خیبر پختونخوا حکومت کے مشیر اطلاعات بیرسٹر سیف نے کہا ہے کہ دریائے سوات میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی جاری ہے اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ اس روز موسم خراب تھا اور ہیلی کاپٹر کے ذریعے ریسکیو کرنے کی صورت میں حادثہ پیش آ سکتا تھا۔

اپنے بیان میں بیرسٹر سیف نے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ سوات میں پیش آنے والا واقعہ انتہائی المناک ہے، جس پر ہمیں گہرا دکھ ہے۔ تاہم حکومت خیبر پختونخوا اس واقعے کو سنجیدگی سے لے رہی ہے اور اس میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ جس روز یہ واقعہ پیش آیا، اسی دن ہماری ریسکیو ٹیموں نے دریائے سوات سے 80 افراد کو بچایا۔ دریائے سوات ایک طویل دریا ہے جو سینکڑوں کلومیٹر پر محیط ہے۔ حادثے کے دن موسم انتہائی خراب تھا، اور ہیلی کاپٹرز کے حادثے کا بھی خطرہ موجود تھا۔

دوسری جانب بیرسٹر سیف نے پاکپتن میں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال (ڈی ایچ کیو) میں آکسیجن کی مبینہ قلت سے بچوں کی اموات پر وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے استعفے کا مطالبہ کردیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ اگر خیبر پختونخوا میں کسی واقعے پر علی امین گنڈاپور سے استعفے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے تو اس سے پہلے بلاول بھٹو اور وزیر اعلیٰ سندھ کو بھی استعفیٰ دینا چاہیے۔

انہوں نے کہاکہ مریم نواز کو پنجاب میں مرنے والے بچے نظر نہیں آتے، وہ سیاست چھوڑ کر صوبے میں صحت کے شعبے پر توجہ دیں۔

بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ مریم نواز کی حکومت میں اسپتالوں کی حالت بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے، اور اگر وہ سیاسی اخلاقیات پر یقین رکھتی ہیں تو فوری طور پر مستعفی ہو جائیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews استعفے کا مطالبہ بیرسٹر سیف خیبرپختونخوا حکومت سانحہ پاکپتن سانحہ سوات مریم نواز مشیر اطلاعات وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: استعفے کا مطالبہ بیرسٹر سیف خیبرپختونخوا حکومت سانحہ پاکپتن سانحہ سوات مریم نواز مشیر اطلاعات وی نیوز بیرسٹر سیف وزیر اعلی مریم نواز

پڑھیں:

سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ

اٹلی میں مبینہ طور پر چار پاکستانی کسانوں(Pakistani farmers) کے لرزہ خیز قتل کے واقعے پر ترجمان دفتر خارجہ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنوبی اٹلی میں جلائی گئی ایک وین سے چار افراد کی لاشیں ملی ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ابتدائی اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جاں بحق افراد پاکستانی نژاد ہو سکتے ہیں، تاہم اس مرحلے پر ان کی شہریت کی حتمی تصدیق نہیں ہو سکی۔

دفتر خارجہ کے مطابق مقامی پولیس واقعے کی مکمل تحقیقات کر رہی ہے تاکہ حقائق سامنے لائے جا سکیں۔

مزید پڑھیں:کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 تا 30 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان، ذرائع

ترجمان نے مزید بتایا کہ اٹلی میں پاکستانی سفارتخانہ مقامی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے ۔

متعلقہ مضامین

  • ڈیٹا لیک ہونے کی خبریں؛ہائر ایجوکیشن کمیشن کی وضاحت آگئی
  • کسان کارڈ سے کاشتکار سر اٹھا کر جیئے گا: مریم نواز
  • ہولناک سانحہ، ایک شخص نے خاندان کے 6 افراد کو قتل کرکے خود کو گولی مار دی
  • امریکا کیوں ایران سے ڈیل کی بھیک مانگ رہا ہے؟ امریکی ڈیموکریٹک سینیٹر کے وزیر خارجہ سے سخت سوالات
  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • مریم نواز کی کارکردگی پر لاہور کے عوام کی رائے کیا ہے؟
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • سوات اور گردونواح میں زلزلے کے شدید جھٹکے
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • سوات: گھر کی چھت اور ہوٹل کا کمرہ گرنے سے بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق