اقتدارہمارا مقصد نہیں ،عوامی مسائل حل کرنا چاہتے ہیں
اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سجاول(نمائندہ جسارت) سندھ کے انتہائی پسماندہ ضلع کے عوام کے لیے اپنی لازوال اور بے مثال خدمات سے عوام کے دلوں میں محبت کے چراغ روشن کرنے والے پیپلز پارٹی ضلع سجاول کے سرگرم رہنما عبداللطیف میمن کو مختلف برادریوں اور معزز شہریوں کی جانب سے ان کی خدمتوں کے لیے تقاریب کا انعقاد کرکے ان کو پٹکے، لنگیاں اور اجرکوں پہنائی گئی ۔اس موقع پر انہوں بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ میں نے خود غربت میں بہت وقت گزارا ہے اس لیے میں بلا تفریق علاقے کے عوام کی خدمت کر رہا ہوں، غریبوں، مسکینوں، ناداروں اور مسائل میں گھرے لوگوں کے ساتھ دلی ہمدردی رکھتا ہوں۔ اقتدار ہمارا مقصد نہیں ہے۔ اصل طاقت وہ ہے جو عوام کے چھوٹے بڑے مسائل حل کرنے کی کوشش کرے اور ان کے دکھ اور خوشی میں برابر کے شریک ہو اور ان کے دکھ اور تکلیف کو کم کرے۔ انہوں نے کہا کہ میں ہفتے میں کم از کم تین دن اپنے دفتر میں بیٹھتا ہوں، عوام کے مسائل سنتا ہوں اور انہیں فوری حل کرنے کی کوشش کرتا ہوں، بلا تفریق عوامی خدمات سرانجام دیتا ہوں۔ اس کے بدلے مجھے بہت پیار اور عزت مل رہی ہے اور عوام سے جو فیڈ بیک مل رہا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ انہوں نے یہ کہتے ہوئے اختتام کیا کہ میں زندگی کی آخری سانس تک پسماندہ ترین علاقوں کے عوام کی دن رات خدمت کرتا رہوں گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: عوام کے
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔