کوئٹہ، انصاف لائرز فورم کے وفد کی ایرانی قونصل جنرل سے ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT
وفد نے غاصب صہیونی حکومت کیساتھ حالیہ 12 روزہ جنگ میں اسلامی جمہوریہ ایران کی مزاحمتی کامیابی پر اطمینان اور خوشی کا اظہار کیا اور ایران، اسلامی انقلاب اور ایرانی عوام کیساتھ اپنی پختہ وابستگی اور مکمل یکجہتی کا اعلان کیا۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف کی وکلاء ونگ انصاف لائرز فورم کے وفد نے صدر سید اقبال شاہ کی قیادت میں اسلامی جمہوریہ ایران کے قائم مقام قونصل جنرل علی رضا رجائی سے کوئٹہ میں ملاقات کی۔ اس موقع پر وفد نے غاصب صہیونی حکومت کے ساتھ حالیہ 12 روزہ جنگ میں اسلامی جمہوریہ ایران کی مزاحمتی کامیابی پر اطمینان اور خوشی کا اظہار کیا اور ایران، اسلامی انقلاب اور ایرانی عوام کے ساتھ اپنی پختہ وابستگی اور مکمل یکجہتی کا اعلان کیا۔ اراکین وفد نے خطے کی صورتحال اور اسرائیل کے بڑھتے ہوئے جارحانہ اقدامات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عوامی سطح پر شعور بیدار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لئے انہوں نے سیمینارز اور آگاہی مہمات کے انعقاد کی تجویز دی۔ مزید برآں، دونوں ممالک کی بار ایسوسی ایشنز کے درمیان روابط کے فروغ اور وفود کے تبادلے پر بھی زور دیا گیا۔ قائم مقام قونصل جنرل علی رضا رجائی نے وفد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے پاکستانی عوام، بالخصوص وکلاء کی جانب سے غزہ اور فلسطین کے مظلوم عوام کے حق میں اظہار ہمدردی اور حمایت کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی مظالم اور جنگی جرائم کو مؤثر انداز میں دستاویزی شکل دے کر عالمی قانونی اداروں میں پیش کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، اور اس میدان میں وکلاء کا کردار کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔