ایلون مسک کا بڑا اعلان: امریکی نظام کے خلاف ’امریکا پارٹی‘ لانے کی دھمکی
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے ارب پتی مالک ایلون مسک نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی سینیٹ نے حکومت کے اخراجات بڑھانے والا نیا بل منظور کیا تو وہ نئی سیاسی جماعت ’امریکا پارٹی‘ بنانے کا اعلان کریں گے۔
مسک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر کہا: "جن اراکینِ کانگریس نے عوام سے وعدہ خلافی کرتے ہوئے ملکی قرضے میں ریکارڈ اضافہ کیا، انہیں شرم آنی چاہیے۔ اگر یہ میری زندگی کا آخری کام بھی ہوا، تو میں انہیں اگلے الیکشن میں ہراؤں گا۔"
انہوں نے مزید کہا کہ: "اگر یہ بل منظور ہو گیا تو اگلے ہی دن 'امریکا پارٹی' بنائی جائے گی۔ ہمیں ڈیموکریٹ اور ریپبلکن جیسی ایک جیسی سوچ رکھنے والی 'یونی پارٹی' کا متبادل چاہیے۔"
یاد رہے کہ مسک نے 2024 کے صدارتی انتخاب میں ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر ریپبلکنز کی حمایت کے لیے 275 ملین ڈالر (تقریباً 27 کروڑ 50 لاکھ) خرچ کیے تھے، مگر اب وہ خود ٹرمپ کے پالیسی بل کے خلاف کھل کر میدان میں آ گئے ہیں۔
If this insane spending bill passes, the America Party will be formed the next day.
Our country needs an alternative to the Democrat-Republican uniparty so that the people actually have a VOICE. — Elon Musk (@elonmusk) June 30, 2025
مسک کا کہنا ہے کہ یہ بل اگلے 10 سالوں میں امریکی بجٹ خسارے کو 3.3 ٹریلین ڈالر تک بڑھا دے گا، جس سے آنے والی نسلیں ’’قرض کی غلامی‘‘ میں چلی جائیں گی۔
سینیٹ میں زیر غور بل میں ٹیکس کٹوتیاں، سرکاری اخراجات میں کمی، اور کچھ آمدنی بڑھانے کی تجاویز شامل ہیں۔ لیکن مسک کا ماننا ہے کہ یہ بل مستقبل کی معیشت (برقی گاڑیاں، جدید توانائی) کی بجائے ماضی کی صنعتوں کو فائدہ دیتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
اسلام آباد:وفاقی بجٹ میں 220 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگانے، تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم لانے کی تجاویز ہیں، بچوں کے فارمولا دودھ، گھی، کوکنگ آئل سمیت درجنوں اشیائے خورونوش سیلز ٹیکس کے تیسرے شیڈول میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق بجٹ میں سالانہ 20 کروڑ روپے سیل پر 25 ہزار روپے فکس ٹیکس دینا ہوگا جس پر تاجروں کو آڈٹ سے استثنیٰ دیا جاسکتا ہے، آئی ایم ایف نے جی ایس ٹی کی شرح 18 سے بڑھا کر 19 فیصد کرنے پر زور دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اگلے مالی سال کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کے لیے بجٹ میں اضافی ٹیکس اقدامات شامل ہوں گے، نئے بجٹ میں سپر ٹیکس میں ایک سے دو فیصد تک کمی کی بھی تجویز ہے۔
بجٹ میں شیر خوار بچوں کے فارمولا دودھ، کیچپ، ویجیٹیبل گھی، کوکنگ آئل، چائے کی پتی، چینی، خشک دودھ اور اس سے تیار شدہ مصنوعات سمیت درجنوں اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی ضروری اشیاء پر سیلز ٹیکس وصولی کے لیے پرچون قیمت پرنٹ کرنے کا لازمی قرار دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے لیے ان درجنوں اشیاء کو تیسرے شیڈول میں شامل کیا جائے گا۔
علاوہ ازیں جن اشیائے خوردونوش اور اشیائے ضروریہ پر بھاری ٹیکس عائد ہے اسے اگلے بجٹ میں بھی برقرار رکھے جانے کا امکان ہے جس سے ان اشیاء کے مہنگے ہونے کا خدشہ ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبلڈ کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر پانچ روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے۔ آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ میں کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے جس کیلئے ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
دریں اثنا وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔