پشاور میں دہشتگردی کی بڑی کوشش ناکام، خودکش حملہ آور سہولت کار سمیت ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 29th, June 2025 GMT
کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے پشاور کے نواحی علاقے شمشتو ارمڑ میں ایک اہم کارروائی کے دوران دہشتگردی کی بڑی کوشش ناکام بناتے ہوئے خودکش حملہ آور اور اس کے سہولت کار کو ہلاک کردیا۔
سی ٹی ڈی کے ترجمان کے مطابق کارروائی اس وقت عمل میں لائی گئی جب اطلاع ملی کہ کالعدم تنظیم فتنہ الخوارج کا ایک افغان خودکش حملہ آور اپنے سہولت کار کے ہمراہ شہر میں دہشتگردی کی نیت سے موجود ہے۔ اہلکاروں نے فوری ردعمل دیتے ہوئے علاقے کا محاصرہ کیا، جس کے دوران مقابلہ ہوا اور دونوں دہشتگرد مارے گئے۔
سی ٹی ڈی حکام نے بتایا کہ ہلاک ہونے والا خودکش حملہ آور کالعدم تنظیم کا رکن تھا اور پولیس کو متعدد مقدمات میں مطلوب تھا۔ کارروائی کے دوران دہشتگردوں کے قبضے سے خودکش جیکٹ اور جدید اسلحہ بھی برآمد کیا گیا، جو کسی بڑی تباہی کا سبب بن سکتا تھا۔
دوسری جانب آج ہی بلوچستان کے ضلع دُکی میں بھی سیکیورٹی فورسز نے کامیاب آپریشن کے دوران فتنہ الہندوستان نامی کالعدم تنظیم کے دو دہشتگردوں کو ہلاک اور 2 کو گرفتار کر لیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews پشاور خود کش حملہ آور دہشتگرد ہلاک دہشتگردی سی ٹی ڈی کارروائی وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پشاور خود کش حملہ ا ور دہشتگرد ہلاک دہشتگردی سی ٹی ڈی کارروائی وی نیوز خودکش حملہ آور کے دوران سی ٹی ڈی
پڑھیں:
پشاور: حیات میڈیکل کمپلیکس میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال دوسرے روز بھی جاری، مریض مشکلات سے دوچار
پشاور:حیات میڈیکل کمپلیکس پشاور میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال دوسرے روز بھی جاری ہے جس کے باعث مریضوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
ینگ ڈاکٹرز کی جانب سے او پی ڈیز اور آپریشنز کا مکمل بائیکاٹ کیا گیا جبکہ احتجاج کرنے والے ڈاکٹروں نے او پی ڈی کمروں کو تالے بھی لگا دیے۔ ہڑتال کے باعث اسپتال میں مختلف طبی سروسز کی فراہمی معطل ہو کر رہ گئی۔
اس صورتحال کے نتیجے میں علاج کی غرض سے آنے والے مریضوں اور ان کے اہل خانہ کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر اسفندیار نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اپنے وعدے کے مطابق کرپشن کی شفاف تحقیقات کروائیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے اس حوالے سے فوری اقدامات نہ کیے تو صوبے بھر کے تمام اسپتال بند کر دیے جائیں گے۔