اسلام آباد: ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے نئے مالی سال کے آغاز پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ پاکستان کو معاشی میدان میں مہنگائی، بے روزگاری اور تجارتی خسارے جیسے سنجیدہ چیلنجز کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مہنگائی سے عوام کی قوتِ خرید متاثر ہوئی ہے جبکہ کاروباری طبقہ بھی شدید دباؤ میں ہے۔ بے روزگاری میں اضافہ نوجوانوں کے لیے سنگین مسئلہ بن چکا ہے، اور تجارتی خسارہ معیشت پر مستقل دباؤ ڈال رہا ہے۔

صدر ایف پی سی سی آئی کا کہنا تھا کہ ان چیلنجز کے باوجود معاشی امکانات کے در بھی کھلے ہیں، حکومت نے انفراسٹرکچر اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے کچھ اقدامات کیے ہیں۔ تاہم غربت میں کمی اور معیشت کی بحالی کے لیے مزید ٹھوس پالیسیوں کی ضرورت ہے۔

انہوں نے تجویز دی کہ حکومت زراعت اور سیاحت کے شعبوں میں سرمایہ کاری میں اضافہ کرے، شرح سود میں کمی لائے، روزگار کے مواقع پیدا کرے اور چھوٹے کاروبار و مقامی صنعتوں کی ترقی پر توجہ دے۔

عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ اگر حکومت سنجیدگی سے ان پالیسیوں پر عمل کرے تو نئے مالی سال میں معاشی ترقی کی منزل حاصل کی جا سکتی ہے۔

Post Views: 1.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

کم از کم ماہانہ اجرت کتنی ہونی چاہیے؟  نئے مالی سال کے لیے سفارش کردی گئی

نئے مالی سال کے لیے کم از کم اجرت  مقرر کرنے کے حوالے سے نئی سفارش سامنے آ گئی۔

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے مالی سال 27-2026 کے لیے ملک میں کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی باضابطہ سفارش کر دی ہے۔

نجی ٹی وی کے مطابق پائیڈ نے اپنے شواہد پر مبنی فریم ورک کے ذریعے موجودہ 40 ہزار روپے کی تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے کا منصوبہ پیش کیا ہے۔ یہ تجویز قومی سطح پر ملازمین کے مالی حالات کو بہتر بنانے اور معاشی استحکام کی جانب ایک اہم قدم کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔

رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ کم از کم اجرت کا تعین اب صرف محکمۂ محنت کا داخلی معاملہ نہیں رہا، بلکہ یہ فیصلہ ملکی معیشت کے وسیع تر پہلوؤں پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ اس میں شہریوں کی قوتِ خرید، غربت کی شرح، غیر رسمی روزگار اور مقامی طلب جیسے اہم عوامل شامل ہیں۔

ادارے نے مزید واضح کیا کہ تنخواہوں میں یہ ردوبدل پیداواری ترغیبات بڑھانے اور سماجی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے۔

رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026 کے جولائی سے اپریل تک اوسط افراطِ زر 6.19 فیصد ریکارڈ کی گئی، جبکہ اپریل 2026 میں سال بہ سال بنیادوں پر افراطِ زر کی شرح 10.9 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔

متعلقہ مضامین

  • اسپیکر سردار ایاز صادق کی اصلاحاتی پالیسیوں سے قومی اسمبلی کے اخراجات میں نمایاں کمی
  • مشکل معاشی حالات میں حکومت کا ساتھ دینے پر کاروباری برادری کا شکریہ،حکومت اور نجی شعبے کی مضبوط شراکت داری معاشی ترقی کی ضمانت ہے، وزیراعظم
  • کم از کم ماہانہ اجرت کتنی ہونی چاہیے؟  نئے مالی سال کے لیے سفارش کردی گئی
  • کاروباری رہنماؤں کا حکومتی معاشی پالیسیوں پر اعتماد، تعاون جاری رکھنے کا عزم
  • روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ
  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی