ جو لوگ آج اقتدار میں ہیں، ان کے اندر سیاسی شعور نہیں، سیاسی اعتبار سے وہ مکمل طور پر کورے ثابت ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں تحریک انصاف اور دیگر اپوزیشن جماعتیں حکومت کے خلاف متحرک، اہم اجلاس منعقد
فاٹا کے انضمام کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ فاٹا کا خیبرپختونخوا میں انضمام یکطرفہ اور غیر دانشمندانہ فیصلہ تھا۔ قبائلی عوام اس پر ناخوش ہیں، اور آج وہ خود اس فیصلے پر پچھتا رہے ہیں۔ میں نے اس انضمام پر تحریری سوالات اٹھائے تھے، جنہیں نظر انداز کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews جمعیت علما اسلام حکومت کے خلاف تحریک شعائر اسلام کانفرنس طبل جنگ مولانا فضل الرحمان وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جمعیت علما اسلام حکومت کے خلاف تحریک شعائر اسلام کانفرنس مولانا فضل الرحمان وی نیوز مولانا فضل الرحمان نے کرتے ہوئے جے یو آئی انہوں نے حکومت کو کے خلاف کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔
ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔
اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔
آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔
موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔
یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔
حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔
عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔
بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔
وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔