شام پر بیشتر امریکی پابندیاں ختم، صدر ٹرمپ نے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کردیے
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر کے شام پر عائد بیشتر امریکی پابندیاں باقاعدہ طور پر ختم کردی ہیں۔
واضح رہے کہ امسال مئی کے وسط میں ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دورہ مشرق وسطیٰ کے دوران شام پر امریکی پابندیاں ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔
امریکی صدر نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے کہنے پر شام پر سے پابندیاں ہٹانے ہٹانے کا اعلان کیا تھا۔ اس اعلان پر ردعمل دیتے ہوئے شامی وزیر خارجہ اسد الشائبانی نے ملک کے لیے ‘رخ موڑنے والا’ مرحلہ قرار دیا تھا اور انہیں ہٹانے کے لیے سعودی کوششوں کو سراہا تھا۔
یہ بھی پڑھیے ڈونلڈ ٹرمپ محمد بن سلمان کی درخواست پر شام پر عائد تمام پابندیاں ہٹانے پر رضامند
یہ پابندیاں امریکا نے شام پر بشار الاسد کے دور میں عائد کی تھیں۔ پابندیوں میں توسیع 2004 اور 2011 میں ہوئی تھی، جس میں شام کو دہشتگردی کے حامی ریاست کے طور پر نامزد کیا گیا تھا۔ تاہم گزشتہ سال دسمبر میں بشار الاسد کی معزولی کے بعد سے امریکا اور شام کے تعلقات میں بہتری آئی ہے۔
پابندیاں شام کی نئی حکومت، بشار الاسد اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث افراد پر الگ الگ ہیں۔ ممکنہ طور پر شام کے سابق صدر اسد اور ان کے اتحادیوں پر پابندیاں برقرار رہیں گی ۔
امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان پابندیوں نے اپنا کردار ادا کردیا ہے اور اب شام کے آگے بڑھنے کا وقت آچکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جیسے جیسے ہم کئی سالوں کی جنگ کے بعد استحکام پر مبنی مستقبل، خود کفالت اور تعمیر کی طرف بڑھ رہے ہیں، امریکی صدر کا یہ اعلان ایک اہم مرحلہ ہے۔
امریکی پابندیاں ختم ہونے کے اثرات کیا ہوں گے؟
امریکی محکمہ خزانہ نے GL‑25 جنرل لائسنس جاری کیا، جس نے شام میں نئے سرمایہ سرمایہ کاری، مالیاتی خدمات، اور توانائی کے شعبوں میں کاروبار کی راہ ہموار کی۔
یہ بھی پڑھیے یورپی یونین نے شام پر سے متعدد اقتصادی پابندیاں ہٹالیں
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنت نے کہا ہے کہ اس اقدام سے شام کی معیشت بحالی اور امن و استحکام کی راہ ہموار ہوگی۔
علاقائی و بین الاقوامی تناظر
یہ امریکی فیصلہ خلیجی ممالک اور ترکی کی حمایت کے پس منظر میں کیا گیا ہے، کیونکہ وہ شام کی تعمیر نو چاہتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہن اہے کہ یہ اقدام اسرائیل شام تعلقات میں امن قائم کرنے کے مقصد کے تحت کیا گیا۔ اس سلسلے میں اسرائیل کے ساتھ مذاکرات پر بھی غور و خوض کیا جارہا ہے۔
کیا شام پر پابندیاں مکمل ختم ہوئیں؟
نہیں، پابندیاں صرف شام کی نئی حکومت پر ختم کی گئی ہیں، جب کہ سابق صدر بشار الاسد، ان کے اتحادی، انسانی حقوق کی خلاف ورزی میں ملوث افراد، داعش/ القاعدہ عناصر، اور ایرانی حمایت یافتہ تنظیموں پر اب بھی پابندیاں برقرار ہیں۔
یہ بھی پڑھیے سعودی عرب اور قطر کا شام کے ذمہ ورلڈ بینک کے قرضے کا تصفیہ کرنے کا اعلان
امریکہ کے اس اقدام کا مقصد شام کی تعمیر نو کی راہ ہموار کرنا، خطے میں استحکام لانا اور ایران کے اثرورسوخ کو روکنا ہے۔ تاہم، مرحلہ وار پابندیوں کا خاتمہ ایک محتاط قدم ہے تاکہ سابقہ موثر عناصر پر دباؤ برقرار رہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ شام پر پابندیاں ختم.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: شام پر پابندیاں ختم امریکی پابندیاں پابندیاں ختم بشار الاسد امریکی صدر شام کی شام کے
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔
امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔
تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔