انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے والوں کی تعداد میں اضافے کے باوجود ٹیکس وصولی میں شارٹ فال کا سامنا کیوں؟
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
ملکی معاشی حالات اور آئی ایم ایف شرائط کے ساتھ قرض معاہدے کے باعث حکومت نے نان فائلرز پر ٹیکس کی شرح کو کئی گنا بڑھا دیا تھا جس کے بعد لوگوں نے ٹیکس ریٹرن تو جمع کرانا شروع کردیا البتہ ٹیکس جمع نہیں کرایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: انکم ٹیکس آرڈیننس 2001ء میں ترمیم منظور، پراپرٹی کی فروخت پر ود ہولڈنگ ٹیکس میں اضافہ
حکومت نے مالی سال 25-2024 کا ہدف بھی تاریخی 12 ہزار 977 ارب روپے رکھا تھا، اس ہدف کو دو مرتبہ کم بھی کیا گیا اس کے باوجود ایف بی آر ہدف حاصل کرنے میں ناکام نہیں رہی اور تاریخی شارٹ فال رہا۔
ذرائع کے مطابق ٹیکس سال 2024 کے دوران انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے والوں کی تعداد میں 76 فیصد تک کا اضافہ ہوا لیکن ٹیکس ریونیو میں صرف 30 فیصد تک کا اضافہ ہوا، اس کی بڑی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ لوگوں نے کم ٹیکس ادائیگی کے لیے ٹیکس فائلر کا اسٹیٹس تو حاصل کرلیا البتہ ٹیکس ریٹرن میں ظاہر کیاکہ کچھ آمدنی نہیں ہوئی۔
دوسری جانب فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ٹیکس ریونیو ہدف 12 ہزار 977 ارب روپے رکھا تھا تاہم ایف بی آر کو یہ ہدف حاصل نہ ہو سکا اور اس سال 1470 ارب روپے کے تاریخی شارٹ فال کا سامنا رہا۔
یہ بھی پڑھیں: تنخوادار طبقے کے لیے خوشخبری، انکم ٹیکس میں مزید کمی کی منظوری
ذرائع کے مطابق مالی سال کے دوران ٹیکس ریونیو ہدف پر دو مرتبہ نظر ثانی کرکے نیا ٹیکس ہدف 11 ہزار 980 ارب روپے مقرر کردیا گیا، مگر گزشتہ روز تک ایف بی آر نے 11 ہزار 280 ارب روپے کا ٹیکس ریونیو جمع کیا تھا، اس طرح نظر ثانی شدہ ہدف حاصل کرنے میں بھی 620 ارب روپے کا شارٹ فال رہا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews انکم ٹیکس ریٹرن ایف بی آر ریونیو شارٹ فال فیڈرل بورڈ آف ریونیو ملکی معاشی حالات وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انکم ٹیکس ریٹرن ایف بی ا ر ریونیو شارٹ فال فیڈرل بورڈ ا ف ریونیو ملکی معاشی حالات وی نیوز ٹیکس ریونیو ٹیکس ریٹرن ایف بی ا ر انکم ٹیکس ارب روپے شارٹ فال
پڑھیں:
جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
تہران: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے کہا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود تہران نے سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کیا اور مختلف علاقائی ثالثوں کے ذریعے امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے۔
غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار نے الزام عائد کیا کہ امریکا ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ شہری تنصیبات پر حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں اور یہ اقدامات امریکا کی بے بسی کو ظاہر کرتے ہیں۔
سینئر ایرانی سفارتی ذریعے نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارتی حل کے لیے مثبت رویہ اختیار کیا تاہم امریکا کی دھمکی آمیز پالیسی، جارحانہ اقدامات اور مسلسل فوجی کارروائیوں نے مذاکراتی ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران اب بھی اختلافات کے حل کے لیے سفارتی راستے کو اہم سمجھتا ہے، لیکن ساتھ ہی اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ آپشنز بھی زیر غور رکھے ہوئے ہے۔
ایرانی عہدیدار نے مزید دعویٰ کیا کہ موجودہ بحران کی بنیادی وجہ 17 جون کو ہونے والی مفاہمتی یادداشت سے امریکا کی مبینہ دستبرداری ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا، جس کے باعث خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔
ایرانی حکام کے مطابق اگر امریکا اپنی پالیسی میں تبدیلی لاتا ہے اور معاہدے کی شرائط کا احترام کرتا ہے تو سفارتی پیش رفت کی گنجائش موجود ہے، تاہم موجودہ حالات میں تہران اپنی دفاعی اور سیاسی حکمت عملی پر عمل جاری رکھے گا۔
تاحال امریکی حکومت کی جانب سے ایرانی عہدیدار کے ان تازہ الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔