خیبر پختونخوامیں دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام، خودکش حملہ آور ہینڈلر سمیت ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 29th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پشاور: خیبرپختونخوا کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے صوبے میں دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام بنادیا اور ایک خودکش حملہ آور اس کا ہینڈلر کو ہلاک کردیا گیا۔
میڈیا ذرائع کے مطابق سی ٹی ڈی نے بتایا کہ پشاور کے علاقے شمسہ ٹو میں خودکش حملہ آور اور ہینڈلر کو کارروائی کے دوران ہلاک کردیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق سی ٹی ڈی نے بتایا کہ اس کارروائی کے ذریعے دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام بنایا گیا ہے کیونکہ حساس تنصیب پر حملے کی منصوبہ بندی بے نقاب ہوئی ہے۔
سی ٹی ڈی نے مزید بتایا کہ افغانستان سے آیا خودکش بمبار اور فتنہ الخوارج گروہ کے دو دہشت گرد مارے گئے ہیں، ان کے قبضے میں موجود اسلحہ، خودکش جیکٹ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا ہے۔
کارروائی کے حوالے سے بتایا گیا کہ سی ٹی ڈی نے خفیہ اطلاع پر کامیاب انٹیلیجنس آپریشن کیا اور اس دوران دہشت گردوں سے فائرنگ کے تبادلے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
سی ٹی ڈی نے کہا کہ کارروائی میں ایس ایم جی، پسٹل اور خودکش جیکٹ برآمد کی گئی، ہلاک دہشت گرد کی شناخت منیر احمد گل کے نام سے ہوئی۔ دہشت گرد خیبرپختونخوا میں بڑے حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سی ٹی ڈی نے
پڑھیں:
ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
واشنگٹن:امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے مکمل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی کے دوران ایرانی فوجی تنصیبات، ڈرون مراکز اور ساحلی نگرانی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ تازہ کارروائی میں فوجی کمانڈ سینٹرز، ڈرون ذخیرہ گاہیں، مواصلاتی نیٹ ورک، ساحلی نگرانی کے مراکز اور بحری صلاحیتوں سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
https://t.co/Wtbk84dEsc
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 24, 2026سینٹکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور شہری بحری نقل و حمل کو درپیش خطرات میں مزید کمی لانا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز بدستور کھلی ہوئی ہے اور تجارتی جہاز امریکی فوج کی معاونت کے ساتھ معمول کے مطابق اس اہم بحری راستے سے گزر رہے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے مزید بتایا کہ اس وقت مشرق وسطیٰ کے مختلف علاقوں میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں جو خطے میں جاری صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔