کوئٹہ(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔یکم جولائی ۔2025 )بلوچستان کے ضلع مستونگ میں نامعلوم مسلح افراد نے تحصیل کے دفتر اور بینکوں پر حملہ کیا ہے پولیس حکام کے مطابق ان حملوں میں اب تک کم از کم ایک بچہ ہلاک اور پانچ افراد زخمی ہوئے ہیں ڈی ایس پی مستونگ محمد یونس مگسی نے بتایا کہ مسلح حملہ آوروں نے پہلے مستونگ شہر میں تحصیل آفس پر حملہ کیا ہے.

(جاری ہے)

نجی ٹی وی کے مطابق یونس مگسی نے بتایا کہ اس حملے کے بعد پولیس اہلکار پہنچے اور حملہ آوروں کے ساتھ مقابلہ ہوا اور مقابلے کے بعد حملہ آور تحصیل آفس سے نکل کر ایک بینک میں داخل ہوئے جہاں پولیس اہلکاروں کے پہنچنے کے بعد انہوں نے راکٹ فائر کیے ڈی ایس پی کا کہنا تھاکہ ایف سی کی نفری بھی شہر میں پہنچ گئی ہے اور سکیورٹی فورسز اور پولیس اہلکاروں کا مسلح افراد کے ساتھ مقابلہ جاری ہے.

انہوں نے بتایا کہ اس وقت جانی اور مالی نقصانات کا اندازہ لگانا مشکل ہے تاہم اب تک ایک بچے کی ہلاکت کے علاوہ پانچ افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق ہوئی ہے انہوں نے کہا کہ زخمیوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے. دوسری جانب سرکاری حکام کے مطابق مستونگ کے ہسپتالوں میں ایمر جنسی نافذ کردی گئی ہے مسلح افراد کے حملے کے بعد شہر میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے اور شہر کے مرکزی علاقے خالی ہوگئے ہیں مستونگ بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے متصل جنوب میں واقع ایک ضلع ہے جو کہ کوئٹہ سے 60 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے مستونگ کی آبادی مختلف بلوچ قبائل پر مشتمل ہے بلوچستان میں حالات کی خرابی کے بعد سے ضلع مستونگ میں بھی بدامنی کے واقعات پیش آتے رہے ہیں.

مستونگ میں ماضی میں پیش آنے والے بڑے واقعات میں سے بعض کی ذمہ داری بلوچ عسکریت پسند تنظیمیں قبول کرتی رہی ہیں جبکہ بعض کہ ذمہ داری مذہبی شدت پسند تنظیموں کی جانب سے قبول کی جاتی رہی ہے حالیہ واقعے کی ذمہ داری فی الحال کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے ایک اور رپورٹ کے مطابق حملہ آوروں کی جانب سے شہر کے مرکزی بازار میں بھی اندھا دھندفائرنگ کی گئی اور متعدد سرکاری گاڑیوں اور املاک کو نذر آتش کیا گیا واقعے کے بعد بازار بند ہوگیا ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری علاقے میں پہنچ گئی ہے. 

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے مسلح افراد مستونگ میں کے مطابق کے بعد

پڑھیں:

محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت

سٹی 42 : وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کی جانب سے مستونگ کے قریب  سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور جوڈیشل مجسٹریٹ طارق لاشاری پر فائرنگ کی پرزور مذمت کی گئی ہے۔ 

 وزیرداخلہ محسن نقوی نے سیشن جج عبدالحکیم  اور  گن مین کے جاں بحق ہونے کے واقعہ پر اظہار افسوس کیا۔ محسن نقوی نے سوگوار خاندانوں سے دلی ہمدردی و تعزیت کا اظہار  کیا۔

وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کی جانب سے مرحومین  کی بلندی درجات کیلئے دعا، وزیرداخلہ محسن نقوی نے زخمی جوڈیشل مجسٹریٹ طارق لاشاری اور دیگر افراد کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔ 

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

محسن نقوی نے کہا کہ ایسی بزدلانہ کارروائیاں قوم کے پختہ عزم کو پست نہیں کر سکتیں۔ انہوں نے کہا کہ شہداء کے خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہمیشہ ساتھ رہیں گے۔ 

متعلقہ مضامین

  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق