ترکیہ؛ گستاخانہ خاکہ شائع کرنے پر کارٹونسٹ سمیت 4 افراد گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
ترکیہ میں گستاخانہ خاکہ شائع کرنے پر ہفت روزہ میگزین کے ایڈیٹرز اور کارٹونسٹ کو گرفتار کرلیا گیا۔
ترک میڈیا کے مطابق میگزین میں پیغمبر اسلام ﷺ کے گستاخانہ خاکے شائع کیے گئے جس پر عوام میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی تھی۔
گزشتہ ہفتے کے شمارے میں ان گستاخانہ خاکوں کی اشاعت پرمذہبی حلقوں کی جانب سے بھی شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔
استنبول میں واقع میگزین کے دفتر پر مشتعل مظاہرین نے حملہ کر دیا۔ پولیس کی مشتعل مظاہرین کو روکنے کی تمام کوششیں ناکام ثابت ہوئیں۔
Peygamber Efendimizin (S.
Bu alçak çizimi yapan D.P. adlı şahıs yakalanarak gözaltına alınmıştır.
Bir kez daha yineliyorum:
Bu hayasızlar hukuk önünde hesap verecektir. pic.twitter.com/7xYe94B65d — Ali Yerlikaya (@AliYerlikaya) June 30, 2025
پولیس نے میگزین کے تازہ شمارے کی تمام کاپیاں ضبط کرلیں اور ادارے کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا۔
پولیس نے میگزین کے 4 سینیئر ملازمین 2 ایڈیٹر انچیفس، کارٹونسٹ اور منیجنگ ایڈیٹر کو گرفتار کرلیا جبکہ دیگر کئی افراد کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے ہیں۔
ترک صدر طیب اردوان نے کہا کہ جو لوگ حضرت محمد ﷺ اور دیگر انبیا کی شان میں گستاخی کریں گے ان سے قانون کے مطابق بازپرس کی جائے گی۔
صدر اردوان نے مزید کہا کہ مذکورہ خاکہ مزاح کے پردے میں کی گئی ایک گھٹیا اشتعال انگیزی ہے جو "نفرت پر مبنی جرم" ہے۔
میگزین کے ایڈیٹر انچیف نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے وضاحت کی کہ متنازع خاکے کا پیغمبر اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: میگزین کے
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔