کراچی: 13 کروڑ روپے کی ڈکیتی میں ملوث معروف ٹک ٹاکر گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT
پولیس نے شہر کے پوش علاقے PECHS بلاک 2 میں ہونے والی 13 کروڑ روپے سے زائد کی مسلح ڈکیتی کے الزام میں 3 افراد کو گرفتار کرلیا ہے، جن میں ایک بھائی اور 2 بہنیں شامل ہیں، یہ تینوں سوشل میڈیا پر معروف TikTok شخصیات ہیں۔
فیروز آباد تھانہ کے ایس ایچ او انعام جونیجو کے مطابق واردات 26 جون کی صبح قریباً ساڑھے 3 بجے اُس وقت ہوئی، جب متاثرہ شخص محمد سالک اپنی کار پارک کر رہا تھا۔ اچانک ایک کالی گاڑی سے 2 مسلح افراد اور 3 برقع پوش خواتین نمودار ہوئیں، جنہوں نے اسے یرغمال بنا کر گھر کے اندر لے گئے۔
پولیس کے مطابق، ایک ملزم نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (FIA) جیسی جعلی وردی پہنی ہوئی تھی، جس پر ادارے کا لوگو بھی موجود تھا، تاکہ کارروائی کو سرکاری کارروائی ظاہر کیا جا سکے۔ ملزمان نے گھر کے اندر داخل ہو کر اسلحے کے زور پر 13 کروڑ روپے نقدی، 9 جدید موبائل فون (بشمول آئی فونز اور گوگل پکسلز)، 20 قیمتی گھڑیاں، ایک اسمارٹ واچ، 25 برانڈڈ پرفیومز، 2 لیپ ٹاپس اور دیگر قیمتی سامان لوٹ لیا اور فرار ہو گئے۔
مزید پڑھیں: ٹک ٹاکر ثنا یوسف قتل کیس: ملزم عمر حیات کا اعترافی بیان سامنے آگیا
پولیس نے جائے واردات سے حاصل شدہ CCTV فوٹیج اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے 3 ملزمان کو شناخت کرکے گرفتار کیا، جن میں یسرا، نمرہ اور ان کا بھائی شہریار شامل ہیں۔ چوتھا ملزم شاہروز تاحال مفرور ہے۔
تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ یسرا زیب نہ صرف ایک مشہور ٹک ٹاکر ہیں بلکہ پاکستان کے کئی مشہور برانڈز کے لیے ماڈلنگ بھی کر چکی ہیں۔ ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر ملکی و غیر ملکی شخصیات کے ساتھ تصاویر موجود ہیں۔
پولیس نے تصدیق کی ہے کہ ملزمان نے واردات کے دوران جعلی FIA یونیفارم پہن رکھی تھی تاکہ متاثرہ افراد کو دھوکہ دیا جا سکے۔ پولیس ترجمان کے مطابق ملزمان کی شناخت ان کی TikTok ویڈیوز اور سوشل میڈیا موجودگی کے ذریعے کی گئی۔ مزید گرفتاریاں اور مال مسروقہ کی برآمدگی کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
فیروز آباد تھانے میں متاثرہ شہری کی مدعیت میں نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، جسے اب گرفتار شدگان کے ناموں سے اپڈیٹ کیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
13 کروڑ ٹک ٹاکر ڈکیتی کراچی یسرا زیب یسریٰ زیب.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: 13 کروڑ ٹک ٹاکر ڈکیتی کراچی ٹک ٹاکر
پڑھیں:
آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔
حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔