Jasarat News:
2026-06-03@04:16:33 GMT

سکھرشہر کی سڑکوں پر آوارہ مویشیوں کی بھرمار

اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

سکھر(نمائندہ جسارت )سکھر شہر کی سڑکوں پر چھوڑے گئے آوارہ مویشیوں کی تعداد دن بدن بڑھتی جارہی ہے اور اس وجہ سے یہاں ہونے والے سڑک حادثات میں بھی اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔دن اور رات کے وقت شہر کے مختلف تجارتی و کاروباری مراکز سمیت اہم سڑکوں پر آوارہ مویشیوں کا ہجوم لگ جاتا ہے جبکہ بیچ سڑک پر سوئے پڑے جانوروں کی وجہ سے موٹر سواریوں کو بہت زیادہ دقت کاسامنا کرناپڑ رہاہے اور اکثر آدھی رات کو یا ذرا اندھیرے علاقے میں دور سے یہ جانور نظر نہ آنے کی وجہ سے حادثات واقع ہوجاتے ہیں اس حوالے شہریوں کا کہنا ہے کہ دودھ کے لئے گائیں پالنے والے لوگ اپنے گھر میں جانوروں کو باندھنے کا انتظام نہ ہونے کی وجہ سے انہیں یونہی آوارہ گردی کرنے کے لئے سڑکوں پر چھوڑ دیتے ہیں۔اسکے علاوہ سڑک کنارے پائے جانے والے کچرے کے ڈبوں اور ڈھیر کی وجہ سے بھی بعض جانور اپنے مالکین کے گھر نہیں جاتے بلکہ ادھر ادھر گھوم پھر کر کچرا کھاتے اور پھر سڑک پر ہی رات گزاری کرلیتے ہیں۔اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ سکھر شہر کی سڑکیں مویشیوں کا باڑہ بن کر رہ گئی ہیں شہریوں نے الزام عائد کیا کہ شہر میں آوارہ مویشیوں کی تعداد روزبروز بڑھتی جارہی ہے، لیکن شہر کی میونسپل کارپوریشن کوئی بھی قدم اٹھائے بغیر اس طرف سے آنکھیں بند کرکے بیٹھی ہوئی ہے۔شہری و سماجی حلقوں نے بالا حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ا وارہ مویشیوں کی وجہ سے سڑکوں پر شہر کی

پڑھیں:

گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف

ایک بیان میں قائد نون لیگ کا کہنا تھا کہ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ نون لیگ کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ہم نے گلگت سے سکردو کا 9 گھنٹے کا سفر 3 گھنٹے میں بدل کر عوام کے 6 گھنٹے بچائے ہیں۔ 70 سال سے لٹکے منصوبے ہم نے اربوں روپے لگا کر مکمل کیے۔ ہمیں یہ منظور نہیں کہ یہاں 20، 22 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہو۔ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ ایک بیان میں میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں شہباز شریف اور مریم کو بھی کہوں گا کہ وہ دونوں یہاں آئیں اور اگر اللہ کے فضل و کرم سے ہماری حکومت آتی ہے، تو میں خود ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آکر شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور نگرانی اپنی دیکھ بھال میں مکمل کرواؤں گا۔ یہاں دیس نکالے کی باتیں کرنے والے یاد رکھیں کہ 2017ء میں این ایف سی کمیٹی نواز شریف نے ہی بنائی تھی تاکہ اس مسئلے کا مستقل حل نکل سکے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ گلگت، سکردو، بلتستان اور ہنزہ سمیت پورے خطے کے عوام سے مخاطب ہوں۔ اللہ کے فضل و کرم سے اور شہباز شریف سے بات کر کے اس شاہراہ کو پورا خنجراب تک پہنچائیں گے۔ پاک چائنا ٹریڈنگ کے اس منصوبے سے یہاں ایسی خوشحالی آئے گی کہ آپ کو گھر بیٹھے روزگار اور اخراجات ملیں گے اور پورا خطہ بدل جائے گا۔ آج گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، وہ گلگت کہاں ہے جسے میں جانتا تھا؟ ہم نے مانسہرہ سے تھاکوٹ تک بہترین سڑک بنائی جسے خنجراب تک جانا تھا مگر اسے نظر انداز کر دیا گیا۔ ہم کسی کی برائی کرنے نہیں بلکہ ہمیشہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔ یہاں کے عوام بے تحاشہ ترقی اور روزگار کے حقدار ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف