Express News:
2026-06-03@00:14:56 GMT

سیکرڈ لیڈرشپ: قیادت کا نیا انداز

اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT

قوموں کی ترقی و بقاء میں قیادت کا کردار نہایت اہم ہوتا ہے۔ خاندان، معاشرہ اور ادارے، سب ہی راہ نماؤں کی بدولت ترقی یا تنزلی کا شکار ہوتے ہیں۔ آج کی دُنیا میں لیڈرشپ ایک ایسا موضوع ہے جس پر مختلف زاویوں سے گفتگو، تحقیق اور تجزیہ جاری ہے۔

نت نئے رجحانات اور پہلوؤں پر غوروفکر کیا جا رہا ہے، اور جدید قیادت کے عوامل و اثرات کو اُجاگر کیا جا رہا ہے۔ چوںکہ لیڈرشپ میرے پسندیدہ موضوعات میں سے ایک ہے، اس لیے میں اس پر پڑھنے، لکھنے، سیکھنے اور سکھانے کی مسلسل جستجو میں رہتا ہوں۔ میری دانست میں قیادت، قوموں کے معیار، افکار اور کردارواعمال پر گہرے انداز میں اثرانداز ہوتی ہے۔

لہٰذا، ہر وہ شخص لیڈر ہے جو ذمے داری قبول کرتا ہے، اور جو شخص ذمے داری لیتا ہے، وہ درحقیقت قیادت کے منصب پر فائز ہوجاتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں لیڈرشپ سے متعلق سوچ، خیال اور تصور بہت محدود اور اُدھورے ہیں۔ چناںچہ لوگ قیادت کو چند مخصوص زاویوں سے دیکھنے کے عادی ہوچکے ہیں۔ ہمارے ہاں جب بھی کوئی شخص لیڈرشپ کے حوالے سے گفتگو یا تبادلہ خیال کرتا ہے، تو لوگ اُس کے عہدے، مقام اور تجربے کو پرکھنے کی کوشش کرتے ہیں، گویا قیادت کا مفہوم صرف رسمی حیثیت تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔

آج کے اس مضمون میں ہم قیادت کے جس زاویے اور پہلو پر غور کریں گے، وہ ایک منفرد اور قدرے مختلف نقطۂ نظر ہے۔ اس کا مقصد معاشرے کو ایسے موضوعات اور رجحانات کی طرف متوجہ کرنا ہے، جن کے ذریعے لوگ اپنے اپنے شعبے اور عہدے میں رہتے ہوئے قیادت کے حقیقی مفہوم اور پہلوؤں کو سمجھ سکیں۔ ’’سیکرڈ لیڈرشپ‘‘ (Sacred Leadership) کوئی مذہبی، سیاسی یا غیر معمولی موضوع نہیں، بلکہ لیڈرشپ کا ایک مخصوص طرزِعمل ہے ، جس میں لیڈر اپنی ذات سے بالاتر ہو کر اپنے فالورز کی زندگی کے مقصد کو بہتر بنانے اور اس کے حصول میں اُن کی مدد کرتا ہے۔

ایسی قیادت انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی بھلائی کے لیے کوشاں ہوتی ہے۔ آج کے جدید، مصروف اور انتشارزدہ دُور میں ایسی قیادت کی شدید ضرورت ہے جو خاندانوں، معاشروں، اداروں، ملکوں اور پوری دُنیا کی بہتری کے لیے سوچے، اور عملی اقدامات کے ذریعے اس دُنیا کو ایک بہتر جگہ بنانے میں کردار ادا کرے۔ اس مضمون میں سیکرڈ قیادت کے علمی، فکری اور عملی پہلوؤں کو مربوط اور مؤثر انداز میں پیش کیا جارہا ہے۔

سیکرڈ قیادت: ایک با مقصد، با اصول اور عظیم سفر

موجودہ دُور میں قیادت صرف انتظامی امور چلانے یا کارکردگی بڑھانے تک محدود نہیں رہی ہے، بلکہ اس میں ہر روز ایک نئے تصور نے جنم لیا ہے، جسے ’’سیکرڈ قیادت‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ قیادت کا ایسا فہم ہے جو راہ نما کو محض اختیارات استعمال کرنے والا فرد نہیں، بلکہ ایک اخلاقی، روحانی اور با مقصد شخصیت کے طور پر دیکھتا ہے۔ ایسی شخصیت جو نہ صرف ادارے یا تنظیم کی ترقی کا باعث بنتی ہے، بلکہ انسانوں کی زندگیوں میں بھی مثبت تبدیلی لانے کا ذریعہ بنتی ہے۔

سیکرڈ قیادت کا مفہوم

سیکرڈ قیادت سے مراد ایسا طرزِقیادت ہے جو گہرے مقصد، اعلیٰ اقدار اور عظیم تر سچائی و روحانی حقیقت سے جڑی ہوتی ہے۔ یہ طرزِقیادت صرف وقتی کامیابیوں یا مادی فوائد تک محدود نہیں، بلکہ اس کا تعلق ایک بلند نصب العین، خدمتِ خلق اور دیرپا مثبت اثرات سے ہوتا ہے۔

یہ قیادت روحانی بیداری، اخلاقی جرات اور انسان دوستی کے امتزاج پر قائم ہوتی ہے۔ اس کے چند بنیادی اصول ہیں جو اس کی اصل رُوح کو برقرار رکھتے ہیں اور اسے عام طرزقیادت سے مختلف اورممتاز بناتے ہیں۔

مقصد پر مبنی قیادت

سیکرڈ راہ نما اپنے وجود کے مقصد سے بخوبی آگاہ ہوتا ہے۔ اُس کا ہر قدم، ہر فیصلہ اور ہر حکمتِ عملی کا محور یہی مقصد ہوتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ وہ صرف ایک ادارہ نہیں چلا رہا ہے، بلکہ ایک نظریے اور مشن کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔ اُس کی اپنے مقصد سے وابستگی نمایاں، واضح اور پُراثر ہوتی ہے۔ سیکرڈ قیادت ایک بلند اور واضح مقصد سے جُڑی ہوتی ہے، اور قائد اپنی تمام سرگرمیوں کو اسی مقصد سے ہم آہنگ رکھتا ہے۔

اقدار کی بنیاد پر راہ نمائی

یہ طرزِقیادت عہدے یا رسمی اختیارات پر نہیں، بلکہ دیانت داری، شفقت، انصاف، بردباری اور احترام جیسی اقدار پر مبنی ہوتی ہے۔ ایسی قیادت ایک ایسا ماحول پیدا کرتی ہے جس میں اعتماد، شفافیت اور باہمی تعاون کو فروغ حاصل ہوتا ہے۔ انسانی ہم دردی اور اجتماعی فلاح جیسی دائمی اقدار کو ہمیشہ اولین ترجیح دی جاتی ہے تاکہ ایک مثبت، مؤثر اور پائیدار قیادت وجود میں آ سکے۔

حقیقی شخصیت کا اظہار

سیکرڈ قائدین اگرچہ انسان ہوتے ہیں، لیکن بناوٹ سے پاک ہوتے ہیں۔ وہ جیسے اندر سے ہوتے ہیں، ویسے ہی باہر سے نظر آتے ہیں۔ اُن کی سچائی اور خلوص اُن کے پیروکاروں کے دِلوں میں اعتماد اور وفاداری پیدا کرتی ہے۔ یہ قائدین خالص اور شفاف ہوتے ہیں، جو اپنے پیروکاروں کے ساتھ گہرے انسانی اور جذباتی تعلقات قائم کرتے ہیں، اور ان کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی کے ضامن بنتے ہیں۔

مضبوط روحانی تعلق کی بنیاد

سیکرڈ قیادت کسی نہ کسی روحانی حقیقت سے جُڑی ہوتی ہے، چاہے وہ مذہب ہو، انسانیت کا احترام، یا کائناتی وحدت کا شعور۔ یہ روحانی تعلق قائد کو عاجزی، خوداحتسابی اور مسلسل بہتری کی طرف لے جاتا ہے۔ اگرچہ یہ قیادت لازمی طور پر مذہبی نہیں ہوتی ہے، لیکن یہ کسی اعلیٰ روحانی مقصد، آفاقی تعلق کے احساس، یا عظیم تر نصب العین سے جُڑے رہنے پر زور دیتی ہے۔ یہی تعلق قائد کی بصیرت، نرمی اور اخلاقی پختگی کی بنیاد بنتا ہے۔

خدمت گزار قیادت

سیکرڈ قائد خود کو دوسروں کا خادم سمجھتا ہے، نہ کہ مالک یا حکم ران۔ وہ اپنے پیروکاروں کی بھلائی، ادارے کی ترقی اور معاشرے کی بہتری کے لیے اپنا وقت، توانائیاں اور صلاحیتیں وقف کرتا ہے۔ ایسے راہ نما دوسروں کی ضروریات کو ترجیح دیتے ہیں اور ادارے کی فلاح و بہبود کو اپنا اولین مقصد بناتے ہیں، تاکہ کمیونٹی میں اجتماعی ذمہ داری اور باہمی ہمدردی کا احساس پروان چڑھے۔

مثبت تبدیلی اور احساس کا قیمتی ورثہ

سیکرڈ قیادت وقتی شہرت یا ذاتی فائدے پر قناعت نہیں کرتی ہے۔ یہ ایسی قیادت ہے جو ایک دیرپا اور پائے دار ورثہ چھوڑنے کی خواہاں ہوتی ہے۔ ایسا ورثہ جو آنے والی نسلوں تک فائدہ پہنچائے اور معاشرے میں حقیقی بہتری کا ذریعہ بنے۔ یہ طرزِقیادت عارضی کامیابی کی بجائے، گہری اور دیرپا مثبت تبدیلی پر مرکوز ہوتی ہے، جو افراد، اداروں اور قوموں کی تقدیر بدل سکتی ہے۔

دیگر طرزِقیادت سے مختلف اور منفرد

عمومی طور پر قیادت کو دو بڑے زمروں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ لین دین پر مبنی قیادت (Transactional Leadership) جہاں قائد کارکردگی کے بدلے انعام یا سزا دیتا ہے۔ تبدیلی پسند قیادت (Transformational Leadership) جو افراد کو متاثر کر کے بااختیار بناتی ہے اور ان کے اندر ایک نیا جذبہ پیدا کرتی ہے۔ تاہم، سیکرڈ قیادت ان دونوں سے کہیں آگے کا سفر ہے۔ یہ قیادت محض عملیت یا کارکردگی پر زور نہیں دیتی بلکہ ’’روحانیت اور خودآگاہی‘‘ کو قیادت کا لازم جزو قرار دیتی ہے۔ سیکرڈ قیادت انسان کو مشین یا محض وسائل کا جزو نہیں سمجھتی بلکہ ایک ’’مکمل روحانی، جذباتی، اور اخلاقی وجود‘‘ مانتی ہے، جس کی فلاح، ترقی اور راہ نمائی کو ایک مقدس فریضہ تصور کیا جاتا ہے۔ جیمز ڈبلیو ڈیوس نے اپنی کتاب Sacred Leadership: Leading for the Greatest Good میں راہ نما کی تجزیاتی سوچ کو اس کی روحانی گہرائی سے جوڑ کر قیادت کے ایک جامع، متوازن اور با مقصد تصور کی بنیاد رکھی ہے۔

اسی طرح Shift Practitioner جیسے ادارے مقامی اور عالمی قیادت کے ماڈلز سے سیکھ کر، جدید تنظیمی قیادت میں روحانی اور اجتماعی دانش کو شامل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ ’’سچی قیادت وہی ہے جو انسان اپنی سچائی اور اصلیت کے ساتھ کرے، اور ایسا اثر چھوڑے جو صرف ڈیجیٹل یا مادی دُنیا تک محدود نہ ہو، بلکہ رُوح کی گہرائیوں تک جا پہنچے۔‘‘

سیکرڈ قیادت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ایک کام یاب قائد بننے کے لیے صرف مہارتیں، حکمتِ عملی یا اہداف کافی نہیں ہیں، بلکہ نیک نیت، اعلیٰ مقصد، سچائی، عاجزی اور خدمت کا جذبہ ضروری ہے۔ یہ قیادت نہ صرف اداروں کو ترقی دیتی ہے، بلکہ دلوں کو جیتتی ہے، رُوحوں کو چھوتی ہے اور معاشروں کو سنوارتی ہے۔ ایسے قائدین دُنیا کو صرف بہتر نہیں بناتے، بلکہ بامعنی اور با مقصد بناتے ہیں۔ اور آج کے بحران زدہ، مادیت زدہ اور افراط و تفریط سے بھری دُنیا کو ایسے ہی راہ نماؤں کی اشد ضرورت ہے جو قیادت کو ذمے داری اور خدمت کا عمل سمجھیں۔

سیکرڈ قیادت کی امتیازی خوبیاں

اعلیٰ مقصد کی حامل قیادت میں وہ خوبیاں پائی جاتی ہیں جو اسے روایتی قیادت سے منفرد بناتی ہیں۔ یہ قیادت جذبہِ خدمت سے سرشار ہوتی ہے۔ اپنی ذات سے آگاہی اور روحانی شعور اس کا خاصہ ہوتا ہے۔ یہ قائدین اپنی زندگی کے مقصد، کام یابی کے تصور، اور دُنیا میں بہتری کے لیے ایک واضح اور بلند موقف رکھتے ہیں۔

معاشرتی ترقی کے معمار

سیکرڈ قائدین اپنی شخصیت کو عملی نمونہ بنا کر معاشرے میں حقیقی اور اجتماعی ترقی کے علم بردار بنتے ہیں۔ یہ معاشرے کو ان سمتوں اور راہوں سے متعارف کرواتے ہیں جن پر سوچنا یا گفتگو کرنا اکثر محدود سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں ’’معاشرتی ترقی کے معمار‘‘ کہا جاتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں بھی ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جن پر غوروفکر کرنے اور ان سے سبق لینے کی ضرورت ہے۔

قدرتی اور آفاقی صفات کے حامل

سیکرڈ راہ نما ایسی قدرتی اور آفاقی صلاحیتوں کے حامل ہوتے ہیں جنہیں خالق نے خاص مقصد کے تحت نوازا ہوتا ہے تاکہ وہ انسانیت کی رہنمائی اور خدمت کا فریضہ انجام دے سکیں۔ ان کی صلاحیتوں، مہارتوں اور خوبیوں سے نہ صرف ان کی ذات بلکہ ادارے، معاشرہ اور بنی نوع انسان مستفید ہوتے ہیں۔ دُنیا میں بے شمار قائدین بظاہر اعلیٰ صلاحیتوں سے آراستہ ہوتے ہیں، لیکن ان میں قیادت کی رُوح یعنی مقصد، خدمت اور انسان دوستی کے وٹامن کی کمی پائی جاتی ہے۔

انسانیت کے پیامبر

سیکرڈ قائدین کسی مخصوص قوم، جماعت، فرقے یا سرحد تک محدود نہیں ہوتے۔ وہ انسانیت پر یقین رکھتے ہیں اور ہر ممکن کوشش کرتے ہیں کہ انسانوں کی بھلائی کے لیے خدمات انجام دیں۔ وہ عالم گیریت، لافانیت، اور آفاقی محبت کے پرچار ہوتے ہیں۔ ان کا نصب العین رنگ، نسل، مذہب یا زبان سے ماورا ہوتا ہے۔

روشنی کے مینار

یہ قائدین اپنے افکار، کردار اور اعمال سے دوسروں کے لیے روشنی کے مینار ہوتے ہیں۔ وہ نہ صرف ذہن سازی کرتے ہیں بلکہ سماجی تشکیل میں بھی رول ماڈل کا کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کی شخصیت دوسرے راہ نماؤں کے لیے مشعلِ راہ اور نوجوان نسل کے لیے قابلِ تقلید مثال ہوتی ہے۔

روشن مثال

سیکرڈ قائدین جس بھی شعبے سے وابستہ ہوں، اپنے ادارے، افراد اور پیروکاروں کے لیے ایک ’’روشن مثال‘‘ ہوتے ہیں۔ انہیں مثبت تبدیلی لانے کے لیے نہ عہدے کی ضرورت ہوتی ہے، نہ مرتبے یا اختیار کی۔ ان کا اصل اثر ان کی ’’سچائی، اخلاص، وژن اور عمل‘‘ سے ہوتا ہے، جو دوسروں کو تحریک دیتا ہے۔

سیکرڈ لیڈرشپ: قیادت کا نیا انداز

یہ قیادت اپنے اندر ایک بصیرت افروز، فکری گہرائی لیے ہوئے ہے اور وقت کی اشد ضرورت ہے۔ یہ قیادت کو محض طاقت یا اختیار سے جوڑنے کے بجائے اسے روحانیت، اخلاق، خدمت اور اعلیٰ مقصد سے ہم آہنگ کرتی ہے۔ سیکرڈ لیڈرشپ ایک ایسا جدید اور بامعنی تصور ہے جو قیادت کو ایک مقدس فریضہ تصور کرتا ہے۔ ایک ایسا سفر جو اپنی ذات سے بلند ہوکر خدمتِ انسانیت کے جذبے پر مبنی ہوتا ہے۔ اگر ہم اس قیادت کے فلسفے کو اپنائیں تو نہ صرف بہتر ادارے تشکیل دے سکتے ہیں بلکہ ایسی دُنیا کی تعمیر بھی ممکن ہے، جہاں انسانیت، محبت، خدمت اور فلاح کا بول بالا ہو۔ ہمیں ایسے راہ نماؤں کی ضرورت ہے جو صرف روشنی کے مینار نہ ہوں، بلکہ اُمید کا سورج بھی بنیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سیکرڈ قائدین سیکرڈ لیڈرشپ سیکرڈ قیادت مثبت تبدیلی تک محدود نہ سیکرڈ قائد ایسی قیادت طرز قیادت راہ نماؤں میں قیادت کی بنیاد یہ قیادت قیادت سے ہوتے ہیں قیادت کے ایک ایسا قیادت کو ضرورت ہے قیادت کا کرتے ہیں راہ نما کرتا ہے جاتا ہے ہوتا ہے ہوتی ہے کرتی ہے کہ ایک بلکہ ا ا فاقی کے لیے اور ان

پڑھیں:

عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی

بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔

ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔

ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔

ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔

اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔

 نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔

 لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

 ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔

سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔

پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی