دہلی(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔30 جون ۔2025 )بھارتی ریاست تلنگانہ میں ایک کیمیکل فیکٹری کے ری ایکٹر میں دھماکے سے آگ لگ گئی جس کے نتیجے میں کم ازکم 8 افراد ہلاک اور 26 سے زائد زخمی ہوگئے ہیں بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق بھارتی پولیس کا کہنا ہے کہ ریاست تلنگانہ میں واقع سیگاچی کیمیکل انڈسٹریز کے ری ایکٹر میں آگ لگ گئی جس کے نتیجے میں 8 افراد ہلاک اور 26 سے زائد زخمی ہوگئے.

(جاری ہے)

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آگ بجھانے کی کوششیں جاری ہیں لیکن شدت کے باعث شعلے بجھانے میں مشکلات کاسامنا ہے، انتظامیہ کاکہناہے کہ علاقے میں فوری طورپرزہریلا دھویں پھیلنے کے کوئی خطرات نہیں بھارت میں ناکافی حفاظتی انتظامات کے باعث صنعتی حادثات معمول بن چکے ہیں، انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے مطابق صرف 2003 میں صنعتی حادثات کے دوران 47 ہزار سے زائد ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی لیکن اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے.

ان اعداد و شمار میں مختلف صنعتی حادثات میں ہونے والی ہلاکتیں شامل ہیں، یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ بھارت میں کام کی جگہ پر ہونے والے حادثات، جن میں اموات بھی ہوتی ہیں، کو اکثر کم رپورٹ کیا جاتا ہے، جیسا کہ بین الاقوامی محنتی تنظیم (آئی ایل او) نے نشاندہی کی ہے. یاد رہے کہ 1984 میں بھوپال میں امریکی کیمیکل کمپنی یونین کاربائن سے زہریلے دھویں کے اخراج سے 15 ہزار سے زائد شہری ہلاک اور ہزاروں کی تعداد میں متاثر ہوئے تھے، کئی متاثرین بینائی کھوبیٹھے اسے صنعتی تاریخ کابدترین حادثہ بھی قرار دیاجاتاہے تاہم آج تلنگانہ میں پیش آئے واقعے پرانتظامیہ کی وضاحت سامنے آگئی کہ اس واقعے میں فیکٹری سے مضر صحت دھویں کااخراج رپورٹ نہیں ہوا.                                                                                                    

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے

پڑھیں:

سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود

فائل فوٹو

سندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔

دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔

اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔

جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔

حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔

لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔

صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔

صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔

جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو ہونے کا اندیشہ
  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو  ہونے کا اندیشہ
  • کولمبیا میں چھوٹا طیارہ حادثے کا شکار، 4 افراد ہلاک
  •   مٹی کا طوفان ، تیز بارش,2خواتین سمیت5 افراد جاں بحق
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • روس کے کیف سمیت مختلف یوکرینی شہروں پر شدید حملے، 18 افراد ہلاک، 100 سے زائد زخمی
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں حادثات کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
  • اوباڑو : تیز آندھی اور بارش کے باعث مختلف حادثات میں 50 کے قریب افراد زخمی
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود