13 کروڑ سے زائد کی ڈکیتی میں ملوث ٹک ٹاکر سمیت گرفتار 4 ملزمان کو ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT
جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی نے 13 کروڑ سے زائد کی ڈکیتی میں ملوث ٹک ٹاکر سمیت گرفتار 4 ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔
جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت کے روبرو 13 کروڑ سے زائد کی ڈکیتی کے مقدمے میں مزید گرفتار 4 ملزمان کو پولیس نے پیش کیا۔
ملزمان میں اداکارہ یسرا، نمرا، شہریار اور شہروز شامل ہیں۔ عدالت نے ملزمان کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا، عدالت نے آئندہ سناعت پر تفتیشی افسر کو مقدمے کا چالان پیش کرنے کا حکم دیدیا۔
پولیس کے مطابق ملزمان نے 26 جون کی رات پی ای سی ایچ ایس میں گھر پر ڈکیتی کی، ملزمان 13 کڑور روپے کیش، گھڑیاں، لیپ ٹاپ، موبائیل فونز لیکر فرار ہوئے تھے۔
ملزمان میں 2 مرد اور 3 خواتین شامل تھیں، ایک ڈاکو نے ایف آئی اے کا یونیفارم پہنا ہوا تھا جس پر لوگو بھی چسپاں تھا۔ ملزم ریو گاڑی میں سوار تھے۔
مزید پڑھیں: کراچی میں 13 کروڑ کی ڈکیتی میں ٹک ٹاکر بہن بھائی ملوث نکلے، حیران کن انکشافات
پولیس کی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی کہ ملزمان نے جعلی ایف آئی اے اہلکار بن کر 13 کروڑ روپے، قیمتی موبائل فونز، گھڑیاں، پرفیوم اور دیگر اشیاء لوٹی تھیں۔
تفتیشی ذرائع نے بتایا تھا کہ ٹک ٹاکر یسرا زیب مختلف پاکستانی برانڈز کیلئے ماڈلنگ بھی کرتی رہی ہے جبکہ سماجی رابطے کی ایپلیکیشن پر بھی خاتون ملزمہ مشہور اور معروف ٹک ٹاکر کے طور پر پہنچانی جاتی ہے۔
ملزمہ کے سوشل میڈیا کے اکاؤنٹس میں ملک اور غیر ملکی آرٹسٹوں کے ساتھ تصاویر موجود ہیں۔ ملزمہ یسرا زیب کے ڈکیت گروہ کی دیگر وارداتوں کے حوالے سے بھی تفتیش کی جارہی ہے۔
پولیس نے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کی اور ملزمان کی شناخت کرکے کارروائی کرتے ہوئے 3 افراد کو گرفتار کیا تھا جن میں دو خواتین یسرا، نمرا اور ان کا بھائی شہریار شامل ہیں جب کہ ایک ملزم کی تلاش جاری تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔