ویب ڈیسک: وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی شاہراہوں پر ٹریفک قوانین پر عملدرآمد کروانے کیلئے ڈرون استعمال کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔

 سی ٹی او اسلام آباد ذیشان حیدر کااس حوالے سے  کہنا ہے کہ اسلام آباد کی شاہراہوں پر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیاں روکنے کیلئے جدید ٹیکنالوجی استعمال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،اب ٹریفک پولیس ڈرون کیمروں کی مدد سے ٹریفک قوانین پر عملدرآمد یقینی بنائے گی۔

جوڈیشل کمیشن کا اجلاس: پشاورہائیکورٹ کےچیف جسٹس کیلئے جسٹس عتیق شاہ کا نام منظور

 سی ٹی اواسلام آباد نے کہاہے  کہ اسلام آباد کی مصروف شاہراہوں پر جدید کیمروں سے لیس ڈرون اڑائے جائیں گے، ڈرونز کی مدد سے خلاف ورزی کی نشاندہی اور فی الفور چالان ہوگا۔

 چیف ٹریفک آفیسر اسلام آبادکا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر ڈرون ٹیکنالوجی کا استعمال ایکسپریس وے اور سرینگر ہائی وے پر ہوگا،اگلے مرحلے میں تمام سیکٹرز اور دیگر شاہراہوں پر بھی یہ  ٹیکنالوجی استعمال کی جائے گی۔

سکولوں کے فنڈز میں گھپلوں کا انکشاف

 سی ٹی او اسلام آباد نے مزید کہاہے کہ ڈرون کی مدد سے رش والے مقامات کی بھی نشاندہی کی جاسکے گی، نشاندہی کے بعد خصوصی ٹیم فوری طور پر رسپانس یقینی بنائے گی،اس طرح جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ٹریفک قوانین کی پاسداری یقینی بنائی جاسکے گی۔

  
 
 

Ansa Awais Content Writer.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: ٹریفک قوانین شاہراہوں پر کی مدد سے

پڑھیں:

ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار

اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔

سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔

ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔

ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل