WE News:
2026-07-24@05:43:35 GMT

اسلامی جمہوریہ میں طلاق کا غیر اسلامی قانون

اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT

 

’کمیشن برائے شادی و عائلی قوانین‘

عام طور پر یہ فرض کیا گیا ہے کہ مسلم عائلی قوانین آرڈیننس 1961ء کا اجرا غالباً حکومتِ پاکستان کی جانب سے اگست 1955 میں قائم کردہ ’کمیشن برائے شادی و عائلی قوانین‘ کی سفارشات کی بنیاد پر نافذ کیا گیا تھا۔ اس کمیشن کے پہلے سربراہ ڈاکٹر خلیفہ شجاع الدین تھے جو دل کا دورہ پڑنے کے باعث وفات پا گئے جس کے بعد پاکستان کے سابق چیف جسٹس میاں عبدالرشید کو اس کمیشن کا چیئرمین مقرر کیا گیا۔ اس کمیشن میں صرف ایک مذہبی عالم شامل تھے: مولانا احتشام الحق تھانوی جنہوں نے کم و بیش ہر پہلو اور ہر سفارش پر تفصیلی اختلافی نوٹ تحریر کیا۔ ان کا یہ اختلافی نوٹ انگریزی میں بھی ترجمہ کیا گیا اور اردو اصل کے ساتھ رپورٹ کا حصہ بنایا گیا۔

جب یہ رپورٹ شائع ہوئی تو اسے علما کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ رپورٹ پر تفصیلی تنقید لکھنے والوں میں مولانا امین احسن اصلاحی بھی شامل تھے۔ یہاں یہ بات یاد دلانا ضروری ہے کہ مولانا اصلاحی کو 1956ء کے آئین کے تحت قائم کردہ کمیشن کا رکن مقرر کیا گیا تھا جس کا مقصد پارلیمان کو قوانین کے اسلامی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے سفارشات دینا تھا۔ یہ کمیشن بعد میں 1962 کے آئین کے تحت قائم ہونے والے اسلامی نظریاتی کونسل کا ابتدائی نمونہ تھا، جو آج بھی 1973 کے آئین کے تحت کام کر رہی ہے۔ تاہم یہ کمیشن صرف چند اجلاس منعقد کر سکا اور جب جنرل ایوب خان نے اکتوبر 1958 میں مارشل لا نافذ کیا، تو اسے تحلیل کر دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: ایران کے خلاف اسرائیلی و امریکی جارحیت: اہم قانونی سوالات

شادی اور عائلی قوانین کے کمیشن کو جو مینڈیٹ دیا گیا تھا وہ محدود تھا اور اس میں صرف یہ سوال شامل تھا: ’کیا موجودہ قوانین، جو مسلمانوں کے مابین شادی، طلاق، نان و نفقہ اور دیگر متعلقہ امور کو منظم کرتے ہیں، میں ایسی ترمیم کی ضرورت ہے جس سے خواتین کو اسلامی اصولوں کے مطابق معاشرے میں ان کا جائز مقام مل سکے؟‘ تاہم کمیشن (بلکہ اس کے اکثریتی اراکین) نے اس سوال سے کہیں وسیع تر امور کو زیر غور لانا مناسب سمجھا، مثلاً اجتہاد کے مفہوم اور دائرہ کار، اسلامی قانون کی ’ترقی پسندانہ‘ تعبیر کی ضرورت وغیرہ۔ اس نے خاص طور پر اصولِ فقہ کے تصورات ’مصلحت‘ اور ’استحسان‘ کے استعمال پر زور دیا اور ’مصلحت‘ کو غلط طور پر ’عوامی مفاد‘ کہا ، جبکہ ’استحسان‘ کو غلط طور پر ’ذاتی ترجیح کا ذریعہ‘ اور انگریزوں کے تصور equity کے مترادف سمجھا، جبکہ حقیقتاً اصولِ فقہ میں ’مصلحت‘ سے مراد ’شریعت کے مقصد کی حفاظت‘ ہے اور استحسان اور equity میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ (تفصیل کےلیے دیکھیے: پروفیسر عمران احسن خان نیازی کی کتاب: Theories of Islamic Law۔)

یہ طرزِ فکر صرف اس کمیشن تک محدود نہیں بلکہ پاکستان میں ’مذہبی اصلاح‘ کے خواہش مند ’متجددین‘ کا عمومی رجحان بن چکا ہے۔ مثلاً 2006ء میں جب حکومت نے حدود قوانین میں ترمیم کا ارادہ کیا اور اسلامی نظریاتی کونسل کو ان کا تنقیدی جائزہ لینے کی ذمہ داری سونپی، تو اس وقت کے چیئرمین پروفیسر خالد مسعود نے بھی یہی طرز اپنایا۔ میں نے اپنی کتاب میں اس پر تفصیلی تنقید لکھی؛ دیکھیے: ’حدود قوانین: اسلامی نظریاتی کونسل کی عبوری رپورٹ کا تنقیدی جائزہ‘  (مردان: مدرار العلوم، 2006ء)۔

بہر حال، اس کمیشن کی سفارشات کو سرد خانے میں ڈال دیا گیا۔ ان پر عمل درآمد مارشل لا کے نفاذ کے بعد ہی ممکن ہوا، اور یوں مسلم عائلی قوانین آرڈی نینس نافذ کیا گیا۔ یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ اس آرڈی نینس نے کمیشن کی کچھ سفارشات سے بھی انحراف کیا۔

مسلم عائلی قوانین آرڈی نینس کی دفعہ 7

اس آرڈی نینس کی دفعہ 7 طلاق سے متعلق ہے، اور اس نے نہ صرف بیک وقت دی جانے والی ’تین طلاقوں‘  کو کالعدم قرار دیا، بلکہ ہر قسم کی ایسی طلاق کو بھی کالعدم کردیا جو شریعت کی رو سے قابلِ رجوع نہیں ہوتی اور جسے شریعت کے ماہرین ’طلاقِ بائن‘ کہتے ہیں، خواہ ایسی طلاق ایک ہی بار دی گئی ہو۔

اس قانون کے مطابق کوئی بھی طلاق اس وقت تک مؤثر نہیں سمجھی جاتی جب تک:

یونین کونسل کے چیئرمین کو تحریری نوٹس نہ دے دیا جائے؛ اس کی ایک نقل بیوی کو نہ بھیجی جائے؛ اور چیئرمین کو نوٹس ملنے کے 90 دن نہ گزر جائیں۔

بعض اہلِ علم کی رائے ہے کہ یہ قانون فقہ جعفریہ پر مبنی ہے جو طلاق کے لیے ’صیغۂ طلاق‘ اور دو گواہوں کی موجودگی کو ضروری سمجھتی ہے۔ (ملاحظہ ہو: پروفیسر عمران احسن خان نیازی کی کتاب Outlines of Muslim Personal Law)۔ تاہم، میری رائے میں یہ قانون اس سے بھی کہیں آگے چلا گیا ہے کیونکہ بعض صورتوں میں فقہ جعفریہ کے مطابق طلاق ہوچکی ہوتی ہے، لیکن اس قانون کے تحت وہ طلاق مؤثر نہیں مانی جاتی اور کبھی اس کے برعکس بھی ہوتا ہے کہ اس قانون کے تحت طلاق مؤثر ہوتی ہے لیکن فقہ جعفریہ کے تحت وہ مؤثر نہیں ہوتی۔ اس دوسرے پہلو کے تدارک کےلیے ابھی ماضیِ قریب میں فقہ جعفریہ کے ماننے والوں کےلیے اس قانون میں جزوی ترمیم کی گئی ہے، لیکن پہلا پہلو ان کے لیے بدستور مسائل کا باعث بنا ہے، جبکہ سنی مسلمانوں کے فہمِ شریعت کی رو سے رو یہ قانون یکسر غیر اسلامی ہے۔

’علی نواز گردیزی بنام لیفٹننٹ کرنل محمد یوسف‘

یہ معاملہ مزید اس وقت الجھ گیا جب1963ء میں سپریم کورٹ نے اس قانون کی ایک عجیب تعبیر پیش کی۔ عدالت نے کہا کہ چونکہ یہ قانون جلد بازی میں نکاح کے خاتمے کی حوصلہ شکنی کرتا ہے، اس لیے اگر کوئی مرد طلاق دینے کے بعد دفعہ 7 کے مطابق نوٹس نہ دے، تو قانون یہ فرض کرے گا کہ اس نے طلاق واپس لے لی ہے، اور قانونی لحاظ سے یہ مرد و عورت بدستور ’میاں بیوی‘  ہی تصور کیے جائیں گے۔(’علی نواز گردیزی بنام لیفٹننٹ کرنل محمد یوسف‘)

مزید پڑھیے: ہمارے ججوں اور وکلا کے فہم شریعت کے مآخذ

جب 1979ء میں جرمِ زنا آرڈی نینس نافذ کیا گیا، تو اس کے بعد ’علی نواز گردیزی مقدمے‘  میں طے کیے گئے اصول کی بنیاد پر ہی ان خواتین کے خلاف مقدمات قائم کیے گئے جنہوں نے اپنے سابقہ شوہروں سے طلاق کے بعد دوسرا نکاح کیا تھا اور ان کے سابقہ شوہروں نے طلاق کے بعد مسلم عائلی قوانین آرڈی نینس کی دفعہ 7 کے تحت نوٹس نہیں بھیجا تھا اور باقی کارروائی پوری نہیں کی تھی۔ (مثال کے طور پر دیکھیے: ’شیرا بنام ریاست‘۔) اس سلسلے کو 1988ء میں سپریم کورٹ کے شریعت اپیلیٹ بینچ نے روکا جب اس نے قرار دیا کہ جرمِ زنا آرڈی نینس کے تحت ’جائز شادی‘ سے مراد ‘فریقین کے شخصی قانون‘، یعنی شریعت، کے تحت جائز شادی ہے، خواہ وہ مسلم عائلی قوانین آرڈی نینس کے تحت جائز ہو یا نہ ہو (’بشیراں بنام محمد حسین‘)۔ تاہم شریعت اپیلیٹ بنچ اس فیصلے میں ’علی نواز گردیزی مقدمے‘ کا فیصلہ کالعدم نہیں کرسکی۔

’کنیز فاطمہ بنام ولی محمد مقدمہ‘

1993ء میں، یعنی ’علی نواز گردیزی مقدمے‘ کے 30 سال بعد، بالآخر سپریم کورٹ نے اپنی غلطی کی کسی حد تک تصحیح کرلی جب اس نے ’کنیز فاطمہ بنام ولی محمد مقدمے‘ میں قرار دیا کہ اگر شوہر نے طلاق دے چکنے کے بعد دفعہ 7 کے تحت نوٹس نہیں دیا، تو یہ کہنا غلط ہے کہ شوہر نے طلاق واپس لے لی ہے لیکن طلاق مؤثر نہیں ہوگی اور یہ صرف اسی صورت میں ہی مؤثر ہوگی جب شوہر طلاق دے اور پھر دفعہ 7 میں مذکور 90 دن کی مدت پوری ہو۔

اس فیصلے سے قبل 1987ء میں سندھ ہائی کورٹ نے ’مرزا قمر رضا بنام طاہرہ بیگم مقدمے‘ میں قرار دیا تھا کہ دفعہ 7 میں مذکور قانون شریعت سے متصادم ہونے کی بنا پر آئین سے بھی متصادم ہے اور ہائی کورٹ اس قانون پر عمل درآمد روک سکتی ہے کیونکہ 1985ء میں آئین میں دفعہ 2-اے کا اضافہ کیا گیا ہے جس کی رو سے یہ تسلیم کی گیا ہے کہ پاکستان میں اصل حاکمیت اللہ تعالیٰ کی ہے اور اسی کے قانون کو سب سے بالاتر قانون کی حیثیت حاصل ہے۔

تاہم ’کنیز فاطمہ مقدمے‘ میں سپریم کورٹ نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ کو ایک عام عائلی مقدمے کے فیصلے میں آئینی سوالات میں نہیں الجھنا چاہیے تھا۔ اس نے مزید کہا کہ اس قانون کو غیر اسلامی سمجھا جاتا ہے لیکن اس ضمن میں حتمی فیصلے کا اختیار وفاقی شرعی عدالت کو حاصل ہے۔ تاہم اگلی ہی سانس میں عدالت نے قرار دیا کہ ابھی وفاقی شرعی عدالت بھی اس قانون کا جائزہ نہیں لے سکتی۔

’مسلم شخصی قانون‘ کی تعریف

اس کے پیچھے بھی ایک دلچسپ بلکہ افسوسناک کہانی ہے۔ پشاور ہائی کورٹ کے ’شریعت بینچ‘ نے 1980ء میں ’مسماۃ فرشتہ بنام وفاقِ پاکستان مقدمے‘ میں مسلم عائلی قوانین آرڈی نینس کی دفعہ 4 کو اسلامی احکام سے تصادم کی بنیاد پر کالعدم قرار دیا تھا ۔ تاہم اپیل میں سپریم کورٹ نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ چونکہ یہ قانون ’مسلم شخصی قانون‘ کے مفہوم پر پورا اترتا ہے اور مسلم شخصی قانون کو آئین نے شریعت بنچ کے اختیارِ سماعت سے باہر کیا ہوا ہے، اس لیے شریعت بینچ کو اس پر فیصلہ دینا ہی نہیں چاہیے تھا۔

مزید پڑھیں: توہینِ مذہب کے مقدمات میں پاگل پن کا دفاع

اس فیصلے کے 14 سال بعد 1994ء میں سپریم کورٹ نے ’ڈاکٹر محمود الرحمان فیصل بنام وفاقِ پاکستان مقدمے‘ میں اس معاملے پر دوبارہ غور کیا اور ’مسلم شخصی قانون ‘  کی نئی تعبیر پیش کی، جس کی رو سے مسلم عائلی قوانین آرڈی نینس اور دیگر ریاستی قانون سازی کو اس تصور سے خارج قرار دے دیا گیا۔اس کے بعد، وفاقی شرعی عدالت کو اس قانون کی مختلف دفعات کی اسلامیت جانچنے کا اختیار حاصل ہو گیا۔

’اللہ رکھا بنام وفاقِ پاکستان‘

چنانچہ 2000ء میں وفاقی شرعی عدالت نے ’اللہ رکھا بنام وفاقِ پاکستان مقدمے‘  میں بالآخر فیصلہ سنا دیا کہ طلاق سے متعلق اس قانون کی دفعہ 7 اسلامی احکام سے متصادم ہے۔ تاہم اس فیصلے کے خلاف اپیل سپریم کورٹ میں دائر کی گئی اور یہ فیصلہ معطل ہوگیا کیونکہ وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے خلاف جیسے ہی اپیل دائر کی جائے، وہ فیصلہ معطل ہوجاتا ہے اور اس کےلیے سپریم کورٹ سے اسٹے آرڈر کی بھی ضرورت نہیں ہوتی!

ربع صدی بعد

انتہائی افسوسناک امر یہ ہے کہ 25 سال، یعنی ربع صدی، گزرنے کے بعد بھی سپریم کورٹ کے شریعت اپیلیٹ بنچ نے آج تک ان اپیلوں کا فیصلہ نہیں کیا اور یوں وہ قانون جسے علمائے کرام کے علاوہ اسلامی نظریاتی کونسل اور وفاقی شرعی عدالت نے بھی برسہا برس قبل غیر اسلامی قرار دیا ہے، آج تک اسلامی جمہوریۂ پاکستان میں محض اس وجہ سے نافذ ہے کہ سپریم کورٹ کا شریعت اپیلیٹ بنچ اس کے خلاف اپیلوں کی سماعت نہیں کررہا!

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد شفاء تعمیرِ ملت یونیورسٹی اسلام آباد میں پروفیسر اور سربراہ شعبۂ شریعہ و قانون ہیں۔ اس سے پہلے آپ چیف جسٹس آف پاکستان کے سیکرٹری اور شریعہ اکیڈمی، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد، کے ڈائریکٹر جنرل کے طور پر فرائض سرانجام دے چکے ہیں۔ آپ سول جج/جوڈیشل مجسٹریٹ کی ذمہ داریاں بھی انجام دے چکے ہیں۔ آپ اصولِ قانون، اصولِ فقہ، فوجداری قانون، عائلی قانون اور بین الاقوامی قانونِ جنگ کے علاوہ قرآنیات اور تقابلِ ادیان پر کئی کتابیں اور تحقیقی مقالات تصنیف کرچکے ہیں۔

اللہ رکھا بنام وفاقِ پاکستان کمیشن برائے شادی و عائلی قوانین کنیز فاطمہ بنام ولی محمد مقدمہ مسلم شخصی قانون مسلم عائلی قوانین مسلم قوانین.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: کمیشن برائے شادی و عائلی قوانین کنیز فاطمہ بنام ولی محمد مقدمہ مسلم عائلی قوانین مسلم قوانین

پڑھیں:

قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں

ہر سال ستمبر آتے ہی ایک قصہ نئے سرے سے گردش کرنے لگتا ہے۔ اکثر یہ بات کہی جاتی ہے کہ زیارت سے کراچی واپسی پر ان کی ایمبولینس دانستہ خراب کی گئی اور بابائے قوم کو راستے میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا، تاکہ ان کی طبیعت زیادہ بگڑ جائے اور وہ سروائیو نہ کر پائیں۔ کبھی کچھ اور کہا جاتا ہے، کبھی لیاقت علی خان کی زیارت ریزیڈنسی میں قائداعظم سے ملاقات پر منفی تبصرے کیے جاتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر یہ کہانی ہر بار نئے مسالے کے ساتھ لوٹتی ہے، اور ہر بار کچھ لوگ سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ ہائے، ہم نے اپنے محسن کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ یوں ہر سال ایک نئی سازشی کہانی جنم لیتی ہے، حالانکہ تاریخ کے مستند ریکارڈ میں ایسی کسی منظم سازش کا سراغ نہیں ملتا۔

یہ بھی پڑھیں: دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا

اس بار تو ہم نے ستمبر کا انتظار بھی نہیں کیا، جولائی ہی میں ستمبر لے آئے۔ شاید اس لیے کہ بارشوں نے لاہور کو بھی چند روز کے لیے زیارت کا سا رنگ دے دیا ہے۔ اس بار یہ شگوفہ مخدوم جاوید ہاشمی کے لبوں سے پھوٹا ہے۔ وہ آج کل حکمرانوں سے کچھ برہم اور ناراض ہیں۔ ان کے اندر کا انقلابی اور باغی ہیرو ایک بار پھر جاگ اٹھا ہے۔ اس بار وہ پہلے سے زیادہ پرجوش انداز میں سامنے آیا۔

ہاشمی صاحب نے فرمایا کہ قائداعظم کو سازش کے تحت زیارت بھیجا گیا تھا، حکومتی کاموں سے دور رکھنے کے لیے، ورنہ وہاں کون جاتا ہے علاج کے لیے۔ اس پر فواد چودھری صاحب نے اپنے ٹویٹ کے ذریعے مخدوم صاحب کو جواب دیا۔ کچھ اور لوگ بھی بیچ میں کود پڑے۔ یوں سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث شروع ہوگئی۔

خاکسار کی گزارش بس اتنی ہے کہ ذرا ٹھہر جائیں۔ پہلے ہمارے سادہ سے، معصوم سے سوال کا جواب تو دے دیں کہ آخر یہ سازش کس نے کی؟ وہ کون تھا جو محمد علی جناح کو، اس جیسے مردِ آہن کو، کسی بات پر مجبور کرسکتا تھا؟ قائداعظم گورنر جنرل تھے، ایسے جو کابینہ اجلاس میں تاخیر سے آنے پر وزرا کو سختی سے ڈانٹ سکتے تھے۔

وزیراعظم لیاقت علی خان سمیت کس میں اتنی جرأت تھی کہ وہ قائد سے اختلاف کرتا یا ان پر جبر کا سوچ بھی سکتا؟ قائداعظم اپنی بیماری میں بھی ملک کی سب سے بڑی طاقت تھے۔ کسی میں اتنا دم نہیں تھا کہ ان پر رتی برابر دباؤ ڈال سکے، یا ان کے سامنے زبان کھول سکے۔ جو لوگ زیارت جانے کو سازش کہتے ہیں، وہ یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ اس سازش کا مہرہ کون تھا اور دھاگے کس کے ہاتھ میں تھے۔

زیارت کیوں بھیجا گیا

اصل بات جاننے کے لیے اُس زمانے کی طب کو سمجھنا پڑے گا۔ ٹی بی کے مریض تب ٹھنڈے، بلند علاقوں میں بھیجے جاتے تھے، جہاں صاف، خشک اور ٹھنڈی آب و ہوا مریضوں کے لیے موزوں سمجھی جاتی تھی۔

شملہ ہو، مری ہو یا زیارت، انہی مقامات پر ایسے مریضوں کے سینیٹوریم بنے تھے۔ زیارت قائد کو خود بھی پسند تھا، اور غالباً ڈاکٹروں کے ذہن میں یہ بھی ہوگا کہ وہاں ملاقاتی کم آئیں گے اور مریض کو آرام کا زیادہ وقت ملے گا۔ اس میں سازش کہاں سے آ گئی؟ ویسے جس کسی کو زیارت گرمیوں میں جانے کا اتفاق ہوا ہو، وہ اعتراف کرے گا کہ ایسی پرسکون، خوبصورت اور خالص ہوا والی جگہ پر مریض کو آنا چاہیے، خاص کر ایسے مریض کو جس کے پھیپھڑے بری طرح متاثر ہوچکے ہوں۔

تھوڑی سی تحقیق کر لیں تو حقائق آشکار ہو جاتے ہیں۔ قائد کو ٹی بی برسوں سے تھی، مگر انہوں نے اسے چھپائے رکھا۔ ان کا اپنا کہنا تھا کہ اگر مخالفین کو خبر ہوگئی تو وہ میری موت کا انتظار کرنے لگیں گے۔ قائد کے آخری دنوں یعنی ستمبر تک یہ مرض اکیلا نہیں رہا تھا، نمونیا اور دیگر پیچیدگیاں بھی ساتھ آ ملیں، شاید پھیپھڑوں کا سرطان بھی۔ قائد کا وزن گھٹ کر صرف 36 کلو رہ گیا۔

یہ بھی پڑھیں: جب اپنا بوجھ اتار پھینکا جائے

36 کلو کا اندازہ لگا لیں، ایک صحت مند 10 سال کے بچے کے برابر وزن۔ ان کے معالج ڈاکٹر الٰہی بخش نے محترمہ فاطمہ جناح کو صاف بتا دیا تھا کہ اگر معجزہ نہ ہوا تو قائد چند دنوں سے زیادہ نہیں نکال پائیں گے۔ یہ باتیں کسی سازشی بلاگ میں نہیں، ان کے اپنے ڈاکٹروں کی کتابوں اور انٹرویوز میں درج ہیں، خصوصاً ڈاکٹر الٰہی بخش کی یادداشتوں میں۔

کراچی، وہ بھی ستمبر میں

اب ایک نکتہ ایسا ہے جس پر شاید ہی کبھی غور کیا گیا ہو۔ قائداعظم ستمبر کے مہینے میں کراچی کیوں آئے؟ ہم لاہور والے جانتے ہیں کہ ستمبر آتے ہی پنجاب کا موسم خوشگوار ہونے لگتا ہے، مگر کراچی میں یہی مہینے نسبتاً زیادہ گرم ہوتے ہیں۔ ایک بیمار آدمی، جس کے پھیپھڑے جواب دے چکے ہوں، اسے بھلا اِس گرمی میں کراچی آنے کی کیا جلدی تھی؟ وہ اکتوبر، نومبر میں بھی آسکتے تھے، جب کراچی کا موسم سنبھل جاتا۔

اس کا جواب تلخ ہے، اور ہم احتراماً اسے زبان پر نہیں لاتے۔ حالات سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ قائد اپنی زندگی کے آخری ایام کراچی اپنے گھر میں گزارنے آرہے تھے۔ ریکارڈ میں کراچی منتقلی کی وجہ یہ درج ہے کہ وہاں بہتر طبی سہولتیں دستیاب تھیں، مگر اندر خانے سب جانتے تھے کہ اب گنتی کے دن رہ گئے ہیں۔ پھر یہ بھی ثابت شدہ حقیقت ہے کہ محترمہ فاطمہ جناح نے سختی سے ہدایت کی تھی کہ واپسی کو نجی دورہ رکھا جائے، اسی لیے ائیرپورٹ پر انہیں لینے سرکاری افسران یا وزرا وغیرہ نہیں پہنچے۔ بہت سوں کو تو شاید قائد کی واپسی کا علم ہی نہیں ہوگا۔

ایمبولینس کا قصہ

اب آتے ہیں اُس ایمبولینس کی طرف جس پر سب سے زیادہ شور مچتا ہے۔ ہاں، وہ ایمبولینس راستے میں خراب ہوگئی تھی، انجن نے ساتھ چھوڑ دیا۔ یہ ایک افسوسناک منظر تھا، اس سے انکار کوئی نہیں کرتا۔ مگر بندہ خدا، ذرا اُس وقت کے پاکستان کی حالت بھی تو دیکھیں۔ ملک بنے ابھی ایک برس ہوا تھا، خزانہ خالی، لاکھوں مہاجر کھلے آسمان تلے پڑے۔ تب کتنی گاڑیاں ہوا کرتی تھیں اور ایمبولینسوں کا کیا حال تھا؟

اس بات پر بھی غور کیجیے کہ خود وزیراعظم لیاقت علی خان قائد کی علالت کے دنوں میں زیارت گئے اور ان سے ملاقات کی۔ یہ کوئی رسمی دورہ نہ تھا، کچھ دیر تنہائی میں بھی بات ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ واپسی پر انہوں نے کراچی پیغام بھجوایا کہ حالات کیا ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جناب علامہ شبیر احمد عثمانی کو خاموشی سے پیغام دیا گیا کہ آپ اگلے کچھ دن کراچی ہی میں رہیں، کسی علمی، تبلیغی دورے وغیرہ پر شہر سے باہر نہ جائیں کہ نمازِ جنازہ کے لیے ان کا نام سوچ لیا گیا تھا، شاید قائد کی ہدایت کے مطابق۔

یہ بھی پڑھیں: اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے

مطلب صاف ہے۔ ٹاپ پر موجود سب جانتے تھے کہ اب دن گنتی کے رہ گئے ہیں۔ جہاں پوری قیادت کو معلوم ہو کہ اختتام قریب ہے، وہاں ایک ایمبولینس کے چلنے یا رکنے سے کیا فرق پڑنا تھا؟

میرا دکھ مگر یہ نہیں کہ ایمبولینس خراب ہوئی۔ میرا دکھ یہ ہے کہ ہم نے اس خرابی کو ایک سازش بنا ڈالا۔ سچ تو یہ ہے کہ ایمبولینس چلتی یا رکتی، قائد کے پاس وقت بہت کم بچا تھا۔ جس آدمی کو ڈاکٹر 2، 4 دن کی مہلت دے چکے ہوں، اسے وقت پر گھر پہنچا کر بھی آپ چند لمحے ہی جوڑ سکتے تھے، زندگی نہیں لوٹا سکتے تھے۔

کٹا پھٹا پاکستان اور ایک بیمار قائد

ہمارے ہاں یہ تاثر بہت مستحکم ہے کہ قائد نے کٹا پھٹا پاکستان اسی لیے قبول کر لیا کہ انہیں اپنی بیماری کا، اپنے کم بچے وقت کا اندازہ ہو چکا تھا۔ یہ تاثر تاریخ کے بعض حلقوں میں بھی پایا جاتا ہے اور خاکسار کو بھی یہی قرینِ قیاس محسوس ہوتا ہے۔ ایک ایسا آدمی جو جانتا ہو کہ اگر پاکستان سنتالیس کے بجائے اڑتالیس تک لٹک گیا تو شاید وہ اسے بنتا نہ دیکھ سکے، وہ ادھورا پاکستان لینے پر آمادہ ہو جاتا ہے، اس امید پر کہ اپنے ہاتھوں سے اپنا خواب پورا ہوتے دیکھ لے۔ کوئی اسے کمزوری کہے تو کہتا رہے۔ جس آدمی کا جسم جواب دے چکا ہو مگر ارادہ سلامت ہو، وہ ایسے ہی کڑے سودے کیا کرتا ہے۔

سو یہ سب کہانیاں کہ فلاں چیز سے قائد کی زندگی گھٹی، بے بنیاد ہیں۔ وہ تو پہلے ہی اپنی فولادی قوتِ ارادی کے بل پر ہی زندہ تھے۔ جسمانی سکت ختم ہو چکی تھی۔ حکومتی کام کاج اب وہ نہیں کر سکتے تھے۔

حرفِ آخر

صاحبو! بات اتنی سی ہے، قائداعظم نے ایک بھرپور، شاندار زندگی گزاری، اپنا خواب پورا کیا، پاکستان بنایا، اور پھر اپنے آخری سفر پر روانہ ہو گئے۔ اس میں کوئی سازش نہیں تھی۔ چھپا ہاتھ ڈھونڈنے والے بس ڈھونڈتے ہی رہ جائیں گے۔

مسئلہ بس یہی ہے کہ اگر کوئی بات سیدھے سادے طریقے سے ختم ہو جائے تو ہم میں سے بہت سوں کی مریضانہ ذہنیت کو سکون اور مزا نہیں آتا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہم تاریخ کو سمجھنے سے زیادہ، اسے سنسنی خیز بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ شاید اسی لیے ہمارے ہاں افسانے زیادہ مقبول ہوتے ہیں اور حقائق کم۔

ہمیں لطف سازشی تھیوری گھڑنے میں آتا ہے، بطور پاکستانی اپنے آپ کو لعن طعن کرنے، اپنے سر میں خاک ڈالنے، اور پھر آنسو بہانے میں۔ گویا اس کے بغیر ہم اچھے اور سچے پاکستانی کہلا ہی نہیں سکتے۔

میری دعا بس اتنی ہے کہ اللہ ہمیں اپنے محسنوں کو عزت سے یاد کرنے کی توفیق دے۔ اور یہ جو ہماری پرانی عادت ہے، ہر اچھی چیز میں کیڑے نکالنے اور ہر سانحے میں سازش ڈھونڈنے کی، اللہ ہمیں اس سے بچائے۔ آمین۔ باقی کہانیاں ہیں بابا، اور کہانیوں کا کیا، وہ تو بنتی رہیں گی۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عامر خاکوانی

نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔

we news زیارت سازشی تھیوری قائداعظم کراچی

متعلقہ مضامین

  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن