چینی آئی پی پیز کے واجبات 500 ارب روپے سے متجاوز، تاخیر سے ادائیگیاں سی پیک منصوبوں کو متاثر کرنے لگیں
اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT
چین-پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت قائم چینی پاور کمپنیوں (آئی پی پیز) کو پاکستان میں بجلی کی فراہمی کے بعد بھی واجبات کی ادائیگی میں شدید تاخیر کا سامنا ہے۔ ذرائع کے مطابق ان کمپنیوں کے بقایا جات اب تقریباً 500 ارب روپے (1.72 ارب ڈالر) تک پہنچ چکے ہیں، جن میں سے 450 ارب روپے (1.5 ارب ڈالر) کی رقم سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (گارنٹیڈ) پر واجب الادا ہے، جو مالی اور زرِمبادلہ کے بحران کی وجہ سے یہ رقم ادا کرنے سے قاصر ہے۔
بزنس ریکارڈر کے مطابق، پورٹ قاسم، چائنا حب، ساہیوال کول پاور پلانٹس اور مختلف ونڈ پاور منصوبوں کے چیف ایگزیکیوٹیو آفیسرز (سی ای اوز) نے بارہا متعلقہ حکام کو ادائیگیوں کے مطالبے کے خطوط ارسال کیے، تاہم انہیں حکومتی ردعمل سے مایوسی ہوئی ہے۔
اسی طرح، نیشنل گرڈ کمپنی (سابقہ این ٹی ڈی سی) بھی 660 میگاواٹ پاک مٹیاری-لاہور ٹرانسمیشن کمپنی (پی ایم ایل ٹی سی) کو واجب الادا ادائیگیوں کی بروقت ادائیگی میں ناکام رہی ہے۔
حال ہی میں پی ایم ایل ٹی سی کے صدر و سی ای او ژیونگ فینگ نے نیشنل گرڈ کمپنی (این جی سی) کے منیجنگ ڈائریکٹر کو ایک خط میں شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ خط میں انہوں نے 14 مئی 2018 کو دستخط شدہ قانونی ٹرانسمیشن سروسز ایگریمنٹ (ٹی ایس اے) کا حوالہ دیا، جس کی شق 9.
خط کے مطابق، ’یہ واضح شرائط موجود ہونے کے باوجود این جی سی اب تک دسمبر 2024 کی انوائس کی ادائیگی نہیں کر سکا، جو 31 جنوری 2025 سے واجب الادا ہے۔ اسی طرح، جنوری سے مئی 2025 تک کی انوائسز بھی تاحال غیر ادا شدہ ہیں۔‘
مجموعی طور پر پی ایم ایل ٹی سی کے واجبات 55.071 ارب روپے (سیلز ٹیکس کے بغیر) تک پہنچ چکے ہیں، جن میں سے 47.076 ارب روپے تاخیر سے ادائیگی کے سود سمیت دیرینہ بقایاجات ہیں۔
سی ای او ژیونگ نے واضح کیا کہ ’پی ایم ایل ٹی سی کو ہائی وولٹیج ڈائریکٹ کرنٹ (ایچ وی ڈی سی) منصوبے کی بلا تعطل اور مستحکم کارکردگی کے لیے آپریٹنگ اخراجات کی بروقت ادائیگی درکار ہے۔ ادائیگیوں میں تاخیر سے ہمیں مالی نقصان اور دیگر منفی نتائج کا سامنا ہے۔‘
انہوں نے مطالبہ کیا کہ این جی سی فوری اصلاحی اقدامات کرے، کمپنی کا مالی تحفظ یقینی بنائے اور مزید نقصانات کو روکے۔
خط میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ روزانہ کی ادائیگیوں کی موجودہ کم رفتار قابل قبول نہیں، اور این جی سی/سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کو انوائسز کی جلد ادائیگی کے لیے روزانہ کی ادائیگیوں کی رفتار بڑھانا ہوگی۔
رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ وزیرِاعظم شہباز شریف کے متوقع اگست یا ستمبر 2025 کے دورۂ چین سے قبل حکومت پاکستان کی جانب سے چینی آئی پی پیز کو کچھ رقم جاری کیے جانے کا امکان ہے۔ اب تک حکومت نے 5 ارب روپے چینی پاور کمپنیوں کو اسکرو اکاؤنٹ کے ذریعے ادا کیے ہیں، جو طویل مذاکرات کے بعد قائم کیا گیا تھا۔
چینی کمپنیوں نے واضح کیا ہے کہ اگر حکومت نے جلد عملی اقدامات نہ کیے تو سی پیک کے تحت توانائی منصوبوں کی تسلسل کے ساتھ فراہمی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
Post Views: 3
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پی ایم ایل ٹی سی کی ادائیگی ارب روپے
پڑھیں:
لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
لاہور میں مون سون کی شدید بارشوں نے معمولات زندگی متاثر کر دیے، کئی علاقوں میں سڑکیں، چوراہے اور انڈر پاسز پانی میں ڈوب گئے جبکہ ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران شہر میں 343 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث متعدد نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا۔
لاہور کے مختلف علاقوں میں بارش کا پانی جمع ہونے سے شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض سڑکوں اور گلیوں میں 3 سے 4 فٹ تک پانی کھڑا رہا، جبکہ کئی مقامات پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں بارش کے بعد کئی علاقے زیر آب، ’اب آفس جانےکے لیے کشتی کی ضرورت ہوگی‘
ڈیفنس کے فیز ون سے فیز فائیو تک مختلف مقامات پر پانی جمع ہونے سے ٹریفک متاثر ہوئی، جبکہ غازی انڈر پاس اور مسجد چوک انڈر پاس کو پانی بھرنے کے باعث بند کرنا پڑا اور ٹریفک کو متبادل راستوں پر منتقل کیا گیا۔
حربنس پورہ، مال روڈ، کوپر روڈ، لکشمی چوک اور چوبرجی چوک سمیت متعدد علاقوں میں بھی پانی جمع ہونے کی اطلاعات ملیں، جہاں واسا کی ٹیمیں نکاسی آب میں مصروف رہیں۔
شدید بارش کے باعث شہر کی کئی سڑکوں پر گڑھے بھی پڑ گئے۔ کینال روڈ، جوہر ٹاؤن مین بلیوارڈ اور بھیکے والا موڑ سمیت مختلف مقامات پر سڑکیں متاثر ہوئیں، جس کے بعد ٹریفک پولیس نے متاثرہ علاقوں کو بند کرکے متبادل راستے فراہم کیے۔
یہ بھی پڑھیں: مون سون سیزن: لاہور سے ایک گھنٹے میں بارش کا پانی نکالنا ہدف ہے، ڈی ایم ڈی واسا
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق پنجاب میں حالیہ مون سون بارشوں کے دوران مختلف حادثات میں اب تک 21 افراد جاں بحق اور 154 زخمی ہو چکے ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں 15 افراد مکانات گرنے، 2 آسمانی بجلی گرنے، 3 کرنٹ لگنے جبکہ ایک شخص ڈوبنے سے جاں بحق ہوا۔
واسا لاہور کے مطابق شہر میں ہنگامی بنیادوں پر نکاسی آب کا عمل جاری ہے، تمام ڈسپوزل اسٹیشن مکمل استعداد کے ساتھ کام کر رہے ہیں جبکہ متاثرہ مقامات پر اضافی مشینری اور عملہ تعینات کیا گیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ اور واسا نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے، نشیبی علاقوں اور بجلی کے کھمبوں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔ شہریوں نے تاہم ہر سال بارشوں کے دوران پانی جمع ہونے کے مسئلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بارش پانی زیر آب لاہور