Jasarat News:
2026-06-03@06:14:18 GMT

ٹنڈو جام،78 گھنٹے گزر جانے کے باوجود بجلی بحال نہ ہوسکی

اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ٹنڈوجام(نمائندہ جسارت) ٹنڈوجام میں حیسکو کے خلاف سڑکوں پر نکل آئی 78 گھنٹے گزرنے باوجود بجلی کی سپلائی بحال نہیں ہو سکی عوام پریشان حیسکو انتظامیہ کی نا اہلی نے عوام کی زندگی اجیرن بنا کر رکھ دی ہے تفصیلات کے مطابق ٹنڈوجام کے علاقے نیوتالپور کالونی اللہ والی مسجد گوٹھ بہادر خان چانڈیو میر کالونی میر پاڑا سمیت دیگر نواحی علاقوں میں جمعرات کو ہلکی برسات اور آندھی کی وجہ سے بجلی کی سپلائی معطل ہوئی تھی جو ابھی تک بحال نہیں ہو سکی ہے اور نہ جلے ہوئے ٹرنسفارمر تبدیل ہو سکے ہیں اس صورتحال کے خلاف ان علاقوں میں رہنے والے لوگوں نے حیدرآباد میرپورخاص ہائے پر مظاہرہ کرتے ہوئے ہائے وے کو بلاک کردیا مظاہرین کا کہنا تھا کہ 78 گھنٹے سے زیادہ وقت گزرنے کے باوجود ہمارے علاقوں میں بجلی کی سپلائی بحال نہیں کی جا سکی ہے جس کی وجہ سے ہمیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے لیکن حیسکو انتظامیہ کی بے حسی ختم ہو کر نہیں دے رہی ہے انھوں نے کہا کہ اگر اب بھی ہماری بجلی کی سپلائی بحال نہیں ہوئی تو ہم مجبور ہو کر حیدرآباد میرپورخاص ہائے پر اپنے بچوں کے ساتھ اس وقت تک دھرنا دے کر بیٹھ جائیں گے تک ہمارا مسلہ حل نہیں ہوتا مظاہرہ کی وجہ سے حیدرآباد اور میرپورخاص سے آنے والی گاڑیوی کی لمبی قظاریں لگ گئیں اور مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بجلی کی سپلائی بحال نہیں نہیں ہو

پڑھیں:

گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان

لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔

(جاری ہے)

حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔                                                              

متعلقہ مضامین

  • واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار
  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی