چند روز قبل کراچی کے علاقے پی ای ایس ایچ میں تاجر کے گھر میں ہونے والی ڈکیتی کے حوالے سے ابتدائی معلومات سامنے آگئیں، تفتیشی حکام نے ڈکیتی کرنے والے بہن بھائی کا ٹک ٹاکر ہونے کی تصدیق کرلی۔

تفتیشی حکام کے مطابق ملزمان کی پاکستانی اوربھارتی فنکاروں کیساتھ تصاویر بھی سامنے آئی ہیں، گھر میں ڈکیتی کرنے والے بہن بھائی سمیت 4ملزمان اس وقت پولیس کی تحویل میں ہیں، ملزمان سے لوٹی ہوئی رقم اور اشیا کے حوالے سے تفتیش جاری ہے۔

مزید پڑھیں: کراچی: 13 کروڑ روپے کی ڈکیتی میں ملوث معروف ٹک ٹاکر گرفتار

پولیس حکام کے مطابق واقعہ کی 4 سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج بھی سامنے آگئی ہے، فوٹیج میں شہری سالک کو گھر کے سامنے گاڑی پر کپڑا ڈالتے دیکھا گیا ہے، ملزمان کالے رنگ کی گاڑی میں سالک کے قریب پہنچے، برقع پہنے 2 خواتین اور 2 مرد اسلحہ کے زور پر تاجر سالک کے گھر میں داخل ہوئے، ایک برقع پہنی خاتون کے ہاتھ میں خالی بیگ تھا۔

پولیس کے مطابق فوٹیج میں ملزمہ کو واپسی میں بھرا بیگ لے جاتے بھی دیکھا جاسکتا ہے، ملزمان اہلخانہ کو یرغمال بناکر لوٹ مار کرتے تھے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

13 کروڑ پی ای ایس ایچ خاتون ٹک ٹاکرز ڈکیتی کراچی یسرا زیب یسریٰ زیب.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: 13 کروڑ پی ای ایس ایچ خاتون ٹک ٹاکرز ڈکیتی کراچی

پڑھیں:

چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا

اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔

محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔

ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔

ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا