بھارتی اسٹار کرکٹر نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے موسیقی اور فلم سیٹس پر مختصر کام کے بعد کرکٹ کی دنیا میں قدم رکھا۔

بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارتی لیگ اسپن بولر ورون چکرورتی نے حال ہی میں انڈیا کے کامیاب ترین بولر روی چندرن ایشون کے یوٹیوب چینل کے پروگرام (Kutti Stories With Ash) پر بطور مہمان خصوصی شرکت کی جس میں کرکٹر نے بتایا کہ انہوں نے مختلف ملازمتوں کے مواقع آزمائے، جن میں چرچ کے کوائر میں گٹار بجانا اور شارٹ فلموں کی ڈائریکشن دینا شامل تھا، اسی سفر کے دوران انہیں کرکٹ سے لگاؤ کا بھی علم ہوا۔

بھارتی فرنچائز ٹیم کولکتہ نائٹ رائیڈرز کے اسٹار کرکٹر ورون چکرورتی نے انکشاف کہ وہ کالج کے فوراً بعد ایک آرکیٹیکٹ (ماہر تعمیرات) کی فیلڈ سے وابستہ ہوگئے تھے، لیکن ایک سال بعد اس نوکری کو چھوڑ کر موسیقی کے لیے اپنی محبت کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کی، لیکن جلد ہی ان میں اس جذبے کا خاتمہ ہو گیا۔ اس کے بعد انہوں نے دوبارہ ماہر تعمیرات کے شعبہ میں قدم رکھا اور اپنی ایک فرم کھولی، لیکن ایک خطرناک طوفان میں انہوں نے اپنی ساری جمع پونجی کھو دی۔

بھارتی اسٹار کرکٹر نے بتایا کہ انہوں نے تقریباً 14 ہزار روپے ماہانہ سے کام شروع کیا تھا، اور جب نوکری چھوڑی تو تنخواہ 18 ہزار روپے تک پہنچ چکی تھی۔

ورون چکرورتی نے پروگرام میں انکشاف کیا کہ انہوں نے پھر بطور فلم ڈائریکٹر کام کرنے کا فیصلہ کیا، کیونکہ وہ اپنے دوستوں کے ساتھ فلم سیٹس پر باقاعدگی سے جایا کرتے تھے۔ انہوں نے ایک فلم میں جونیئر آرٹسٹ کے طور پر بھی کام کیا، جہاں انہیں روزانہ 600 روپے ملتے تھے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ میرے کچھ دوست فلم انڈسٹری کا حصہ تھے، جس کی وجہ سے انہوں نے کئی فلموں کو دیکھنا شروع کیا اور ان کے ساتھ شوٹس پر جا کر یہ سمجھنے کی کوشش کی کہ وہاں کیا ہو رہا ہے۔ بھارتی کرکٹر نے بتایا کہ انہوں نے ان سے بات کی اور معلوم ہوا کہ وہ ’جیوا‘ نام کی ایک فلم کی شوٹنگ کر رہے ہیں، جو کئی کرکٹ گراؤنڈز پر ہو رہی تھی۔

ورون چکورتی کا کہنا تھا کہ وہ اس جگہ معاون ڈائریکٹر بننے کی نیت سے گئے تھے، لیکن وہ نہیں ہو سکا۔ پھر ایک اسسٹنٹ ڈائریکٹر نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ کرکٹ کھیلتے ہیں۔ تو کرکٹر نے کہا کہ صرف ٹینس بال کرکٹ کھیلتا ہوں۔ پھر انہیں فلم میں جونیئر آرٹسٹ کے طور پر کام کرنے کا موقع ملا جس کے انہیں روزانہ 600 روپے ملتے تھے۔

ورون نے ایک کرکٹر ہونے کے ناطے حیران کن طور پر اپنی تنخواہ میں 42 گنا فرق ظاہر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ مجھے 300 امریکی ڈالر ملتے ہیں (جو تقریباً 25,652.

78 بھارتی روپے بنتے ہیں)۔

Post Views: 5

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کہ انہوں نے نے بتایا کہ کرکٹر نے

پڑھیں:

مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز

گرمیوں کی آمد کے ساتھ ہی آموں کی خوشبو اور مٹھاس ہر طرف پھیل جاتی ہے، اور بازاروں، ریڑھیوں اور گھروں میں مختلف اقسام کے آم اپنی رنگینی بکھیرنے لگتے ہیں۔

پاکستان میں آم کی کئی مشہور اقسام پائی جاتی ہیں جن میں دسہری، کیسر، چونسہ اور سندھ کے بعض علاقوں میں محدود پیمانے پر کاشت ہونے والا الفانسو آم شامل ہے، جسے عام طور پر ’الفنس‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

آم کو صرف ایک پھل نہیں بلکہ گرمیوں کی پہچان سمجھا جاتا ہے، اسی لیے اس موسم میں اس سے آئس کریم، میٹھے پکوان، آم رس، سلاد اور مختلف مشروبات تیار کیے جاتے ہیں۔ تاہم ٹھنڈا اور گاڑھا مینگو شیک آج بھی سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے مشروبات میں شمار ہوتا ہے، اور اکثر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ آخر مینگو شیک کے لیے بہترین آم کون سا ہے؟

ماہرین اور شوقین افراد کے مطابق الفانسو آم مینگو شیک کے لیے بہترین انتخاب سمجھا جاتا ہے۔ اس کی گودے دار ساخت قدرتی طور پر کریمی ہوتی ہے، اس میں ریشہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے اور اس کی مٹھاس دودھ کے ساتھ بخوبی گھل جاتی ہے، جس سے شیک ہموار اور ملائم بنتا ہے۔ بعض آم بلینڈ کرنے کے بعد ریشے دار محسوس ہوتے ہیں، لیکن الفانسو شیک کو ایک یکساں اور کریمی ساخت دیتا ہے۔

الفانسو آم کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کی خوشبو ہے، جو سادہ دودھ کے شیک کو بھی ایک خاص ذائقہ اور مہک عطا کرتی ہے۔ چونکہ یہ قدرتی طور پر بہت میٹھا ہوتا ہے، اس لیے اکثر افراد اس میں اضافی چینی ڈالنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر آم مینگو شیک کے لیے یکساں طور پر موزوں نہیں ہوتا۔ ایک اچھے شیک کے لیے ایسے آم کا انتخاب بہتر ہے جس میں ریشہ کم ہو، گودا قدرتی طور پر میٹھا اور خوشبودار ہو، ساخت گاڑھی اور کریمی ہو، جبکہ گٹھلی چھوٹی اور گودا زیادہ ہو۔

الفانسو کے علاوہ کیسر آم بھی ایک اچھا انتخاب سمجھا جاتا ہے، جو اپنے شوخ نارنجی گودے اور بھرپور مٹھاس کے باعث گاڑھا اور لذیذ شیک تیار کرتا ہے۔ اسی طرح دسہری آم اپنی خوشبو اور رس دار خصوصیات کی وجہ سے ہلکے اور تازگی بخش شیک کے لیے موزوں مانا جاتا ہے۔

ماہرین یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ بہت زیادہ پکے ہوئے آم استعمال نہ کیے جائیں، کیونکہ اگرچہ وہ زیادہ میٹھے ہوتے ہیں لیکن بعض اوقات ان میں خمیر جیسی بو پیدا ہو سکتی ہے جو شیک کے ذائقے کو متاثر کرتی ہے۔

گھر میں بہترین مینگو شیک بنانے کے لیے چند آسان طریقے بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ آموں کو استعمال سے پہلے ٹھنڈا کر لیا جائے تو برف کی ضرورت کم ہو جاتی ہے، جبکہ مکمل چکنائی والے ٹھنڈے دودھ سے شیک زیادہ کریمی بنتا ہے۔ آم کے ٹکڑوں کو فریز کر کے استعمال کرنے سے شیک مزید گاڑھا ہو جاتا ہے، اور ذائقے میں بہتری کے لیے ہلکی سی الائچی یا زعفران بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ضرورت سے زیادہ بلینڈنگ سے شیک پتلا بھی ہو سکتا ہے، اس لیے اسے مناسب وقت تک ہی بلینڈ کرنا بہتر سمجھا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ گرمیوں میں بہترین مینگو شیک کا راز صرف ترکیب میں نہیں بلکہ صحیح آم کے انتخاب میں بھی چھپا ہوتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مودی کی شبیہ کو بچانے کیلئے سونے کے ذخائر فروخت کئے جارہے ہیں، ملکارجن کھڑگے
  • صرف ایک لفظ ’بم‘ نے آسمان میں اڑتے طیارے کو واپس موڑ دیا، حیران کن حقیقت سامنے آگئی
  • پی سی بی کا چاچا کرکٹ کیلیے یادگاری تحفہ
  • 99 ووٹ لے کر بنگلہ دیش نے دنیا کو حیران کردیا، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی صدارت جیت لی
  • کیا آپ بھی رات دیر تک جاگتے ہیں؟ ماہرین نے سنگین خطرات سے خبردار کردیا
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • فیفا ورلڈکپ 2026 ، کونسی ٹیم فیورٹ؟، اوپٹا سپر کمپیوٹر نے حیران کن پیشگوئی کردی
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان