نانگا پربت سے جرمن کوہ پیما نے پیراگلائیڈنگ کر کے تاریخی کارنامہ سر انجام دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT
جرمنی کے معروف کوہ پیما ڈیوڈ گوٹلر نے نانگا پربت کی چوٹی سر کرنے کے بعد پیراگلائیڈنگ کے ذریعے نیچے اتر کر تاریخ رقم کر دی۔
ان کے ساتھ فرانسیسی کوہ پیماؤں کی جوڑی ٹفین ڈوپیئر (Tiphaine Duperier) اور بورس لینگن شٹائن (Boris Langenstein) نے بھی تاریخ رقم کی، جنہوں نے اس خطرناک پہاڑ کی رُوپال فیس سے پہلی بار اسکیئنگ کے ذریعے واپسی کی۔
ایڈونچر ٹورز پاکستان کے سی ای او نیک نام کریم کے مطابق، تینوں غیر ملکی کوہ پیماؤں نے 21 سے 24 جون کے درمیان شیل روٹ کے ذریعے نانگا پربت (8,126 میٹر) سر کیا۔
47 سالہ ڈیوڈ گوٹلر کا ارادہ چوٹی سے پیراگلائیڈنگ کر کے واپس نیچے اترنے کا تھا، لیکن سخت ہواؤں کی وجہ سے انہیں 7,700 میٹر کی بلندی سے اُڑان بھرنی پڑی۔ وہ صرف 30 منٹ میں بیس کیمپ تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔
دوسری جانب، ان کے فرانسیسی ساتھی 7,625 میٹر کی بلندی پر رات گزار کر اسکیئنگ اور پیدل سفر کے ذریعے تین دن میں واپس بیس کیمپ پہنچے۔ ان کی یہ کاوش نانگا پربت کی رُوپال فیس سے پہلی کامیاب اسکی ڈسینٹ تصور کی جا رہی ہے۔
جرمن انسٹرکٹر مائیکل بیک نے فیس بک پر گوٹلر کو مبارکباد دی اور کہا: ’’نانگا پربت کو ’الپائن اسٹائل‘ میں سر کرنا حیرت انگیز تھا، لیکن اسی دن 7,700 میٹر سے اڑ کر نیچے اترنا میری خوشی کو کئی گنا بڑھا گیا ہے۔‘‘
نانگا پربت کو دنیا کا ’قاتل پہاڑ‘ (Killer Mountain) بھی کہا جاتا ہے، جس پر چڑھائی انتہائی مشکل اور خطرناک سمجھی جاتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نانگا پربت کے ذریعے
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ