Jasarat News:
2026-06-03@01:22:31 GMT

کارکنوں کی اجرتوں کی چوری! لمحہ فکریہ

اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

دوسری قسط

ایک حدیث مبارکہ میں اصول مقرر کیا گیا ہے کہ بہترین آجر وہ ہیں جو اپنے کارکنوں کی اجرتیں بلاجواز نہیں روکتے اور یا ان کی اجرتوں کی ادائیگی میں تاخیر نہیں کرتے۔ قرآن و سنہ کی تعلیمات کے مطابق کارکنوں کی اجرتوں کے تعین اور مقدار کے لیے چھ زریں اصول مقرر کیے گئے ہیں۔ جن میں کارکنوں کو کام کی اجرت طے کیے بغیر بھرتی کرنے اور ان سے کام لینے کو ممنوع قرار دیا گیا ہے، کارکنوں کے لیے معقول اجرت کی ادائیگی کو اس لحاظ سے یقینی بنانا جو ان کی بنیادی ضروریات زندگی خوراک، رہائش،لباس،علاج و معالجہ اور بچوں کی تعلیم پوری کرنے کے لیے کافی ہو،اجرتیں موجودہ حالات جیسے افراط زر، شدید مہنگائی، اشیائے صرف کی بلند قیمتوں اور اس کے کنبہ کی بنیادی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے طے کی جانی چاہیے، طے شدہ اجرت کی بروقت اور مکمل ادائیگی کو یقینی بنایا جائے کیونکہ کسی امیر شخص کا دولت پاس ہوتے ہوئے بھی کارکن کی اجرت کی ادائیگی میں جان بوجھ کر تاخیری حربے اختیار کرنا اور ٹال مٹول سے کام لینا سخت ظلم کے مترادف قرار دیا گیا ہے، اجرت کی یکمشت ادائیگی اور مساوی کام کے لیے مساوی اجرت کی ادائیگی کا حکم شامل ہے۔ لیکن اجرتوں کے متعلق ان زریں اسلامی اصولوں کے باوجود آج بھی ملک کے کروڑوں محنت کشوں کا سب سے دیرینہ مسئلہ سخت محنت و مشقت کے باوجود منصفانہ اجرتوںسے محرومی ہے جو اکثر آجران کی جانب سے کارکنوں کی اجرت کی چوری کے مترادف ہے۔
ماہرین کے مطابق کارکنوں کی اجرت کی چوری سے مراد وہ عمل ہے کہ جب کوئی آجر (مالک یا کمپنی) اپنے کارکنوں کو وہ مکمل اجرت یا مراعات ادا نہیں کرتا،جن کے وہ قانونی طور پر حق دار ہوتے ہیں۔ یہ ایک استحصالی عمل ہے جس میں کارکنوں کی محنت کی مکمل ادائیگی سے انکار کیا جاتا ہے۔
اجرت کی چوری کی اقسام اور مثالوں میں کارکنوں کو مقررہ کم از کم اجرت ادا نہ کرنا،کارکنوں کو قانون میں مقرر کردہ کم از کم اجرت سے کم ادائیگی کرنا،اضافی کام کے معاوضہ (Over Time) کی ادائیگی نہ کرنا،ملازمین کو ہفتے میں مقررہ کام گھنٹوں سے زیادہ کام لینے پر اضافی ادائیگی (یعنی ڈیڑھ گنا اجرت) نہ کرنا،کام کے تمام گھنٹوں کی ادائیگی نہ کرنا،کارکنوں کو فارغ وقت کے دوران کام کرنے پر مجبور کرنا،کارکنوں کی اجرتوں سیغیر قانونی طور پر رقم کی کٹوتیاں کرنا،کارکنوں کی غلط طور سے درجہ بندی کرنا،جیسے مستقل کارکنوں کو غلط طریقے سے آزاد ٹھیکیدار کے ملازم ظاہر کرنا تاکہ قانونی مراعات یا ٹیکس سے بچا جا سکے۔ کارکنوں کو قانونی طور پر طے شدہ آرام اور کھانے کے وقفے نہ دینا یا وقفہ میں بغیر اجرت کے کام لینا۔
اگرچہ اجرت کی چوری ہر سطح کے کارکنان کو متاثر کر سکتی ہے، مگر اس عمل سے سب سے زیادہ متاثر ناخواندہ ، مجبور اورتارکین وطن،کم اجرت پر کام کرنے والے، زراعت وتعمیرات، اور گھریلو کام انجام دینے والے کارکن ہوتے ہیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر آجران کی جانب سے کارکنوں کی اجرتوں کی چوری کا مسئلہ اتنا اہم کیوں ہے؟ چونکہ آجران کے اس غیر قانونی طرزعمل کے نتیجہ میں کارکنوں کو مکمل اجرت نہ ملنے سے انہیں اپنے بنیادی گھریلو اخراجات پورے کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اجرت کی چوری سے متاثرہ کارکنوں اور ان کے خاندانوں کے لیے مناسب غذا ئی اشیاء صرف خریدنا مشکل ہو جاتا ہے۔گھر کا کرایہ یا قسطیں ادا نہ ہونے سے انہیں گھر سے بے دخلی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔انہیں اپنے روزمرہ اخراجات پورے کرنے کے لیے قرض لینا پڑ سکتا ہے اور سب سے بڑھ کر اس مالی دباؤ سے کارکنوں کی ذہنی صحت بری طرح متاثر ہوتی ہے۔
ایک اور حدیث کے مطابق آجر کی جانب سے کسی کارکن کی اُجرت کو روکنا اور اس کی اجرت چوری کرنا اس کے گناہ گار ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ اس آدمی کا رزق روک لے جس کا وہ مالک ہے۔ لہٰذا ان شرعی احکامات کی روشنی میں آجران کو اپنے کارکنوں کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھانے سے ہر ممکن گریز کرنا چاہیے اور انہیں غربت اور غلامی کی اجرتیں(Poverty and Slavery Wages) ادا کرنے کے بجائے معاشرہ میں ایک باعزت گزر بسر والی منصفانہ اجرتوںکی ادائیگی کرنی چاہیے۔
اگرچہ ادائیگی اجرت قانون میں کارکنوں کی اجرتوں کی اہمیت اور اس کی ادائیگی کے ایک موثر نظام کے نفاذ پر زور دیا گیا ہے۔ لیکن اس قانون پر اس کی روح کے عین مطابق عملدرآمد نہیں کیا جاتا۔ اس قانون کی رو سے آجران کی جانب سے کارکنوں کی واجب الادا اجرتوں کی شرح کو کام کی جگہوں کے نمایاں مقامات یا کارخانوں کی عمارتوں میں نصب نوٹس بورڈز پر نمایاں جگہ آویزاں کیا جائے گا، ہر صنعتی،کاروباری، تجارتی اور دیگر اداروں میں کارکنوں کو اجرت کی ادائیگی کے لیے باقاعدہ ایک ’’ادائیگی دن‘‘ (Pay Day) مقرر کیا جانا ضروری ہے اور اس مقررہ دن بلا کسی تاخیر کے کارکنوں میں اجرتوں کی تقسیم کی جانی چاہئیں، تمام اجرتیں، اجرتوں کی واجب مدت کے آخری دن کے بعد سے ساتویں دن کے اختتام سے قبل ادا کی جائیں گی۔ آجران پر یہ بھی لازم قرار دیا گیا ہے کہ وہ کارکنوں کو ان کی اجرت کی بلا کسی امتیاز ادائیگی کریں، کارکنوں کی اجرت خدمات کے لحاظ سے فی گھنٹہ، یومیہ، ہفتہ واری، پندرواڑھے یا ماہانہ بنیاد پر ادا کی جا سکتی ہیں لیکن کسی کارکن کی اجرت کی ادائیگی کی مدت ایک ماہ سے کسی طور تجاوز نہیں ہوگی، ہر آجر کارکنوں کو مقررہ وقت پر مکمل اجرت کی ادائیگی کا پابند ہوگا البتہ اسے قواعد کے تحت مطابق طے شدہ کٹوتیوں کی اجازت ہوگی، ہر آجر کارکنوں کو اجرت کی ادائیگی اور کٹوتیوں کی تفصیلات پر مشتمل ایک گوشوارہ فراہم کرنے کا پابند ہو گا جس کی زبان اور ترتیب کارکن کے لیے قابل فہم ہو اور کارکنوں کو اجرت نقد کی صورت میں ادا کرنے کے بجائے کارکنوں کے انفرادی بینک اکاؤنٹ کے ذریعہ ادا کی جائیں گی ۔
ملک میں 2010 میں ہونے والی اٹھارہویں آئینی ترمیم کے نتیجہ میں وفاق سے محنت کشوں کی فلاح و بہبود کے لیے قائم قدیم وزارت، وزارت محنت و افرادی قوت و سمندر پار پاکستانی کا خاتمہ کرکے 2013 میں اس کی جگہ ایک نئی وزارت، وزارت سمندر پار پاکستانی و ترقی انسانی وسائل تشکیل دی گئی تھی۔جس کے موجودہ وزیر چوہدری سالک حسین ہیں۔اس وزارت کے تحت ملک بھر کے محنت کشوں اور ان کے گھرانوں کی فلاح و بہبود کے لیے متعدد قومی فلاحی ادارے ایمپلائیز اولڈ ایج بینی فٹس انسٹی ٹیوشن (EOBI)، ورکرز ویلفیئر فنڈ، قومی صنعتی تعلقات کمیشن اور ڈائریکٹوریٹ آف ورکرز ایجوکیشن جبکہ بیرون ملک برسر روزگار پاکستانیوں کی فلاح و بہبود کے لیے بیورو آف امیگریشن اور اوورسیز ایمپلائمنٹ، اوور سیز پاکستانی فاؤنڈیشن اور اوورسیز ایمپلائمنٹ کارپوریشن خدمات انجام دے رہے ہیں۔جبکہ ملک کیچاروں صوبوں میں محنت کشوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے صوبائی سطح پر وزرائے محنت و انسانی وسائل کی سربراہی میں محکمہ ہائے محنت و انسانی وسائل اور ان کے ماتحت محکمے بھی قائم ہیں۔ جن میں سیکرٹری محنت و انسانی وسائل، ڈائریکٹر جنرل محنت، ڈائریکٹر محنت، ڈپٹی ڈائریکٹر محنت، لاء افسران اور انسپکٹرز تعینات ہیں۔ جبکہ چاروں صوبوں میں کم از کم اجرت کے تعین کے لیے سہ فریقی کم از کم اجرت بورڈ بھی قائم ہیں۔
جبکہ حکومت پاکستان نے رکن ملک کی حیثیت سے عالمی ادارہ محنت کے کارکنوں کے حقوق کے تحفظ، باوقار روزگار کے فروغ اور ان کے حالات کار بہتر بنانے کے متعلق 36 عہد ناموں (Conventions) اور ایک ضابطہ اخلاق کی توثیق بھی کی ہوئی ہے۔ جس کے تحت وزارت سمندر پار پاکستانی و ترقی انسانی وسائل، حکومت پاکستان اور چاروں صوبوں کے محکمہ ہائے محنت و انسانی وسائل کو ملک کے آٹھ کروڑ سے زائد محنت کشوں پر مشتمل عظیم افرادی قوت کے بنیادی حقوق کے تحفظ کا نگہبان اور محافظ مقرر کیا گیا ہے۔
لیکن ’’مکر کی چالوں سے بازی لے گیا سرمایہ دار ،انتہائی سادگی سے کھا گیا مزدور مات‘‘ کے مصداق ان واضح دینی احکامات، متعدد وزارتوں، درجنوں محکموں اور افسران اور عملہ کی فوج ظفر موج اور 50سے زائد مزدور قوانین کے باوجود ملک کے بیشتر صنعتی، کاروباری، تجارتی اور دیگر شعبوں میں ملک کی اقتصادی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی اہمیت رکھنے والے کروڑوں جفاکش کارکنوں کی جائز اجرتوں کی ادائیگی میں تاخیری حربوں اور ٹال مٹول کے ذریعہ ان کی جائز اجرت کی چوری(Wage Theft) کا ایک عام رحجان پایا جاتا ہے۔ جبکہ ادائیگی اجرت قانون کی خلاف ورزی کرنے پر ملوث آجران کو دس ہزار روپے تک جرمانہ اور چھ ماہ قید کی سزا ہوسکتی ہے۔ لیکن حیرت انگیز طور پر ادائیگی اجرت قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرنے والے ہزاروں بااثر آجران آج تک ہر قسم کے جرمانوں اور سزاؤں سے بچے ہوئے ہیں ۔
لہٰذا ملک کے کروڑوں محنت کشوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے عالمی ادارہ محنت کے عہد ناموں کی توثیق کرنے والی ریاست پاکستان اور محنت کشوں کی فلاح و بہبودکے نام پر قائم ہونے والی وزارت سمندر پار پاکستانی و ترقی انسانی وسائل اور چاروں صوبوں کے محکمہ ہائے محنت و انسانی وسائل کے ارباب و اختیارکی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ مظلوم کارکنوں کی اجرتوں کی چوری(Wage Theft) کے غیر قانونی طرز عمل کا فوری طور پر خاتمہ کریں اور اس غیر قانونی عمل میں ملوث طاقت ور آجران اور مالکان کو سخت تنبیہ جاری کرتے ہوئے ان پر قانون کے مطابق بھاری جرمانے عائد کیے جائیں اور سزائیں بھی دی جائیں تاکہ ملک میں کروڑوں محنت کشوں کی جائز اجرتوں کی چوری کے سنگین جرائم کا خاتمہ ممکن ہوسکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کارکنوں کی اجرتوں کی سمندر پار پاکستانی اجرت کی ادائیگی کارکنوں کی اجرت اجرتوں کی چوری میں کارکنوں کو سے کارکنوں کی کرنا کارکنوں حقوق کے تحفظ اجرت کی چوری کی اجرت کی دیا گیا ہے کی جانب سے کی فلاح اور ان کے کے مطابق جاتا ہے کرنے کے ملک کے کے لیے اور اس

پڑھیں:

بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ایران میں جاری جنگ کے اثرات کے باعث معاشی بحران نے جنم لیا ہے اور موجودہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت صرف پیپلز پارٹی کے پاس ہے، گلگت بلتستان کے عوام 7 جون کو تیر پر مہر لگائیں۔

اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کی جانب سے امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو قابل فخر قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگ بندی کے لیے کی جانے والی کاوشیں کامیاب ہوں گی۔

مزید پڑھیں: کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، نواز شریف کا گلگت میں خطاب

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہاکہ ان کی جماعت ملک کے پسماندہ اور محروم طبقات کی حقیقی نمائندہ ہے۔ ایسی ترقی اور معاشی پالیسی کا کیا فائدہ جس میں امیر مزید امیر اور غریب مزید مشکلات کا شکار ہو جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ملک کا واحد ایسا ادارہ ہے جو براہ راست مستحق خاندانوں تک پہنچتا ہے اور اس پروگرام کے خلاف ہونے والی سیاسی سازشیں ناکام ہوں گی۔

بدقسمتی اس ملک کی ہے کہ ہمارے سیاست دان ایسے ہیں کہ جب معاشی حالات خراب ہوتے ہیں تو وہ یہ نہیں سوچتے کہ ہم اپنے امیر دوستوں کی سبسڈی کیسے ختم کریں، وہ یہ نہیں سوچتے کہ کاروباری طبقہ کتنا ٹیکس دے رہا ہے، وہ سیدھا اس پر پہنچتے ہیں کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرو، مگر ہم یہ… pic.twitter.com/ioZikOPLZU

— WE News (@WENewsPk) June 2, 2026

انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض حکمران عناصر اس پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی اسے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی اور آئندہ بجٹ میں اس کے فنڈز میں اضافے کے لیے وزیراعظم سے بات کی جائے گی۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی جبکہ میزائل ٹیکنالوجی کے فروغ میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا کردار نمایاں رہا۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں گلگت بلتستان کو شمالی علاقہ جات کہا جاتا تھا لیکن اس خطے کو موجودہ شناخت صدر آصف علی زرداری نے دی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بلتستان کی سرزمین سے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا اعلان کیا تھا۔

انہوں نے کہاکہ اگر 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو دیے گئے اختیارات گلگت بلتستان کو بھی منتقل کر دیے جائیں تو خطے کے متعدد مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

بلاول بھٹو نے کہاکہ حق حاکمیت کے بعد عوام کو حق ملکیت بھی ملنا چاہیے اور اسلام آباد کو تسلیم کرنا ہوگا کہ گلگت بلتستان کے وسائل پر سب سے پہلا حق مقامی آبادی کا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا جاتا، نہ گلگت بلتستان اور نہ ہی پاکستان حقیقی ترقی کر سکتا ہے۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے سندھ حکومت کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو گھر فراہم کیے گئے اور یہی عوامی خدمت پیپلز پارٹی کی سیاست کا بنیادی محور ہے۔

ان کے مطابق پارٹی ہمیشہ عام آدمی، مزدور اور محروم طبقات کے حقوق کی سیاست کرتی آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کو بینظیر کارڈ کے ذریعے عملی شکل دی، جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو دنیا کے کئی ممالک نے قابل تقلید ماڈل قرار دیا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مسلم دنیا میں ایٹمی صلاحیت رکھنے والا واحد ملک پاکستان ہے اور اس صلاحیت کا سہرا شہید ذوالفقار علی بھٹو کے سر جاتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ آج بھی گڑھی خدا بخش سے پاکستان کے دفاع کی روایت جڑی ہوئی ہے۔ جنرل مشرف کے دور میں غیر ملکی ممالک کو پاکستان میں اڈے حاصل تھے، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ان اڈوں کو بند کروا دیا۔

انہوں نے سی پیک کے تحت تھرکول منصوبے کو سب سے کامیاب منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو فراہم کی گئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، جبکہ دیگر سیاسی قوتیں لوگوں کو بے روزگار کرنے کی پالیسی اپناتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت غریب نوجوانوں کو روزگار فراہم کرکے معاشی طور پر مضبوط بنانا چاہتی ہے۔

مزید پڑھیں: کسی بھی نئی آئینی ترمیم میں گلگت بلتستان کے عوامی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے، بلاول بھٹو

چیئرمین پیپلز پارٹی نے سندھ میں سیلاب کے بعد بحالی کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے پورا صوبہ پانی میں ڈوب گیا ہو، تاہم حکومت 20 لاکھ متاثرہ گھروں کی تعمیر کر رہی ہے اور اتنے ہی خاندانوں کو مالکانہ حقوق کے ساتھ رہائش فراہم کی جا رہی ہے۔

بلاول بھٹو نے کہاکہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ سڑکوں کی تعمیر سے پہلے متاثرین کو گھر دیے جائیں۔ اس منصوبے کے نتیجے میں قریباً 10 لاکھ افراد کو روزگار ملا۔

انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام سے اپیل کی کہ 7 جون کو تیر کے انتخابی نشان پر مہر لگائیں، پیپلز پارٹی یہاں بھی سندھ طرز کے عوامی فلاحی منصوبے متعارف کرائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بلاول بھٹو چیئرمین پیپلز پارٹی گلگت بلتستان الیکشن وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • روینہ ٹنڈن کی والدہ کے گھر بڑی چوری، لاکھوں روپے مالیت کے زیورات غائب
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا