ایران کو گرانے کی کوشش ناکام، اسرائیل کو 12 روزہ جنگ میں پسپائی ہوئی، علی لاریجانی
اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT
رہبر انقلاب ایران کے مشیر علی لاریجانی نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل اور امریکا نے ایران کی حکومت کو صرف 6 دن میں ختم کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، تاہم 12 دن کی جنگ کے بعد انہیں ناکامی ہوئی۔
مزید پڑھیں: ایران کے حق میں سرزمین عرب سے ایک توانا آواز
لاریجانی نے کہا کہ دشمن، رہبر انقلاب آیت اللہ خامنہ ای کو بھی قتل کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ جنگ کے دوران انہیں 12 گھنٹوں میں ملک چھوڑنے کی دھمکی دی گئی۔
مزید پڑھیں: اسرائیل اور ایران کشیدگی میں روس کا حیران کن حد تک محتاط کردار کیوں؟
لاریجانی نے کہا کہ 21 جون کو ثالثی کا آغاز ہوا اور 23 جون کو اسرائیل جنگ بندی کی درخواست کر رہا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی میزائل طاقت نے دشمن کو اسٹریٹجک پسپائی پر مجبور کیا، اور نفسیاتی جنگ کے تمام حربے ناکام ہو گئے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل امریکا ایران رہبر انقلاب آیت اللہ خامنہ ای رہبر انقلاب ایران علی لاریجانی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل امریکا ایران رہبر انقلاب آیت اللہ خامنہ ای رہبر انقلاب ایران علی لاریجانی رہبر انقلاب
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔