ملک بھر کے یوٹیلیٹی اسٹورز بند کرنے کا فیصلہ، آپریشنز آج سے معطل
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
وفاقی حکومت نے ملک بھر میں تمام یوٹیلیٹی اسٹورز 10 جولائی سے مکمل طور پر بند کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ وزیراعظم کی ہدایت پر یوٹیلیٹی اسٹورز کے پانچ ہزار سے زائد ملازمین کو سرپلس پول میں شامل کر دیا گیا ہے، جبکہ رضاکارانہ علیحدگی پیکج دینے کی منظوری بھی دے دی گئی ہے۔
یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن کے ایم ڈی کی زیرصدارت اجلاس میں اس حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے۔ اعلامیے کے مطابق آج سے ملک بھر کے تمام فعال یوٹیلیٹی اسٹورز کا آپریشن بند کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ اسٹورز پر موجود تمام سامان کو مرحلہ وار ویئر ہاؤسز میں منتقل کیا جائے گا، جہاں متعلقہ حکام کی نگرانی میں سامان واپس یا نیلام کیا جائے گا۔ ملک بھر کے اسٹورز اور دفاتر میں موجود اشیاء کی شفاف طریقے سے نیلامی کی جائے گی۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ کرائے پر حاصل کردہ اسٹورز کو یکم اگست سے خالی کرنے کے نوٹس جاری کیے جائیں گے، جب کہ یوٹیلیٹی اسٹورز کے اثاثہ جات کی مالیت کا تخمینہ لگوانے کا عمل بھی شروع کیا جائے گا۔
Post Views: 3.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: یوٹیلیٹی اسٹورز ملک بھر گیا ہے
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔