ٹنڈو جام،78 گھنٹے گزر جانے کے باوجود بجلی بحال نہ ہوسکی
اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ٹنڈوجام(نمائندہ جسارت) ٹنڈوجام میں حیسکو کے خلاف سڑکوں پر نکل آئی 78 گھنٹے گزرنے باوجود بجلی کی سپلائی بحال نہیں ہو سکی عوام پریشان حیسکو انتظامیہ کی نا اہلی نے عوام کی زندگی اجیرن بنا کر رکھ دی ہے تفصیلات کے مطابق ٹنڈوجام کے علاقے نیوتالپور کالونی اللہ والی مسجد گوٹھ بہادر خان چانڈیو میر کالونی میر پاڑا سمیت دیگر نواحی علاقوں میں جمعرات کو ہلکی برسات اور آندھی کی وجہ سے بجلی کی سپلائی معطل ہوئی تھی جو ابھی تک بحال نہیں ہو سکی ہے اور نہ جلے ہوئے ٹرنسفارمر تبدیل ہو سکے ہیں اس صورتحال کے خلاف ان علاقوں میں رہنے والے لوگوں نے حیدرآباد میرپورخاص ہائے پر مظاہرہ کرتے ہوئے ہائے وے کو بلاک کردیا مظاہرین کا کہنا تھا کہ 78 گھنٹے سے زیادہ وقت گزرنے کے باوجود ہمارے علاقوں میں بجلی کی سپلائی بحال نہیں کی جا سکی ہے جس کی وجہ سے ہمیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے لیکن حیسکو انتظامیہ کی بے حسی ختم ہو کر نہیں دے رہی ہے انھوں نے کہا کہ اگر اب بھی ہماری بجلی کی سپلائی بحال نہیں ہوئی تو ہم مجبور ہو کر حیدرآباد میرپورخاص ہائے پر اپنے بچوں کے ساتھ اس وقت تک دھرنا دے کر بیٹھ جائیں گے تک ہمارا مسلہ حل نہیں ہوتا مظاہرہ کی وجہ سے حیدرآباد اور میرپورخاص سے آنے والی گاڑیوی کی لمبی قظاریں لگ گئیں اور مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بجلی کی سپلائی بحال نہیں نہیں ہو
پڑھیں:
نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
Huge crowd of students floods roads of Nashik.
Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY
— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026
ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘ کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔
دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج
یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک