ٹرینوں میں نئے اے سی پلانٹس کی تنصیب شروع
اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT
سعید احمد:ٹرینوں میں اے سی بند ہونے کی مسلسل شکایات کے بعد ریلوے حکام نے ایکشن لے لیا، بوگیوں میں نئے اے سی پلانٹس لگانے کا کام شروع کر دیا گیا ہے تاکہ مسافروں کو بہتر سفری سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
ذرائع کے مطابق 73کروڑ کی لاگت سے102بوگیوں میں نئےاےسی پلانٹ لگائےجارہےہیں،21بوگیوں میں نئےاےسی پلانٹ لگانےکےبعدان کوسسٹم میں شامل کردیاگیا،8بوگیوں میں اےسی پلانٹ لگانےکاکام جاری ہے۔
سپریم کورٹ کے حکم پر مخصوص نشستیں بحال، نوٹیفکیشن جاری
آئندہ چندروزمیں مزید8بوگیوں میں اےسی پلانٹ لگانےکےبعدان کوسسٹم میں شامل کیاجائیگا،پراجیکٹ 31جولائی تک مکمل کرنےکی ہدایت جاری کر دی،اےسی پلانٹ جرمن کوچوں میں لگائےجارہےہیں،وزیرریلوےحنیف عباسی پراجیکٹ کی خودنگرانی کررہےہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔