اسلامی جمہوریہ میں طلاق کا غیر اسلامی قانون
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
’کمیشن برائے شادی و عائلی قوانین‘
عام طور پر یہ فرض کیا گیا ہے کہ مسلم عائلی قوانین آرڈیننس 1961ء کا اجرا غالباً حکومتِ پاکستان کی جانب سے اگست 1955 میں قائم کردہ ’کمیشن برائے شادی و عائلی قوانین‘ کی سفارشات کی بنیاد پر نافذ کیا گیا تھا۔ اس کمیشن کے پہلے سربراہ ڈاکٹر خلیفہ شجاع الدین تھے جو دل کا دورہ پڑنے کے باعث وفات پا گئے جس کے بعد پاکستان کے سابق چیف جسٹس میاں عبدالرشید کو اس کمیشن کا چیئرمین مقرر کیا گیا۔ اس کمیشن میں صرف ایک مذہبی عالم شامل تھے: مولانا احتشام الحق تھانوی جنہوں نے کم و بیش ہر پہلو اور ہر سفارش پر تفصیلی اختلافی نوٹ تحریر کیا۔ ان کا یہ اختلافی نوٹ انگریزی میں بھی ترجمہ کیا گیا اور اردو اصل کے ساتھ رپورٹ کا حصہ بنایا گیا۔
جب یہ رپورٹ شائع ہوئی تو اسے علما کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ رپورٹ پر تفصیلی تنقید لکھنے والوں میں مولانا امین احسن اصلاحی بھی شامل تھے۔ یہاں یہ بات یاد دلانا ضروری ہے کہ مولانا اصلاحی کو 1956ء کے آئین کے تحت قائم کردہ کمیشن کا رکن مقرر کیا گیا تھا جس کا مقصد پارلیمان کو قوانین کے اسلامی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے سفارشات دینا تھا۔ یہ کمیشن بعد میں 1962 کے آئین کے تحت قائم ہونے والے اسلامی نظریاتی کونسل کا ابتدائی نمونہ تھا، جو آج بھی 1973 کے آئین کے تحت کام کر رہی ہے۔ تاہم یہ کمیشن صرف چند اجلاس منعقد کر سکا اور جب جنرل ایوب خان نے اکتوبر 1958 میں مارشل لا نافذ کیا، تو اسے تحلیل کر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کے خلاف اسرائیلی و امریکی جارحیت: اہم قانونی سوالات
شادی اور عائلی قوانین کے کمیشن کو جو مینڈیٹ دیا گیا تھا وہ محدود تھا اور اس میں صرف یہ سوال شامل تھا: ’کیا موجودہ قوانین، جو مسلمانوں کے مابین شادی، طلاق، نان و نفقہ اور دیگر متعلقہ امور کو منظم کرتے ہیں، میں ایسی ترمیم کی ضرورت ہے جس سے خواتین کو اسلامی اصولوں کے مطابق معاشرے میں ان کا جائز مقام مل سکے؟‘ تاہم کمیشن (بلکہ اس کے اکثریتی اراکین) نے اس سوال سے کہیں وسیع تر امور کو زیر غور لانا مناسب سمجھا، مثلاً اجتہاد کے مفہوم اور دائرہ کار، اسلامی قانون کی ’ترقی پسندانہ‘ تعبیر کی ضرورت وغیرہ۔ اس نے خاص طور پر اصولِ فقہ کے تصورات ’مصلحت‘ اور ’استحسان‘ کے استعمال پر زور دیا اور ’مصلحت‘ کو غلط طور پر ’عوامی مفاد‘ کہا ، جبکہ ’استحسان‘ کو غلط طور پر ’ذاتی ترجیح کا ذریعہ‘ اور انگریزوں کے تصور equity کے مترادف سمجھا، جبکہ حقیقتاً اصولِ فقہ میں ’مصلحت‘ سے مراد ’شریعت کے مقصد کی حفاظت‘ ہے اور استحسان اور equity میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ (تفصیل کےلیے دیکھیے: پروفیسر عمران احسن خان نیازی کی کتاب: Theories of Islamic Law۔)
یہ طرزِ فکر صرف اس کمیشن تک محدود نہیں بلکہ پاکستان میں ’مذہبی اصلاح‘ کے خواہش مند ’متجددین‘ کا عمومی رجحان بن چکا ہے۔ مثلاً 2006ء میں جب حکومت نے حدود قوانین میں ترمیم کا ارادہ کیا اور اسلامی نظریاتی کونسل کو ان کا تنقیدی جائزہ لینے کی ذمہ داری سونپی، تو اس وقت کے چیئرمین پروفیسر خالد مسعود نے بھی یہی طرز اپنایا۔ میں نے اپنی کتاب میں اس پر تفصیلی تنقید لکھی؛ دیکھیے: ’حدود قوانین: اسلامی نظریاتی کونسل کی عبوری رپورٹ کا تنقیدی جائزہ‘ (مردان: مدرار العلوم، 2006ء)۔
بہر حال، اس کمیشن کی سفارشات کو سرد خانے میں ڈال دیا گیا۔ ان پر عمل درآمد مارشل لا کے نفاذ کے بعد ہی ممکن ہوا، اور یوں مسلم عائلی قوانین آرڈی نینس نافذ کیا گیا۔ یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ اس آرڈی نینس نے کمیشن کی کچھ سفارشات سے بھی انحراف کیا۔
مسلم عائلی قوانین آرڈی نینس کی دفعہ 7اس آرڈی نینس کی دفعہ 7 طلاق سے متعلق ہے، اور اس نے نہ صرف بیک وقت دی جانے والی ’تین طلاقوں‘ کو کالعدم قرار دیا، بلکہ ہر قسم کی ایسی طلاق کو بھی کالعدم کردیا جو شریعت کی رو سے قابلِ رجوع نہیں ہوتی اور جسے شریعت کے ماہرین ’طلاقِ بائن‘ کہتے ہیں، خواہ ایسی طلاق ایک ہی بار دی گئی ہو۔
اس قانون کے مطابق کوئی بھی طلاق اس وقت تک مؤثر نہیں سمجھی جاتی جب تک:
یونین کونسل کے چیئرمین کو تحریری نوٹس نہ دے دیا جائے؛ اس کی ایک نقل بیوی کو نہ بھیجی جائے؛ اور چیئرمین کو نوٹس ملنے کے 90 دن نہ گزر جائیں۔بعض اہلِ علم کی رائے ہے کہ یہ قانون فقہ جعفریہ پر مبنی ہے جو طلاق کے لیے ’صیغۂ طلاق‘ اور دو گواہوں کی موجودگی کو ضروری سمجھتی ہے۔ (ملاحظہ ہو: پروفیسر عمران احسن خان نیازی کی کتاب Outlines of Muslim Personal Law)۔ تاہم، میری رائے میں یہ قانون اس سے بھی کہیں آگے چلا گیا ہے کیونکہ بعض صورتوں میں فقہ جعفریہ کے مطابق طلاق ہوچکی ہوتی ہے، لیکن اس قانون کے تحت وہ طلاق مؤثر نہیں مانی جاتی اور کبھی اس کے برعکس بھی ہوتا ہے کہ اس قانون کے تحت طلاق مؤثر ہوتی ہے لیکن فقہ جعفریہ کے تحت وہ مؤثر نہیں ہوتی۔ اس دوسرے پہلو کے تدارک کےلیے ابھی ماضیِ قریب میں فقہ جعفریہ کے ماننے والوں کےلیے اس قانون میں جزوی ترمیم کی گئی ہے، لیکن پہلا پہلو ان کے لیے بدستور مسائل کا باعث بنا ہے، جبکہ سنی مسلمانوں کے فہمِ شریعت کی رو سے رو یہ قانون یکسر غیر اسلامی ہے۔
’علی نواز گردیزی بنام لیفٹننٹ کرنل محمد یوسف‘یہ معاملہ مزید اس وقت الجھ گیا جب1963ء میں سپریم کورٹ نے اس قانون کی ایک عجیب تعبیر پیش کی۔ عدالت نے کہا کہ چونکہ یہ قانون جلد بازی میں نکاح کے خاتمے کی حوصلہ شکنی کرتا ہے، اس لیے اگر کوئی مرد طلاق دینے کے بعد دفعہ 7 کے مطابق نوٹس نہ دے، تو قانون یہ فرض کرے گا کہ اس نے طلاق واپس لے لی ہے، اور قانونی لحاظ سے یہ مرد و عورت بدستور ’میاں بیوی‘ ہی تصور کیے جائیں گے۔(’علی نواز گردیزی بنام لیفٹننٹ کرنل محمد یوسف‘)
مزید پڑھیے: ہمارے ججوں اور وکلا کے فہم شریعت کے مآخذ
جب 1979ء میں جرمِ زنا آرڈی نینس نافذ کیا گیا، تو اس کے بعد ’علی نواز گردیزی مقدمے‘ میں طے کیے گئے اصول کی بنیاد پر ہی ان خواتین کے خلاف مقدمات قائم کیے گئے جنہوں نے اپنے سابقہ شوہروں سے طلاق کے بعد دوسرا نکاح کیا تھا اور ان کے سابقہ شوہروں نے طلاق کے بعد مسلم عائلی قوانین آرڈی نینس کی دفعہ 7 کے تحت نوٹس نہیں بھیجا تھا اور باقی کارروائی پوری نہیں کی تھی۔ (مثال کے طور پر دیکھیے: ’شیرا بنام ریاست‘۔) اس سلسلے کو 1988ء میں سپریم کورٹ کے شریعت اپیلیٹ بینچ نے روکا جب اس نے قرار دیا کہ جرمِ زنا آرڈی نینس کے تحت ’جائز شادی‘ سے مراد ‘فریقین کے شخصی قانون‘، یعنی شریعت، کے تحت جائز شادی ہے، خواہ وہ مسلم عائلی قوانین آرڈی نینس کے تحت جائز ہو یا نہ ہو (’بشیراں بنام محمد حسین‘)۔ تاہم شریعت اپیلیٹ بنچ اس فیصلے میں ’علی نواز گردیزی مقدمے‘ کا فیصلہ کالعدم نہیں کرسکی۔
’کنیز فاطمہ بنام ولی محمد مقدمہ‘1993ء میں، یعنی ’علی نواز گردیزی مقدمے‘ کے 30 سال بعد، بالآخر سپریم کورٹ نے اپنی غلطی کی کسی حد تک تصحیح کرلی جب اس نے ’کنیز فاطمہ بنام ولی محمد مقدمے‘ میں قرار دیا کہ اگر شوہر نے طلاق دے چکنے کے بعد دفعہ 7 کے تحت نوٹس نہیں دیا، تو یہ کہنا غلط ہے کہ شوہر نے طلاق واپس لے لی ہے لیکن طلاق مؤثر نہیں ہوگی اور یہ صرف اسی صورت میں ہی مؤثر ہوگی جب شوہر طلاق دے اور پھر دفعہ 7 میں مذکور 90 دن کی مدت پوری ہو۔
اس فیصلے سے قبل 1987ء میں سندھ ہائی کورٹ نے ’مرزا قمر رضا بنام طاہرہ بیگم مقدمے‘ میں قرار دیا تھا کہ دفعہ 7 میں مذکور قانون شریعت سے متصادم ہونے کی بنا پر آئین سے بھی متصادم ہے اور ہائی کورٹ اس قانون پر عمل درآمد روک سکتی ہے کیونکہ 1985ء میں آئین میں دفعہ 2-اے کا اضافہ کیا گیا ہے جس کی رو سے یہ تسلیم کی گیا ہے کہ پاکستان میں اصل حاکمیت اللہ تعالیٰ کی ہے اور اسی کے قانون کو سب سے بالاتر قانون کی حیثیت حاصل ہے۔
تاہم ’کنیز فاطمہ مقدمے‘ میں سپریم کورٹ نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ کو ایک عام عائلی مقدمے کے فیصلے میں آئینی سوالات میں نہیں الجھنا چاہیے تھا۔ اس نے مزید کہا کہ اس قانون کو غیر اسلامی سمجھا جاتا ہے لیکن اس ضمن میں حتمی فیصلے کا اختیار وفاقی شرعی عدالت کو حاصل ہے۔ تاہم اگلی ہی سانس میں عدالت نے قرار دیا کہ ابھی وفاقی شرعی عدالت بھی اس قانون کا جائزہ نہیں لے سکتی۔
’مسلم شخصی قانون‘ کی تعریفاس کے پیچھے بھی ایک دلچسپ بلکہ افسوسناک کہانی ہے۔ پشاور ہائی کورٹ کے ’شریعت بینچ‘ نے 1980ء میں ’مسماۃ فرشتہ بنام وفاقِ پاکستان مقدمے‘ میں مسلم عائلی قوانین آرڈی نینس کی دفعہ 4 کو اسلامی احکام سے تصادم کی بنیاد پر کالعدم قرار دیا تھا ۔ تاہم اپیل میں سپریم کورٹ نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ چونکہ یہ قانون ’مسلم شخصی قانون‘ کے مفہوم پر پورا اترتا ہے اور مسلم شخصی قانون کو آئین نے شریعت بنچ کے اختیارِ سماعت سے باہر کیا ہوا ہے، اس لیے شریعت بینچ کو اس پر فیصلہ دینا ہی نہیں چاہیے تھا۔
مزید پڑھیں: توہینِ مذہب کے مقدمات میں پاگل پن کا دفاع
اس فیصلے کے 14 سال بعد 1994ء میں سپریم کورٹ نے ’ڈاکٹر محمود الرحمان فیصل بنام وفاقِ پاکستان مقدمے‘ میں اس معاملے پر دوبارہ غور کیا اور ’مسلم شخصی قانون ‘ کی نئی تعبیر پیش کی، جس کی رو سے مسلم عائلی قوانین آرڈی نینس اور دیگر ریاستی قانون سازی کو اس تصور سے خارج قرار دے دیا گیا۔اس کے بعد، وفاقی شرعی عدالت کو اس قانون کی مختلف دفعات کی اسلامیت جانچنے کا اختیار حاصل ہو گیا۔
’اللہ رکھا بنام وفاقِ پاکستان‘چنانچہ 2000ء میں وفاقی شرعی عدالت نے ’اللہ رکھا بنام وفاقِ پاکستان مقدمے‘ میں بالآخر فیصلہ سنا دیا کہ طلاق سے متعلق اس قانون کی دفعہ 7 اسلامی احکام سے متصادم ہے۔ تاہم اس فیصلے کے خلاف اپیل سپریم کورٹ میں دائر کی گئی اور یہ فیصلہ معطل ہوگیا کیونکہ وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے خلاف جیسے ہی اپیل دائر کی جائے، وہ فیصلہ معطل ہوجاتا ہے اور اس کےلیے سپریم کورٹ سے اسٹے آرڈر کی بھی ضرورت نہیں ہوتی!
ربع صدی بعدانتہائی افسوسناک امر یہ ہے کہ 25 سال، یعنی ربع صدی، گزرنے کے بعد بھی سپریم کورٹ کے شریعت اپیلیٹ بنچ نے آج تک ان اپیلوں کا فیصلہ نہیں کیا اور یوں وہ قانون جسے علمائے کرام کے علاوہ اسلامی نظریاتی کونسل اور وفاقی شرعی عدالت نے بھی برسہا برس قبل غیر اسلامی قرار دیا ہے، آج تک اسلامی جمہوریۂ پاکستان میں محض اس وجہ سے نافذ ہے کہ سپریم کورٹ کا شریعت اپیلیٹ بنچ اس کے خلاف اپیلوں کی سماعت نہیں کررہا!
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد شفاء تعمیرِ ملت یونیورسٹی اسلام آباد میں پروفیسر اور سربراہ شعبۂ شریعہ و قانون ہیں۔ اس سے پہلے آپ چیف جسٹس آف پاکستان کے سیکرٹری اور شریعہ اکیڈمی، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد، کے ڈائریکٹر جنرل کے طور پر فرائض سرانجام دے چکے ہیں۔ آپ سول جج/جوڈیشل مجسٹریٹ کی ذمہ داریاں بھی انجام دے چکے ہیں۔ آپ اصولِ قانون، اصولِ فقہ، فوجداری قانون، عائلی قانون اور بین الاقوامی قانونِ جنگ کے علاوہ قرآنیات اور تقابلِ ادیان پر کئی کتابیں اور تحقیقی مقالات تصنیف کرچکے ہیں۔
اللہ رکھا بنام وفاقِ پاکستان کمیشن برائے شادی و عائلی قوانین کنیز فاطمہ بنام ولی محمد مقدمہ مسلم شخصی قانون مسلم عائلی قوانین مسلم قوانین.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کمیشن برائے شادی و عائلی قوانین کنیز فاطمہ بنام ولی محمد مقدمہ مسلم عائلی قوانین مسلم قوانین
پڑھیں:
جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ترقی اور بقا کے درمیان فاصلہ تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ ہم نے صدیوں تک یہ سمجھا کہ فطرت ہمارے لیے ایک لامحدود خزانہ ہے جس سے ہم جتنا چاہیں لے سکتے ہیں مگر اب زمین ہمیں بتا رہی ہے کہ ہر نعمت کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ بڑھتی ہوئی گرمی، بے موسم کی بارشیں، خشک سالی، سیلاب اور آلودگی محض موسمی واقعات نہیں رہے بلکہ ایک بڑے ماحولیاتی بحران کی نشانیاں بن چکے ہیں۔
آج جب یورپ میں گرمی کی نئی لہر ریکارڈ توڑ رہی ہے۔ پرتگال اپنے مئی کے مہینے کا سب سے زیادہ درجہ حرارت دیکھ رہا ہے۔ اسپین، فرانس اور اٹلی میں خطرے کے الارم بج رہے ہیں،یہ انسانی تہذیب کے لیے ایک تنبیہ ہے۔ جنگلات میں آگ لگنے کے خطرات بڑھ رہے ہیں اور دنیا بھر کے ماہرین ماحولیات مسلسل خبردار کر رہے ہیں تو یہ صرف موسم کی تبدیلی کی خبر نہیں بلکہ انسانی طرز زندگی پر ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اب بھی ان انتباہات کو معمول کی خبروں کی طرح نظرانداز کرتے رہیں گے یا اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا شروع کریں گے؟
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ کہیں دور قطب شمالی کے پگھلتے ہوئے گلیشیئرز یا بحرالکاہل کے ڈوبتے ہوئے جزیروں کا مسئلہ ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ اب ہمارے گھروں، ہماری گلیوں اور ہمارے شہروں تک آ پہنچا ہے۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں حالانکہ دنیا میں کاربن کے اخراج میں ہمارا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔
کراچی اس کی ایک زندہ مثال ہے۔ اس شہر میں گرمی صرف ایک موسم نہیں ،ایک آزمائش ہے۔ مئی اور جون کی دوپہر میں جب سورج آگ برساتا ہے تو سڑکوں پر چلنے والا عام آدمی کسی پناہ گاہ کی تلاش میں ہوتا ہے، لیکن اسے سایہ کہاں ملے؟ ہمارے شہر کی بڑی شاہراہوں پر درخت کم ہوتے جا رہے ہیں۔
نئی سڑکیں بنتی ہیں، فلائی اوور بنتے ہیں، کنکریٹ کے جنگل پھیلتے جاتے ہیں مگر درختوں کی تعداد گھٹتی جاتی ہے۔ میں اکثر سوچتی ہوں کہ ایک مزدور جو صبح سے شام تک دھوپ میں محنت کرتا ہے، ایک خاتون جو بس اسٹاپ پر کھڑی ہے،ایک طالب علم جو پیدل گھر جا رہا ہے، ایک ٹریفک پولیس اہلکار جو گھنٹوں دھوپ میں کھڑا رہتا ہے ان کے لیے شہر نے کیا انتظام کیا ہے؟ ان کے لیے سایہ کہاں ہے؟ کون سا درخت لگایا گیا ہے۔
یورپ میں جب درجہ حرارت بڑھتا ہے تو حکومتیں عوام کو خبردار کرتی ہیں۔ شہریوں کے لیے حفاظتی ہدایات جاری کی جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں گرمی کا سامنا زیادہ تر فرد کی اپنی ذمے داری سمجھ لیا جاتا ہے، گویا سورج سے بچنا بھی ایک ذاتی مسئلہ ہے اجتماعی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ درخت صرف خوبصورت منظر کے لیے نہیں ہوتے۔ وہ زندگی ہوتے ہیں ،وہ فضا کو صاف کرتے ہیں ،زمین کو ٹھنڈا رکھتے ہیں ،پرندوں کو گھر دیتے ہیں اور انسانوں کو سانس لینے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ ایک درخت کاٹنا صرف ایک درخت کاٹنا نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے حصے کی ٹھنڈک چھین لینا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ صرف درجہ حرارت کا مسئلہ بھی نہیں، یہ انصاف کا مسئلہ ہے دنیا کے امیر ممالک نے دو صدیوں تک صنعت کاری کے نام پر فضا میں کاربن بھرا اور آج اس کی قیمت وہ ممالک ادا کر رہے ہیں جو پہلے ہی غربت بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں۔ اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ پریشان کن چیز شاید ہماری بے حسی ہے۔ ہم ہر سال گرمی کے نئے ریکارڈ بنتے دیکھتے ہیں سیلاب آتے دیکھتے ہیں خشک سالی بڑھتی دیکھتے ہیں مگر پھر بھی اسے ایک عارضی خبر سمجھ کر بھول جاتے ہیں۔
زمین کی تاریخ ہمیں ایک عجیب سبق دیتی ہے۔ سائنس دان بتاتے ہیں کہ اربوں سال پہلے جب زمین کے ماحول میں آکسیجن کی مقدار اچانک بڑھی تھی تو اس وقت موجود بے شمار جاندار اس تبدیلی کو برداشت نہ کر سکے۔ اس واقعے کو بعض اوقات عظیم آکسیجنی تباہی کہا جاتا ہے اور اسے زمین کی اولین عظیم حیاتیاتی تبدیلیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ زندگی ختم نہیں ہوئی تھی لیکن زندگی کی بہت سی اشکال ختم ہو گئی تھیں۔ کچھ نئی انواع نے جنم لیا اور ارتقا کا سفر آگے بڑھتا رہا۔یہ بات ہمیں یاد رکھنی چاہیے کہ فطرت انسان کے بغیر بھی زندہ رہ سکتی ہے لیکن انسان فطرت کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔
آج ہم خود اپنے ہاتھوں سے فضا میں کاربن بھر رہے ہیں۔ کارخانوں کا دھواں، بے ہنگم شہری پھیلاؤ، جنگلات کی کٹائی، فضائی آلودگی اور لامحدود منافع کی دوڑ ہمیں ایک ایسے راستے پر لے جا رہی ہے جہاں ایک نئی ماحولیاتی تباہی کا خطرہ موجود ہے۔ شاید زمین باقی رہے گی، سمندر باقی رہیں گے، پہاڑ باقی رہیں گے اور شاید زندگی کی کوئی نئی شکل بھی باقی رہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ اس دنیا میں انسان اسی طرح موجود رہیں جیسے آج ہیں۔ ارتقا کا عمل رکتا نہیں زندگی کسی نہ کسی صورت اپنا راستہ نکال لیتی ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم اپنی جگہ برقرار رکھ سکیں گے؟
یہ بات کسی خوف پھیلانے کے لیے نہیں کہی جا رہی بلکہ اس لیے کہ ہم حقیقت کو سمجھ سکیں۔ جو زہر ہم ماحول میں بو رہے ہیں وہ آخرکار ہماری اپنی سانسوں میں شامل ہو رہا ہے۔ جو درخت ہم کاٹ رہے ہیں ان کی کمی ہمارے اپنے جسموں پر گرمی کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے۔ جو دریا ہم آلودہ کر رہے ہیں وہی آلودگی ہماری اپنی زندگیوں میں واپس آ رہی ہے۔اس لیے شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم ترقی کے معنی پر دوبارہ غور کریں۔ کیا ترقی صرف اونچی عمارتوں کا نام ہے؟ کیا ترقی صرف نئی شاہراہوں اور بڑے منصوبوں کا نام ہے؟ یا پھر ترقی کا مطلب یہ بھی ہے کہ ایک شہر میں چلنے والا انسان سایہ پا سکے صاف ہوا میں سانس لے سکے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک قابلِ رہائش دنیا چھوڑ سکے؟
دنیا کی یہ بدلتی حالت شاید ہمیں ایک آخری موقع دے رہی ہے۔ ایک موقع کہ ہم اپنے رویوں پر نظرثانی کریں اپنی ترجیحات بدلیں اور زمین کے ساتھ اپنے رشتے کو دوبارہ سمجھیں، کیونکہ فطرت انتقام نہیں لیتی وہ صرف اپنا توازن بحال کرتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب وہ توازن بحال ہوگا تو کیا ہم اس کا حصہ ہوں گے یا تاریخ کی کسی معدوم نسل کی طرح صرف ایک یاد بن کر رہ جائیں گے۔