ایران سے افغانوں کی ملک بدری،اسرائیل کےلیے جاسوسی کا الزام
اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
تہران:افغان باشندوں پر اسرائیل کے جاسوس ہونے کا الزام،ایران سے ملک بدری میں تیزی آگئی۔اس سال کم از کم 1.2 ملین افغانی باشندوں کو ایران اور پاکستان سے واپس جانے پر مجبور کیا گیا۔ اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے نے خبردار کیا ہے کہ بڑے پیمانے پر وطن واپسی افغانستان کی نازک صورتحال کو غیر مستحکم کر سکتی ہے۔پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر نے کہا کہ 1.
2 ملین واپس آنے والے افغانوں میں سے آدھے سے زیادہ ایران سے آئے ہیں۔
ایرانی حکومت نے 20 مارچ کی ڈیڈ لائن دی تھی جس کے مطابق افغانی رضاکارانہ طور پر نکل جائیں یا بے دخلی کا سامنا کریں۔ایجنسی کے مطابق، ایران نے اس سال 366,000 سے زائد افغانوں کو ملک بدر کیا ہے۔اسرائیل کے ساتھ ایران کی 12 روزہ جنگ بھی افغانیوں کی روانگی کا باعث بنا ہے۔ سب سے زیادہ واپسی 26 جون کو ہوئی جب ایک دن میں 36,100 افغانوں نے سرحد عبور کی۔
افغان دارالحکومت کابل میں یو این ایچ سی آر کے نمائندے عرفات جمال نے کہا کہ، افغان خاندانوں کو ایک بار پھر نقل مکانی کی مشکلات کا سامنا ہے۔ وہ تھکے ہوئے، بھوکے، خوف زدہ ہیں۔12 روزہ ایران اسرائیل جنگ کے بعد افغان باشندوں کو اسرائیلی جاسوس قرار دے کر ایران سے ملک بدر کیا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ بعض اوقات ایران سے ایک ہی وقت میں پانچ بسیں آتی ہیں، جن میں مرد، خواتین اور بچے ہوتے ہیں جو بھوک اور سفر کی تھکاوٹ اور م ±لک بدری کے صدمے کی وجہ سے بے حال ہوتے ہیں۔
ایرانیوں نے حالیہ مہینوں میں افغانوں کی بڑھتی ہوئی موجودگی کے بارے میں شکایت کی ہے، کچھ نے ان پر جنگ شروع ہونے کے بعد سے اسرائیلی جاسوس کا لیبل لگایا ہے۔ایران کے اٹارنی جنرل، محمد موحیدی آزاد نے کہا کہ غیر قانونی طور پر ملک میں موجود غیر ملکیوں کو جلد از جلد ملک چھوڑ دینا چاہیے یا قانونی چارہ جوئی کا سامنا کرنا چاہیے۔
ایران کی سرکاری IRNA نیوز ایجنسی نے آزاد کے حوالے سے بتایا کہ، غیر ملکی شہری، خاص طور پر افغانستان سے تعلق رکھنے والے بھائی اور بہنیں جن کی ہم برسوں سے میزبانی کر رہے ہیں، ہماری مدد کریں (تاکہ) غیر قانونی افراد کم سے کم عرصے میں ایران سے نکل جائیں۔
ایرانی حکام نے اپریل میں کہا تھا کہ 60 لاکھ سے زائد افغان باشندوں میں سے 25 لاکھ غیر قانونی طور پر ایران میں موجود ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایران سے
پڑھیں:
فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے ایک آنے والی فلم ’کالا ہرن‘ کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے فلم سازوں کو نوٹس جاری کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: میں اکیلا نہیں ہوں، سلمان خان کی انسٹا پوسٹ نے ماں سمیت لاکھوں مداحوں کو بے چین کردیا
فلم کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس کی کہانی سنہ 1998 کے مشہور کالا ہرن شکار کیس سے متاثر ہے جس میں سلمان خان کا نام سامنے آیا تھا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سلمان خان کی قانونی ٹیم نے کاسٹنگ ڈائریکٹر اکشے پانڈے کو نوٹس بھجوایا ہے جس میں فلم کو اداکار کی شخصیت اور ساکھ کے خلاف قرار دیتے ہوئے اس کی تشہیری مہم اور ریلیز فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
قانونی نوٹس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ کالا ہرن کیس اب بھی راجستھان ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے جبکہ فلم مبینہ طور پر سلمان خان کی شخصیت اور شہرت کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے۔
سلمان خان کے وکلا کا کہنا ہے کہ ان کے مؤکل نے نہ تو اپنی شخصیت، نام یا اس واقعے سے متعلق کسی مواد کے استعمال کی اجازت دی ہے اور نہ ہی اس پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
مزید پڑھیے: سلمان خان کی نقل کیوں کی؟ رجب بٹ نے اپنی اس حرکت کی وجہ بتادی
دوسری جانب فلم کے پروڈیوسر امیت جانی نے قانونی نوٹس کو سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے سلمان خان کے مؤقف کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ قانونی نوٹس کا مقصد صرف فلم سے وابستہ افراد کو دباؤ میں لانا ہے۔
امیت جانی نے فیس بک پر لکھا کہ سلمان خان کالا ہرن سے وابستہ لوگوں کو قانونی نوٹس کے ذریعے دھمکا رہے ہیں لیکن یہ صرف خوف پیدا کرنے کی کوشش ہے تاکہ لوگ دباؤ میں آ جائیں۔
فلم کے حوالے سے بحث اس وقت مزید تیز ہوگئی جب اس کا پہلا پوسٹر جاری کیا گیا۔ پوسٹر میں ایک شخص کو بندوق تھامے دکھایا گیا ہے جس نے فیروزی رنگ کا وہی بریسلٹ پہن رکھا ہے جو سلمان خان کی پہچان سمجھا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: سلمان خان کے 42 سال پرانے قریبی دوست کا انتقال، اداکار کا سوشل میڈیا پر جذباتی پیغام
فلم سازوں کے مطابق ’کالا ہرن: دی بیٹل فار لیگسی‘ حقیقی قانونی تنازعات اور ایکشن پر مبنی کہانی پیش کرے گی جبکہ اس کا ٹیزر 20 جون کو جاری کیے جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔
کالا ہرن کیس کیا تھا؟سنہ1998 میں فلم ’ہم ساتھ ساتھ ہیں‘ کی شوٹنگ کے دوران سلمان خان پر راجستھان کے ضلع جودھ پور کے قریب کنکانی گاؤں میں 2 کالے ہرن شکار کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
اس مقدمے میں سلمان خان کے ساتھ اداکار سیف علی خان، سونالی بیندرے، نیلم اور تبو کے نام بھی شامل تھے تاہم بعد میں دیگر تمام فنکاروں کو بری کر دیا گیا تھا۔
اپریل 2018 میں جودھ پور کی ایک عدالت نے سلمان خان کو مجرم قرار دیتے ہوئے 5 سال قید کی سزا سنائی تھی تاہم بعد ازاں انہیں ضمانت مل گئی۔
یہ بھی پڑھیے: رنویر سنگھ کے بعدسلمان خان کے بہنوئی کو بھی دھمکی آمیز پیغام موصول
سنہ 2022 میں راجستھان ہائیکورٹ نے اس کیس سے متعلق تمام مقدمات اپنے دائرہ اختیار میں لے لیے تھے جہاں اب بھی کارروائی جاری ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بالی ووڈ سلمان خان سلمان خان اور کالا ہرن سلمان خان اور مقدمہ فلم کالا ہرن کالا ہرن